ٹیکس نیٹ میں توسیع، شفافیت اور ٹیکس دہندگان کو سہولیات کی فراہمی ایف بی آر اصلاحات کی اولین ترجیحات ہیں، ایف بی آر میں کرپٹ عناصر کی کوئی جگہ نہیں، وزیراعظم شہباز شریف کی ایف بی آر کے سینئر افسران سے گفتگو

ٹیکس نیٹ میں توسیع، شفافیت اور ٹیکس دہندگان کو سہولیات کی فراہمی ایف بی آر اصلاحات کی اولین ترجیحات ہیں، ایف بی آر میں کرپٹ عناصر کی کوئی جگہ نہیں، وزیراعظم شہباز شریف کی ایف بی آر کے سینئر افسران سے گفتگو

اسلام آباد۔2جولائی (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف نےمالی سال 26-2025 کے لیے تاریخی ریونیو ہدف کے حصول کو سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ٹیکس نیٹ میں توسیع، شفافیت اور ٹیکس دہندگان کو سہولیات کی فراہمی ایف بی آر اصلاحات کی اولین ترجیحات ہیں، گزشتہ اڑھائی سال سے جاری اصلاحات،ڈیجیٹائزیشن اور ٹیم ورک کی بدولت ایف بی آر ریکارڈ ٹیکس اکھٹا کرنے میں کامیاب ہوئی،مالی سال 2025-26 میں تقریباً 600 ارب روپے کے ٹیکس ریفنڈز کی بروقت ادائیگی سے کاروباری برادری کو سہولت اور برآمدات کے فروغ میں مدد ملی،ریونیو اکٹھا کرنے کے ساتھ ساتھ ٹیکس دہندگان، کاروباری و صنعتی برادری کو سہولیات کی فراہمی ترجیح ہونی چاہیئے،ایف بی آر میں کرپٹ عناصر کی کوئی جگہ نہیں۔جمعرات کو وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق انہوں نے ان خیالات کا اظہار فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے سینئر افسران سے گفتگو کرتے ہوئے کیا جنہوں نے وزیراعظم سے یہاں ملاقات کی ۔وزیراعظم نے پچھلے مالی سال میں 12.957 کھرب روپے کے محصولات کا ہدف عبور کرنے پر ایف بی آر کے افسران کی ستائش کی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ مالی سال 26-2025 کے لیے تاریخی ریونیو ہدف حاصل کرنا ایک سنگ میل ہے،سب کو فرداً فرداً اور ایف بی آر کے تمام عملے کو اجتماعی طور پر مبارکباد پیش کرتا ہوں ،مالی سال 26-2025 میں تقریباً 600 ارب روپے کے ٹیکس ریفنڈز کی بروقت ادائیگی سے کاروباری برادری کو سہولت اور برآمدات کے فروغ میں مدد ملی ۔وزیراعظم نے کہا کہ ایف بی آر کی فیلڈ فارمیشنز اور افسران اسی جذبے سے کام کرتے ہوئے رواں مالی سال 15 کھرب روپے سے زائد محصولات کا ہدف حاصل کریں گی۔نمایاں کارکردگی پر وزیراعظم نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی، اٹارنی جنرل منصور اعوان، چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال ، سیکرٹری خزانہ امداد اللہ بوسال، معاشی ٹیم کے دیگر اراکین اور ایف بی آر افسران کی کارکردگی کو سراہا۔وزیراعظم نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سمگلنگ کی روک تھام اور افسران کو سکیورٹی فراہم کرنے پر خراج تحسین پیش کیا ۔

وزیراعظم نے کہا کہ جن افسران نے ملک کے دور دراز علاقوں میں اپنی جانوں پر کھیل کر ٹیکس اور کسٹم ڈیوٹی کے نفاذ میں اپنا کردار ادا کیا، ان کے کوششیں لائق تحسین ہیں،ایف بی آر میں گزشتہ ڈھائی سال سے جاری اصلاحات، ڈیجیٹائزیشن پر توجہ اور ٹیم ورک کی بدولت ایف بی آر ریکارڈ ٹیکس اکھٹا کرنے میں کامیاب ہوئی۔ وزیراعظم نے کہا کہ ایف بی آر کے امور پر مہینے میں دو بار جائزہ اجلاسوں کی صدرات میں نے خود کی کیونکہ ایف بی آر میں اصلاحات حکومت کا اولین ایجنڈا ہے،ہم نے ایف بی آر کی فیلڈ فارمیشنز میں اچھی شہرت کے حامل افسران کی تعیناتی یقینی بنائی۔وزیراعظم نے کہا کہ ایف بی آر میں کرپٹ عناصر کی کوئی جگہ نہیں،ریونیو اکٹھا کرنے کے ساتھ ساتھ ٹیکس دہندگان، کاروباری و صنعتی برادری کو سہولیات کی فراہمی ترجیح ہونی چاہیئے،ایف بی آر میں جاری اصلاحات کی رفتار مزید تیزی لائی جا رہی ہے ۔وزیراعظم نے کہا کہ ٹیکس نیٹ میں توسیع، شفافیت اور ٹیکس دہندگان کو سہولیات کی فراہمی ایف بی آر اصلاحات کی اولین ترجیحات ہیں، ایف بی آر کا نیا آپریٹنگ ماڈل ایک ڈیجیٹل اور کم سے کم انسانی مداخلت پر مبنی فیس لیس ٹیکس نظام پر مبنی ہو گا۔

وزیراعظم نے پاکستان کسٹمز سروس اور ان لینڈ ریونیو سروس کے افسران کی ترقی اور سروس کو مزید بہتر بنانے کے لئے اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کی۔افسران کے وفد نے ایف بی آر پر خصوصی توجہ مرکوز کرنے اور کارکردگی کو سراہنے پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا۔وفد کے شرکا نے وزیراعظم کو ملک کے مختلف علاقوں کی فیلڈ فارمیشنز کی کارکردگی سے آگاہ کیا۔وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ کراچی لارج ٹیکس پیئر یونٹ نے جون 2026ء کے دوران 528 ارب روپے کا ریونیو اکٹھا کیا، لاہور لارج ٹیکس پیئر یونٹ نے جون 2026ء کے دوران 261 ارب روپے اکٹھے کئے،گزشتہ ایک سال کے دوران ائیرپورٹ پر کسٹم ڈیوٹی کے حجم میں 21 فیصد اضافہ ہوا۔ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی، اٹارنی جنرل منصور اعوان، چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران بھی موجود تھے۔

 

مزید خبریں