ٹرائلز کی منظوری کے بعد گلگت بلتستان فائیو جی کے قریب پہنچ گیا

فائیو جی ٹرائلز کے آغاز کے لیے پالیسی ہدایات کی منظوری کے بعد گلگت بلتستان اگلی نسل کی ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی کے قریب پہنچ گیا ہے جس کی ٹیسٹنگ جلد شروع ہونے کی امید ہے۔یہ فیصلہ فروری میں شروع ہونے والے ملک گیر فائیو جی سپیکٹرم نیلامی کے عمل کے بعد مہینوں کی مشاورت کے بعد کیا گیا ہے جس میں ابتدائی طور پر گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر …

اسلام آباد۔26اپریل (اے پی پی):فائیو جی ٹرائلز کے آغاز کے لیے پالیسی ہدایات کی منظوری کے بعد گلگت بلتستان اگلی نسل کی ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی کے قریب پہنچ گیا ہے جس کی ٹیسٹنگ جلد شروع ہونے کی امید ہے۔یہ فیصلہ فروری میں شروع ہونے والے ملک گیر فائیو جی سپیکٹرم نیلامی کے عمل کے بعد مہینوں کی مشاورت کے بعد کیا گیا ہے جس میں ابتدائی طور پر گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کو شامل نہیں کیا گیا تھا۔

گلگت بلتستان کے نگراں وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی غلام عباس نے یہ معاملہ وفاقی حکام کے ساتھ اٹھایا اور اس حوالہ سے سرگرم رہے۔ انہوں نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے چیئرمین حفیظ الرحمان اور وفاقی وزیر آئی ٹی شزہ فاطمہ خواجہ سے ملاقاتیں کیں اور علاقہ میں فائیو جی سروسز کو بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔اس کے بعد گلگت بلتستان کونسل سیکرٹریٹ نے ٹرائلز کے لیے پالیسی ہدایات کی منظوری کے لیے سمری تیار کی۔نگراں وزیر نے کہا کہ اس تجویز کی توثیق وزارت قانون و انصاف اور وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن نے وزیراعظم کو بھیجنے سے پہلے کی تھی جو گلگت بلتستان کونسل کے چیئرمین بھی ہیں۔ بعد میں سمری کو کونسل ممبران کو بھیجا گیا۔

انہوں نے کہا کہ کونسل نے اس تجویز کی منظوری دی ، بعد ازاں گلگت بلتستان کے گورنر نے توثیق کی جس سے فائیو جی ٹرائلز کے آغاز کے لیے اہم طریقہ کار کی رکاوٹوں کو دور کیا گیا۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹیلی کام ریگولیٹر نے پہلے ہی جانچ کے لیے رہنما خطوط تیار کر لیے ہیں اور رسمی منظوری کے بعد ٹیلی کام آپریٹرز کو اب خطے میں ٹرائلز شروع کرنے کی اجازت ہوگی۔

پی ٹی اے کے چیئرمین نے عندیہ دیا ہے کہ ٹرائلز کی کامیاب تکمیل کے بعد گلگت بلتستان میں باضابطہ فائیو جی سپیکٹرم کی نیلامی ہوگی۔اس اقدام سے ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی کو بہتر بنانے، سیاحت کو سپورٹ کرنے اور پہاڑی علاقے میں کاروباری سرگرمیوں کو سہل بنانے کی امید ہے۔