وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ ون کانسٹیٹیوشن ایونیو منصوبے میں سنگین بے
ون کانسٹیٹیوشن ایونیو منصوبے میں سنگین بے ضابطگیوں اور فراڈ کی نشاندہی، سرمایہ کاروں کو اصل رقم بمعہ کائبور شرح سود واپس کرنے کا فیصلہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔4نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ ون کانسٹیٹیوشن ایونیو منصوبے میں سنگین بے ضابطگیوں، مبینہ فراڈ اور قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کی نشاندہی ہوئی ہے، حکومت نے متاثرہ سرمایہ کاروں کے تحفظ، ان کی اصل سرمایہ کاری کی واپسی اور ذمہ داران کے خلاف قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی جانب سے قائم کردہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی رپورٹ کابینہ کے سامنے پیش کی گئی جس میں نیب، ایف آئی اے، ایف بی آر، ایس ای سی پی، آئی بی اور آئی ایس آئی کے نمائندے شامل تھے۔ کابینہ نے رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد اس کی منظوری دے دی۔
انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی نے منصوبے کے بڈنگ اور نیلامی کے عمل میں بے ضابطگیوں، قواعد میں مبینہ نرمی، مخصوص کمپنی کو فائدہ پہنچانے، بینک گارنٹی کی شرط ختم کرنے اور سی ڈی اے کے افسران کی کوتاہیوں اور مبینہ ملی بھگت کی نشاندہی کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق جس کمپنی کو لیز دی گئی، وہ اس کی اہل نہیں تھی جبکہ قانونی کارروائی اور منصوبے کی منظوری کے مراحل بھی مشکوک قرار دیئے گئے۔احسن اقبال نے کہا کہ منصوبے کو فائیو اسٹار ہوٹل کے طور پر منظور کرایا گیا، تاہم بعد ازاں اسے اپارٹمنٹس میں تبدیل کرکے فروخت کیا گیا جس سے نہ صرف قومی خزانے کو نقصان پہنچا بلکہ متعدد پاکستانی شہریوں کو بھی ان کی جمع پونجی سے محروم ہونے کا سامنا کرنا پڑا۔انہوں نے بتایا کہ جے آئی ٹی نے عبدالحفیظ شیخ کو مبینہ طور پر منصوبے کا مرکزی کردار قرار دیتے ہوئے سی ڈی اے کے سابق چیئرمین کامران لاشاری، ڈاکٹر فیصل اعوان، اظہر علی چوہدری، ریٹائرڈ بریگیڈیئر نصراللہ اور مرحوم رائے نواز کھرل سمیت دیگر متعلقہ افراد کی نشاندہی کی ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ جے آئی ٹی نے سفارش کی ہے کہ متعلقہ کمپنی کو مستقبل کے تمام سرکاری منصوبوں کے لیے بلیک لسٹ کیا جائے اور ذمہ داران کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ منصوبے پر نظرثانی کرکے اسے اس کے اصل منظور شدہ مقصد کے مطابق بحال کیا جائے اور شفاف طریقے سے دوبارہ نیلامی کی جائے جبکہ سکیورٹی اور دیگر متعلقہ اداروں سے ضروری کلیئرنس بھی حاصل کی جائے۔انہوں نے کہا کہ متاثرہ سرمایہ کاروں کے تحفظ کے لیے حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ان کی اصل سرمایہ کاری واپس کی جائے گی اور اس پر کائبور کے مطابق سود بھی ادا کیا جائے گا۔ حکومت کا فرض ہے کہ ان شہریوں کے مالی مفادات کا تحفظ کرے جنہوں نے منصوبے میں سرمایہ کاری کی اور مبینہ بے ضابطگیوں کے باعث نقصان اٹھایا۔احسن اقبال نے کہا کہ منصوبے کا نام تبدیل کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے کیونکہ ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کا نام مبینہ طور پر مارکیٹنگ کے مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا، حالانکہ کانسٹیٹیوشن ایونیو پر واقع پہلی عمارت وزارت خارجہ کی ہے اور وزارت نے اس پتے پر اپنا دعویٰ بھی کیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مستقبل میں ایسی بے ضابطگیوں کی روک تھام کے لیے منصوبے کا ریکارڈ ڈیجیٹائز کیا جائے گا، متعلقہ محکموں میں افسران کی باقاعدہ روٹیشن یقینی بنائی جائے گی اور اسٹیٹ پلاننگ، انفورسمنٹ اور بلڈنگ کنٹرول کے شعبوں میں طویل عرصے سے ایک ہی عہدے پر تعینات افسران کی تبدیلی کا نظام متعارف کرایا جائے گا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ مستقبل کے منصوبوں میں تھرڈ پارٹی پری آڈٹ اور شفاف کنٹریکٹ مینجمنٹ کے نظام کو مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ فائر سیفٹی اور دیگر حفاظتی پروٹوکولز پر عملدرآمد بھی یقینی بنایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ نیب کو ہدایت کی گئی ہے کہ جے آئی ٹی رپورٹ کی روشنی میں تمام نامزد افراد، مبینہ سہولت کاروں اور پشت پناہی کرنے والوں کے خلاف جامع تحقیقات کرکے نیب قوانین کے تحت کارروائی کی جائے۔
احسن اقبال نے کہا کہ حکومت بدعنوانی اور عوامی سرمایہ کاری کے تحفظ کے معاملے میں زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور ایسے اقدامات کا مقصد مستقبل میں سرکاری منصوبوں میں شفافیت، میرٹ اور عوامی اعتماد کو یقینی بنانا ہے۔وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے مختلف ادوار میں ون کانسٹیٹیوشن فراڈ کیس کی تحقیقات جاری رہیں اور اس معاملے پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا گیا، جبکہ حکومت متاثرین کو ان کی اصل رقم کے ساتھ کائبور (KIBOR) کے مطابق مالی تحفظ فراہم کرے گی اور منصوبے کی شفاف انداز میں دوبارہ بولی کرائی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ اس معاملے کی کارروائی مسلم لیگ (ن) کے دور میں شروع ہوئی، چوہدری نثار علی خان کے دور میں تحقیقات کا آغاز ہوا اور ان کے اپنے دور میں بھی ایف آئی اے نے تحقیقات جاری رکھیں۔ اس دوران بڑے پیمانے پر سفارشات اور دبائو کے باوجود کسی کو خاطر میں نہیں لایا گیا اور تحقیقات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا گیا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ آج کابینہ میں اس معاملے پر تفصیلی بحث ہوئی اور اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ چونکہ یہ ایک بہت بڑا فراڈ ہے، اس لیے اس کا جامع طور پر جائزہ لیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ نیب اپنی تحقیقات میں ان تمام افراد کے کردار کا تعین کرے گا جنہوں نے اس غیر قانونی عمل میں سہولت کاری کی، خواہ ان کا تعلق سی ڈی اے سے ہو یا کسی دوسرے ادارے سے، اور اگر کسی نے باہر سے انہیں تحفظ یا سرپرستی فراہم کی تو اس کی بھی تحقیقات کی جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ حکومت نہیں چاہتی کہ اس فراڈ کا شکار ہونے والے شہریوں کو مالی نقصان اٹھانا پڑے، اس لیے انہیں نہ صرف ان کی اصل سرمایہ کاری واپس کی جائے گی بلکہ کائبور کے مطابق اس کی مالی قدر بھی ادا کی جائے گی تاکہ متاثرین کو نقصان سے بچایا جا سکے۔احسن اقبال نے مزید کہا کہ پورے منصوبے کو دوبارہ آگے بڑھایا جائے گا اور اس کی شفاف طریقے سے دوبارہ بولی کرائی جائے گی تاکہ قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے منصوبے کو مکمل کیا جا سکے۔







