لاہور۔28 جنوری(اے پی پی ) وفاقی و زیر خزانہ،ریونیو اینڈ اکنامک افئیرز اسد عمر نے کہا ہے کہ کاٹیج انڈسٹریل اسٹیٹ کا آئیڈیا بہت اچھا ہے، میں اس کو تجویز کرتا ہوں، چھوٹے یونٹس ہی روزگار پیدا کرنے میں مدد کرتے ہیں، کاٹیج انڈسٹریل اسٹیٹ کے منصوبے میں صوبائی حکومت کو بھی شامل کیا جائے، سپیشل اکنامک زونز(ایس ای زی) بہت ضروری ہیں جو پہلے سے موجود ہیں انہیں فعال …
وفاقی و زیر خزانہ اسد عمر کی ایف پی سی سی آئی کے ریجنل آفس میں تاجروں سے گفتگو

مزید خبریں
لاہور۔28 جنوری(اے پی پی ) وفاقی و زیر خزانہ،ریونیو اینڈ اکنامک افئیرز اسد عمر نے کہا ہے کہ کاٹیج انڈسٹریل اسٹیٹ کا آئیڈیا بہت اچھا ہے، میں اس کو تجویز کرتا ہوں، چھوٹے یونٹس ہی روزگار پیدا کرنے میں مدد کرتے ہیں، کاٹیج انڈسٹریل اسٹیٹ کے منصوبے میں صوبائی حکومت کو بھی شامل کیا جائے، سپیشل اکنامک زونز(ایس ای زی) بہت ضروری ہیں جو پہلے سے موجود ہیں انہیں فعال بناناہوگا، سپیشل اکنامک زونز حکومتی ایجنڈے میں موجود ہے، ایس ای زی کو ترجیح دی جائے گی، ٹیکس آڈٹ کا نظام بہتر ہونا بہت ضروری ہے،آسان ٹیکس ریٹرن اورسادہ ٹیکس کا نظام متعارف کرانا ترجیح ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری(ایف پی سی سی آئی) کے ریجنل آفس میں ایف پی سی سی آئی کے صدر انجینئردارو خان اچکزئی اور ریجنل چیئرمین عبدالرؤف مختار کی زیر صدرات پنجاب کی کاروباری برادری سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔تقریب میںوزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر اورایف بی آر کے چیئرمین محمد جہانز یب خان نے بھی شرکت کی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ فنانس بل میں خواتین کے لیے بھی مراعات موجود ہیں، یہ بل کاروباری خواتین سمیت 51فیصد آبادی کو سہولت دینے کیلئے ہی دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات کئے جا رہے ہیں جس سے خواتین کو کاروبار چلانے اور روزگار کے لیے بہتر سہولیات میسر ہوں گی۔بجلی کے نظام کو ٹھیک کرنے کے لئے پرانے نظام کوڈی ریگولیٹ کر کے نئے قوانین وضع کرنے ہونگے۔آسان ٹیکس ریٹرن اور ٹیکس کا نظام متعارف کرانا اولین ترجیح ہے، اس سلسلے میں ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کا نیا نظام وضع کروایا جائے گا۔ٹاپ ٹیکس پیئر کی حوصلہ افزائی کیلئے ایف بی آر ایک ایونٹ منعقد کروائے گا۔کاٹن کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ کاٹن پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے،اس حوالے سے تمام سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر ایک حکمت عملی بنائی جائے گئی۔گندم کو ویلیو ایڈڈ آئٹمز بنا کرایکسپورٹ کیا جائے۔ اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر انجینئردارو خان اچکزئی نے کہاکہ صنعتوں پر جی ڈی آئی سی کو مکمل ختم کیا جائے اور سابقہ مقدمات جو عدالتوں میں ہیں ان کو ایف پی سی سی آئی کی مشاورت سے حل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جو آر ایل این جی صنعتوں کو دی جارہی ہے، اس کی لاگت کو بین الاقوامی لاگت کے مطابق کیا جائے، نئی گرین فیلڈ صنعتوں کو جو ٹیکس میں سہولت دی جارہی ہے وہ موجودہ صنعتوں کی بی ایم آر کے لیئے بھی مہیا ہونی چاہیے اورصرف سیل ٹیکس کے ریفنڈز جاری کیے جائیں گے ۔ایف پی سی سی آئی کا مطالبہ ہے کہ تمام ریفنڈز بشمول انکم ٹیکس اور ڈی ایل ٹی ایل وغیرہ کو بھی شامل کیا جائے ۔مہنگے موبائل فون کی درآمدات پر ڈیوٹی میں اضافہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان میںان موبائل کی ایسمبلنگ کے لئے پارٹس درآمدکرنے کی اجازت دی جائے ۔ اسی طرح ویلیو ایڈڈ گڈز کی ایکسپورٹ بڑھانے کے لئے حکومت نے جو اقدامات صنعتوں کے لئے اٹھائے ہیں ان میں موٹر سائیکل کی صنعت کو بھی شامل کیا جائے تاکہ ان کی برآمدات میں اضافہ کے ساتھ روزگار میں بھی میسر ہو۔ انہوں نے کہا کہ صنعتوں کو گیس کنکشنز فراہم کئے جائیں ۔ اس موقع پر نائب صدر و ر یجنل چیئرمین عبد الرؤف مختار نے کہاکہ پنجاب انڈسٹریل اسٹیٹز میں کاٹیج انڈسٹریل اسٹیٹ بنائی اور ڈبل ٹیکسیشن کے نظام کا خاتمہ کیا جائے۔نائب صدر ایف پی سی سی آئی شیر ی ارشد خان نے کہاکہ منی بجٹ میں خواتین کو خصوصی مراعات دی جائیں،تقریب میںوزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر اورایف بی آر کے چیئرمین محمد جہانز یب خان نے بھی خصوصی شرکت کی۔سارک چیمبر کے سینئر نائب صدر افتخار علی ملک،ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر حاجی افتخار احمد ،سا بق صدر میاں ادریس،سابق سینئر نائب صدر عامر عطاء باجوہ،چوہدری محمد شفیق،میاں رحمان عزیز ،پنجاب کے تمام ٹریڈ چیمبرز کے صدور اور ٹریڈ ایسوسی ایشنز کے چیئرمینز نے بھی اپنے اپنے سیکٹر کے حوالے سے مسائل اور ان کے حل کیلئے تجاویز پیش کیں۔








