ٹیکنالوجی کے ذریعہ ادویات کی فراہمی کو محفوظ اور شفاف بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے،سید مصطفیٰ کمال

اسلام آباد۔2اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیرِ برائے قومی صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ ٹیکنالوجی کے ذریعہ ادویات کی فراہمی کے عمل کو محفوظ اور شفاف بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے، یہ اقدام ڈیجیٹل ہیلتھ گورننس کے فروغ کی سمت میں ایک اہم قدم ثابت ہوگا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جعلی ادویات کے خاتمہ کے لیے 2D بار کوڈ کے نظام کے عملی نفاذ پر ایک …

اسلام آباد۔2اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیرِ برائے قومی صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ ٹیکنالوجی کے ذریعہ ادویات کی فراہمی کے عمل کو محفوظ اور شفاف بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے، یہ اقدام ڈیجیٹل ہیلتھ گورننس کے فروغ کی سمت میں ایک اہم قدم ثابت ہوگا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جعلی ادویات کے خاتمہ کے لیے 2D بار کوڈ کے نظام کے عملی نفاذ پر ایک اہم جائزہ اجلاس میں کیا۔انہوں نے کہا کہ فارما سیکٹر میں ڈیجیٹل اصلاحات کے نفاذ کو کامیاب بنانے کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو اپنی بھرپور حمایت فراہم کرنی ہوگی۔

وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ جعلی ادویات سے نہ صرف فارما انڈسٹری کی ساکھ متاثر ہوتی ہے بلکہ عوام کی صحت بھی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ ہم جعلی ادویات کے خاتمہ کے لیے ہرممکن اقدامات کر رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹیکنالوجی کے ذریعے ادویات کی فراہمی کے عمل کو محفوظ اور شفاف بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

یہ اقدام ڈیجیٹل ہیلتھ گورننس کے فروغ کی سمت میں ایک اہم قدم ثابت ہوگا۔وزیرِ صحت نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اس نظام کی مدد سے مستقبل میں مریضوں کو محفوظ، معیاری اور قابلِ اعتبار ادویات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔پاکستان میں صحت کے شعبے میں اصلاحات کی ضرورت ہے، خاص طور پر جعلی ادویات کے خاتمے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال انتہائی ضروری ہے۔

اس موقع پر فارما انڈسٹری کے نمائندگان نے کہا کہ ہمیں جدید ٹیکنالوجی کو اپنانا ہوگا تاکہ عوام کا اعتماد بحال رکھا جا سکے اور جعلی ادویات کے خلاف جنگ میں کامیابی حاصل کی جا سکے۔اجلاس میں ملک کی دس بڑی فارماسیوٹیکل کمپنیوں کے سربراہان، نمائندگان اور چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) ڈریپ نے شرکت کی۔

مزید خبریں