اسلام آباد ۔ 21 جولائی (اے پی پی) پارلیمانی سیکرٹری برائے قانون و انصاف بیرسٹر ملیکہ بخاری نے کہا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کا عدلیہ کے فیصلوں کے بارے دوہرا معیار ہے، عوام ان کے دوہرے معیار اور بدعنوانی سے بخوبی واقف ہے، اگر عدالت کا فیصلہ اس کے خلاف ثابت ہوتو عدالت کے فیصلے پر تنقید کرنا پاکستان مسلم لیگ (ن) کی تاریخ ہے۔ منگل کو نجی ٹی وی …
پارلیمانی سیکرٹری برائے قانون و انصاف بیرسٹر ملیکہ بخاری کی نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 21 جولائی (اے پی پی) پارلیمانی سیکرٹری برائے قانون و انصاف بیرسٹر ملیکہ بخاری نے کہا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کا عدلیہ کے فیصلوں کے بارے دوہرا معیار ہے، عوام ان کے دوہرے معیار اور بدعنوانی سے بخوبی واقف ہے، اگر عدالت کا فیصلہ اس کے خلاف ثابت ہوتو عدالت کے فیصلے پر تنقید کرنا پاکستان مسلم لیگ (ن) کی تاریخ ہے۔ منگل کو نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ بدعنوانی کے خلاف جدوجہد ایک نیک مقصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب عدالتوں کے فیصلے مسلم لیگ (ن) کے حق میں آئے تو اس نے سراہا لیکن جب اس کے خلاف فیصلے آئے تو پوری جماعت کی طرف سے عدلیہ کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ ملیکہ بخاری نے کہا کہ یہ بہت بدقسمتی کی بات ہے کہ وہ سیاسی جماعتیں جنہوں نے کئی دہائیوں سے ملک پر حکمرانی کی لیکن انہوں نے ملک کے عدالتی نظام کو بہتر بنانے کے لئے کچھ نہیں کیا، اپوزیشن سپریم کورٹ کو متنازعہ بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ پارلیمانی سیکرٹری برائے قانون و انصاف نے کہا کہ موجودہ حکومت ملک کو حقیقی اسلامی فلاحی ریاست بنانا چاہتی ہے اور یہ تحریک انصاف کے منشور کا حصہ ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) بلانا اور حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرنا اپوزیشن کا آئینی حق ہے اور حکومت اس حوالے سے فکر مند نہیں ہے۔ ملیکہ بخاری نے کہا کہ اپوزیشن احتساب سے بچنے کی کوشش کر رہی ہے لہٰذا وہ اس مقصد کے لئے مختلف حربے استعمال کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی دونوں جماعتیں قومی اداروں کو تباہ کرنے اور ملک کی کمزور معیشت کی ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف اپنی پانچ سالہ کارکردگی کی وجہ سے 2023ءمیں عام انتخابات میں ایک بار پھر کامیابی حاصل کرے گی۔








