کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی(ای سی سی) نے دفاعی خدمات کے جاری منصوبوں کے لیے 54 ارب روپے اور اہم آبی منصوبوں کے لیے 275 ارب روپے سمیت مختلف وزارتوں اور ڈویژنز کیلئے تکنیکی ضمنی گرانٹس کی منظوری دیدی ہے۔ای سی سی کا اجلاس بدھ کو یہاں وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیر صدارت منعقدہوا جس میں مختلف وزارتوں اور ڈویژنز کی جانب سے پیش کردہ …
vای سی سی اجلاس، دفاعی خدمات کے جاری منصوبوں کے لیے 54 ارب روپے، اہم آبی منصوبوں کے لیے 275 ارب روپے سمیت مختلف وزارتوں اور ڈویژنز کیلئے تکنیکی ضمنی گرانٹس کی منظوری

مزید خبریں
اسلام آباد۔4نومبر (اے پی پی):کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی(ای سی سی) نے دفاعی خدمات کے جاری منصوبوں کے لیے 54 ارب روپے اور اہم آبی منصوبوں کے لیے 275 ارب روپے سمیت مختلف وزارتوں اور ڈویژنز کیلئے تکنیکی ضمنی گرانٹس کی منظوری دیدی ہے۔ای سی سی کا اجلاس بدھ کو یہاں وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیر صدارت منعقدہوا جس میں مختلف وزارتوں اور ڈویژنز کی جانب سے پیش کردہ 11 نکاتی ایجنڈے کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں وزارت دفاع کی جانب سے پیش کردہ تین علیحدہ سمریوں کی منظوری دی گئی جن میں دفاعی خدمات کے مختلف جاری منصوبوں کے لیے 54 ارب روپے، لائنیج ایل 1000 طیارے کی شمولیت کے لیے ایک ارب 9 کروڑ 40 لاکھ روپے جبکہ استقلال پراجیکٹ کے لیے 29 ارب 13 کروڑ 90 لاکھ روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹس شامل ہیں ، ان منظوریوں کا مقصد ضروری آپریشنل تقاضے پورے کرنے اور قومی سلامتی کی ترجیحات کو تقویت دینا ہے۔ وزارت داخلہ و انسداد منشیات کی سمری پرای سی سی نے فرنٹیئر کور بلوچستان (شمالی) کی ہیلی کاپٹر کی دیکھ بھال اور مرمت کی ضروریات پوری کرنے کے لیے 37 لاکھ 10 ہزار روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی بھی منظوری دی۔ کمیٹی نے وزیراعظم یوتھ بزنس اینڈ ایگریکلچر لون سکیم کے تحت قرضوں کے مختلف درجات اور بینک شرح سود میں مجوزہ نظرثانی کی منظوری بھی دی، نظرثانی شدہ ڈھانچے کا مقصد نوجوانوں کو آسان شرائط پر مالی وسائل تک رسائی فراہم کرنے، کاروباری سرگرمیوں کے فروغ اور روزگار کے مواقع بڑھانے میں مدد دینا ہے۔
اجلاس میں کفایت شعاری اور ایندھن کے تحفظ کے اقدامات کے نتیجے میں حاصل ہونے والی 15 ارب 62 کروڑ 50 لاکھ روپے کی بچت وزیراعظم کفایت شعاری فنڈ 2026 میں منتقل کرنے کی منظوری بھی دی گئی، اس اقدام کا مقصد مالیاتی نظم و ضبط اور سرکاری وسائل کے محتاط استعمال کو مزید مستحکم بنانا ہے۔ ای سی سی نے وزارت آبی وسائل کے تحت اہم آبی منصوبوں کے لیے 275 ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ منظور کی جس سے آبی بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور جاری منصوبوں پر عمل درآمد میں مدد ملے گی۔ اجلاس میں وزارت تجارت کی سمری پر کیمرے سے لیس سمارٹ چشموں کی درآمد پر پابندیوں کی بھی منظوری دی گئی۔ کمیٹی نے صوبائی حکومتوں اور اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری انتظامیہ کو بھی سفارش کی کہ وہ کام کی جگہوں پر ایسے آلات کے استعمال کو منظم کرنے کے لیے مناسب قواعد و ضوابط وضع کریں۔ کمیٹی نے سوئی نادرن نیٹ ورک پر قائم یوریا کھاد تیار کرنے والے دو کارخانوں فاطمہ فرٹیلائزر اور ایگری ٹیک کو 31 دسمبر 2026ء تک گیس کی فراہمی جاری رکھنے کی منظوری دی تاہم یہ فراہمی مطلوبہ توانائی کی دستیابی سے مشروط ہوگی۔ اجلاس میں مقررہ شرائط پوری کرنے سے مشروط 89 پٹرولیم حقوق کی توسیع اور تجدید کے لیے قابل اطلاق ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن قواعد میں نرمی کی بھی منظوری دی گئی۔
ای سی سی نے مالی سال 2026-27 کے دوران گیس پیدا کرنے والے ذخائر کے پانچ کلومیٹر کے دائرے میں واقع دیہات کو گیس کی فراہمی کے لیے ایک ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ بھی منظور کی ، اس سے گیس کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور پیداواری علاقوں کے قریبی آبادیوں کو قدرتی گیس تک رسائی فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔ اجلاس میں وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری، وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک، وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی، چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام، وفاقی سیکرٹریز اور متعلقہ وزارتوں، ڈویژنز اور محکموں کے سینئر حکام نے شرکت کی۔







