اقوام متحدہ میں پاکستان کا اسرائیلی قبضہ ختم کرنے اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے ناقابلِ تنسیخ مدت مقرر کرنے کا مطالبہ

اقوام متحدہ میں پاکستان کا اسرائیلی قبضہ ختم کرنے اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے ناقابلِ تنسیخ مدت مقرر کرنے کا مطالبہ

اقوام متحدہ ۔16اکتوبر (اے پی پی):پاکستان نے غزہ کی بگڑتی ہوئی صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیلی قبضے کے مستقل خاتمے کا مطالبہ کیا ہے اور زور دیا ہے کہ عالمی کوششوں کو ایک ایسی حتمی اور ناقابلِ تنسیخ مدت کے تعین پر مرکوز کیا جائے جس کے تحت 1967 سے قبل کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست قائم کی جائے، جس کا دارالحکومت مشرقی بیت المقدس ہو۔اقوام متحدہ میں پاکستان کے قائم مقام مستقل مندوب، سفیر عثمان جدون نے مشرق وسطیٰ کی صورت حال پر غور کرنے کے لیے منعقدہ سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب تک قبضہ جاری رہے گا اور فلسطینی عوام کو حق خودارادیت حاصل نہیں ہوگا، مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کا قیام ممکن نہیں ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطحی ہفتے کے دوران مسئلہ فلسطین پر خصوصی توجہ دی گئی۔ مختلف اجلاسوں اور بیانات میں اس بات پر واضح اتفاق رائے سامنے آیا کہ دو ریاستی حل بین الاقوامی سطح پر متفقہ لائحہ عمل اور منصفانہ و پائیدار امن کی ناگزیر بنیاد ہے۔انہوں نے زور دیا کہ دو ریاستی حل سے متعلق بین الاقوامی عزم کے ساتھ فلسطینی ریاست کی علاقائی سالمیت اور قابلِ عمل حیثیت برقرار رکھنے کے لیے ٹھوس اقدامات بھی ضروری ہیں۔عثمان جدون نے کہا کہ قرارداد 2803، غزہ تنازع کے خاتمے کے لیے جامع منصوبہ اور نیویارک اعلامیہ اس مقصد کے حصول کے لیے ایک دوسرے کو تقویت دینے والے لائحہ عمل فراہم کرتے ہیں تاہم ان کے بقول اسرائیل کی جانب سے زمینی حقائق کو ناقابلِ واپسی بنانے کی دانستہ کوششیں اس اتفاق رائے کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔ مقبوضہ مغربی کنارے، بشمول مشرقی بیت المقدس میں یہودی بستیوں کی توسیع، خصوصاً ای ون منصوبہ، فلسطینی علاقوں کے باہمی زمینی رابطے کو منقطع کرنے کا خطرہ پیدا کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ آبادکاروں کا تشدد، مکانات کی مسماری، زمینوں پر قبضے اور جبری بے دخلی کے اقدامات الحاق کو مستحکم اور امن کی بنیادوں کو کمزور کر رہے ہیں۔پاکستانی مندوب نے مطالبہ کیا کہ قرارداد 2334 کے مطابق یہودی بستیوں کی تمام سرگرمیاں بند کی جائیں، آبادکاروں کے تشدد کا خاتمہ کیا جائے اور ذمہ داروں کا احتساب یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف میں اشتعال انگیز اور غیر قانونی دراندازی کی مذمت کرتے ہوئے مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت برقرار رکھنے کا مطالبہ بھی کیا۔غزہ کی صورت حال پر بات کرتے ہوئے عثمان جدون نے کہا کہ جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیاں، فلسطینی آبادی کا بے دریغ قتل اور انسانی امداد کی فراہمی پر پابندیاں بحران کو مزید سنگین بنا رہی ہیں، جبکہ موسم سرما کی آمد سے مشکلات میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔انہوں نے کہا کہ جنگ بندی پر مکمل عمل درآمد، انسانی امداد کی بلا رکاوٹ اور بڑے پیمانے پر فراہمی، نیز بحالی اور تعمیر نو کا کام بلا تاخیر آگے بڑھانا ضروری ہے۔

انہوں نے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے فلسطینی پناہ گزین (یو این آر ڈبلیو اے) کے ناگزیر کردار کی حمایت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان جبری بے دخلی اور غزہ و مغربی کنارے، بشمول مشرقی بیت المقدس کو تقسیم کرنے کی کسی بھی کوشش کو مسترد کرتا ہے، کیونکہ یہ تمام علاقے ایک ہی علاقائی وحدت کا حصہ ہیں۔پاکستانی مندوب نے کہا کہ فلسطینی اتھارٹی کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے قابل بنانے کے لیے روکی گئی فلسطینی آمدنی بھی جاری کی جانی چاہیے۔عثمان جدون نے سعودی عرب اور اس کے شہری و اقتصادی بنیادی ڈھانچے پر حوثی حملوں کی بھی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ حملے فوری طور پر بند ہونے چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی غیر متزلزل حمایت کرتا ہے اور بین الاقوامی قانون کے تحت بیرونی حملوں کے خلاف اپنے دفاع کے اس کے حق کی توثیق کرتا ہے۔سفیر عثمان جدون نے کہا کہ پاکستان یمن میں جامع اور پائیدار امن کے لیے مذاکرات کی بحالی سے متعلق اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔

اجلاس کے آغاز میں مشرق وسطیٰ کے امن عمل کے لیے اقوام متحدہ کے قائم مقام خصوصی رابطہ کار رامز الاکبروف نے کہا کہ گزشتہ ہفتے 7 اکتوبر 2023 کے حملوں اور اس کے بعد غزہ میں تباہ کن جنگ کے آغاز کو تین سال مکمل ہوگئے۔انہوں نے کہا کہ اس عرصے میں بے شمار انسانی جانیں ضائع ہوئیں ،گھر تباہ ہوئے اور آبادیاں بکھر گئیں۔رامز الاکبروف نے کہا کہ اس المناک سنگ میل کے موقع پر فلسطینی اور اسرائیلی عوام محض عارضی اقدامات سے بڑھ کر کچھ حاصل کرنے کے مستحق ہیں،انہیں امن کی جانب ایک قابلِ اعتماد راستے اور اس تنازع کے مستقل خاتمے کی ضرورت ہے، تاہم وہ یہ مقصد تنہا حاصل نہیں کر سکتے۔

انہوں نے کہا کہ غزہ میں جنگ بندی کے اعلان کو ایک سال گزرنے کے باوجود صورت حال انتہائی نازک ہے۔ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی فوجی کارروائیاں جاری رہنے کے باعث تقریباً 1,500 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں 320 سے زائد بچے اور 140 خواتین شامل ہیں۔رامز الاکبروف نے کہا کہ اتوار کو غزہ کے دورے کے دوران انہوں نے مشاہدہ کیا کہ یلو لائن کے قریب رہنے والے فلسطینیوں کے لیے جنگ بندی محض نام کی حد تک موجود ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ موسم سرما کی آمد کے ساتھ وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔

اندازے کے مطابق تقریباً 9 لاکھ 50 ہزار افراد ایسے علاقوں میں رہ رہے ہیں جہاں سیلاب کا خطرہ درمیانے یا بلند درجے کا ہے، اس کے علاوہ 4 ہزار سے زائد ایسی عمارتوں کے منہدم ہونے کا خطرہ ہے جن میں لوگوں نے پناہ لے رکھی ہے۔انہوں نے ایک شخص کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ وہ اپنے خاندان کا گھر مسمار ہوتے دیکھ کر رو رہا تھا۔ یہ وہ گھر تھا جسے تعمیر کرنے کے لیے اس نے اپنی پوری زندگی محنت کی تھی۔اقوام متحدہ کے عہدیدار نے سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 (2025) پر عمل درآمد میں تعطل دور کرنے کے لیے جاری کوششوں کا خیرمقدم کیا۔انہوں نے کہا کہ غزہ تنازع کے خاتمے کے لیے جامع منصوبے پر مکمل عمل درآمد ضروری ہے۔

اس میں مسلح گروہوں کو غیر مسلح کرنا، غزہ سے اسرائیلی افواج کا انخلا اور بین الاقوامی استحکامی فورس کی تعیناتی شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ غزہ کے انتظام کے لیے قومی کمیٹی کو بھی اس قابل بنایا جانا چاہیے کہ وہ عبوری انتظامی ذمہ داریاں سنبھال سکے۔رامز الاکبروف نے کہا کہ ہمارے سامنے انتخاب واضح ہے، غزہ میں جنگ بندی کو حقیقی بحالی اور پائیدار سیاسی تصفیے کی بنیاد بننا چاہیے۔ مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے غیر قانونی قبضے کا خاتمہ ضروری ہے، تاکہ دو ریاستوں کے قیام کی راہ ہموار ہو سکے جو بیت المقدس کو اپنا دارالحکومت بناتے ہوئے ایک دوسرے کے ساتھ امن سے رہ سکیں۔