اسلام آباد۔26اپریل (اے پی پی):پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ)نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی آئندہ مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس سے قبل سفارش کی ہے کہ پالیسی ریٹ کو موجودہ 10.5 فیصد پر برقرار رکھا جائے۔پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ موجودہ معاشی صورتحال میں شرح سود میں کمی یا اضافہ دونوں ہی قبل از وقت اقدامات ہوں …
پائیڈکی پالیسی ریٹ کو موجودہ 10.5 فیصد پر برقرار رکھنے کی سفارش
اسلام آباد۔26اپریل (اے پی پی):پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ)نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی آئندہ مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس سے قبل سفارش کی ہے کہ پالیسی ریٹ کو موجودہ 10.5 فیصد پر برقرار رکھا جائے۔پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ موجودہ معاشی صورتحال میں شرح سود میں کمی یا اضافہ دونوں ہی قبل از وقت اقدامات ہوں گےکیونکہ معیشت ابھی مکمل استحکام کی طرف نہیں آئی۔ادارے کے مطابق مارچ 2026 میں مہنگائی کی شرح ( سی پی آئی ) بڑھ کر 7.3 فیصد سالانہ ریکارڈ کی گئی جو فروری کے مقابلے میں اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
اسی طرح دیہی علاقوں میں بنیادی مہنگائی 8.4 فیصد تک پہنچ گئی جس کی بڑی وجوہات میں خوراک کی قیمتوں میں اضافہ، ٹرانسپورٹ لاگت اور سپلائی چین میں رکاوٹیں شامل ہیں۔پائیڈ نے خبردار کیا کہ موجودہ حالات میں شرح سود میں کمی مہنگائی کی توقعات کو مزید بگاڑ سکتی ہے اور مرکزی بینک کی افراطِ زر پر قابو پانے کی پالیسی پر اعتماد کمزور ہو سکتا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ معیشت بحالی کے مرحلے میں داخل ہو چکی ہےجہاں مالی سال 26۔2025 کی دوسری سہ ماہی میں جی ڈی پی کی شرح نمو 3.89 فیصد رہی جبکہ صنعتی پیداوار میں 7.4 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔ اس صورتحال میں فوری ریلیف کے طور پر شرح سود میں کمی کا جواز موجود نہیں۔
ادارے نے عالمی سطح پربڑھتے ہوئے جغرافیائی تناؤ، خصوصاًمشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور تیل کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے کو اہم خطرہ قرار دیا ہے۔ادارے کے مطابق تیل کی قیمتوں میں اضافہ پاکستان کے درآمدی بل، مہنگائی اور روپے کی قدر پر دباؤ بڑھا سکتا ہے۔پائیڈ نے مزید کہا کہ اگرچہ حالیہ مہینوں میں کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس اور ترسیلات زر میں اضافہ مثبت پیش رفت ہے، تاہم زرمبادلہ ذخائر میں حالیہ کمی معیشت کی بیرونی جھٹکوں کے خلاف حساسیت کو ظاہر کرتی ہے۔ادارے نے سفارش کی کہ اسٹیٹ بینک 10.5 فیصدپالیسی ریٹ کو برقرار رکھتے ہوئے محتاط مالیاتی پالیسی اپنائے، اور کسی بھی تبدیلی کا فیصلہ صرف اسی صورت میں کیا جائے جب عالمی تیل مارکیٹ، شرح تبادلہ اور مہنگائی میں واضح اور مستقل دباؤ سامنے آئے۔









