ٹیکنالوجی کے استعمال سے عدالتی و استغاثہ امور میں کارکردگی، شفافیت اور انصاف کی فراہمی بہتر ہو سکتی ہے،چیف جسٹس یحییٰ آفریدی
ٹیکنالوجی کے استعمال سے عدالتی و استغاثہ امور میں کارکردگی، شفافیت اور انصاف کی فراہمی بہتر ہو سکتی ہے،چیف جسٹس یحییٰ آفریدی

مزید خبریں
اسلام آباد۔4ستمبر (اے پی پی):چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے پنجاب پراسیکیوشن کے ٹیکنالوجی پر مبنی ادارہ جاتی اصلاحات کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ عدالتی اور استغاثہ کے عمل میں ٹیکنالوجی کا زیادہ سے زیادہ استعمال انصاف کے کی انتظام اور فراہمی کو بہتر بنانے میں نمایاں کردار ادا کر سکتا ہے۔سپریم کورٹ کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق چیف جسٹس سے پراسیکیوٹر جنرل پنجاب عرفان صادق تارڑ کی سربراہی میں وفد نے سپریم کورٹ اسلام آباد میں ملاقات کی۔
وفد میں ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل پنجاب احمد رضا گیلانی اور ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل پنجاب عرفان ضیا شامل تھے۔ملاقات کے دوران پراسیکیوشن سروس کی کارکردگی، ادارہ جاتی امور اور کارکردگی و مقدمات کے انتظام کو بہتر بنانے کے لیے ٹیکنالوجی کے استعمال سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔چیف جسٹس نے پراسیکیوٹر جنرل پنجاب کے دفتر کی جانب سے ٹیکنالوجی کے انضمام بالخصوص مقدمات کی تفویض اور ریکارڈ کے انتظام میں ہونے والی پیش رفت کو سراہا۔
انہوں نے کہا کہ ان معاملات کو منظم اور موثر بنانے کے لیے ٹیکنالوجی کا موثر استعمال کارکردگی، شفافیت اور مقدمات کے منظم انتظام کو فروغ دیتا ہے۔چیف جسٹس نے پنجاب پراسیکیوشن کے اقدامات کو قابل تحسین قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کی ٹیکنالوجی پر مبنی ادارہ جاتی اصلاحات دیگر صوبوں کے لیے بھی قابل تقلید ہیں۔انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ عدالتی اور استغاثہ کے عمل میں ٹیکنالوجی کے استعمال کو مزید فروغ دینے سے انصاف کی انتظامیہ اور فراہمی میں نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے۔
پراسیکیوٹر جنرل پنجاب نے چیف جسٹس کو اپنے دفتر کی جانب سے کئے گئے مختلف اقدامات سے آگاہ کیا اور پراسیکیوشن سروسز کو مزید بہتر بنانے اور عدالتوں کے ساتھ رابطہ کاری مضبوط کرنے کے لیے ٹیکنالوجی سے استفادہ جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔







