وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ پارلیمان کی ڈیجیٹلائزیشن جدید، شفاف اور ٹیکنالوجی پر مبنی طرز حکمرانی کے لیے حکومت کے عزم کی عکاسی کرتی ہے،ایوان میں کارکردگی کا ہونا صرف انتظامی سہولت ہی نہیں بلکہ جمہوری جوابدہی بھی ہے۔
پارلیمان کی ڈیجیٹلائزیشن جدید، شفاف اور ٹیکنالوجی پر مبنی طرز حکمرانی کے لیے حکومت کے عزم کی عکاسی کرتی ہے،شزہ فاطمہ خواجہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔8ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ پارلیمان کی ڈیجیٹلائزیشن جدید، شفاف اور ٹیکنالوجی پر مبنی طرز حکمرانی کے لیے حکومت کے عزم کی عکاسی کرتی ہے،ایوان میں کارکردگی کا ہونا صرف انتظامی سہولت ہی نہیں بلکہ جمہوری جوابدہی بھی ہے۔منگل کو وزارت آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن سے جاری بیان کے مطابق سینیٹ آف پاکستان نے اپنے قانون سازی کے امور کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے ایک مخصوص موبائل ایپلی کیشن کا اجراء کر دیا ہے جو ملک میں ٹیکنالوجی سے لیس اور پیپر لیس (کاغذ سے پاک) پارلیمان کے قیام کی کوششوں میں ایک اہم سنگ میل ہے۔ پارلیمنٹ ہائوس میں منعقدہ تقریب رونمائی کے مہمان خصوصی قائم مقام صدر سید یوسف رضا گیلانی تھے۔
تقریب میں وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے بھی شرکت کی۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے اس پہل کو پاکستان کے ’’ڈیجیٹل نیشن‘‘ ایجنڈے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ پارلیمان کی ڈیجیٹلائزیشن جدید، شفاف اور ٹیکنالوجی پر مبنی طرز حکمرانی کے لیے حکومت کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ اقدام عملًا ڈیجیٹل گورننس کی نمائندگی کرتا ہے جو ڈیزائن میں خود مختار، صلاحیت میں مقامی اور ساخت کے اعتبار سے جوابدہ ہے اور ایوان میں کارکردگی کا ہونا صرف انتظامی سہولت ہی نہیں بلکہ جمہوری جوابدہی بھی ہے۔
وفاقی وزیر نے اس اقدام کی قیادت کرنے پر سینیٹ سیکرٹریٹ کی قیادت کو سراہا اور تمام ریاستی اداروں میں ایسے منصوبوں کو قائم رکھنے کے لیے تکنیکی مہارت، بنیادی ڈھانچے اور سکیورٹی فریم ورک کی فراہمی میں وزارت کے مسلسل تعاون کا اعادہ کیا۔یہ موبائل ایپلی کیشن سینیٹرز کو اپنے سمارٹ فونز اور ہینڈ ہیلڈ ڈیوائسز پر براہ راست قانون سازی کی دستاویزات، ایجنڈا (آرڈر آف دی ڈے)، بلز، قراردادیں، کمیٹی رپورٹس اور دیگر پارلیمانی امور تک رسائی فراہم کرے گی جس سے کاغذی کارروائی کی ضرورت ختم ہو جائے گی اور قانون سازی کا عمل زیادہ موثر بنے گا۔
ایپلی کیشن سینیٹ کے ایجنڈے، بلز، اجلاس کے شیڈول، قانون سازی کی دستاویزات، تحاریک اور کمیٹی کی کارروائیوں کے ڈیجیٹل ذخیرے کے ساتھ ساتھ جاری پارلیمانی امور کے بارے میں بروقت اطلاعات (نوٹیفکیشنز) فراہم کرے گی جس سے کاغذی عمل پر انحصار میں نمایاں کمی آئے گی۔سینیٹ کی یہ موبائل ایپلی کیشن ای گورننس کی جانب پاکستان کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے جس میں قومی اسمبلی اور متعدد صوبائی اسمبلیوں میں پہلے سے جاری ڈیجیٹلائزیشن کی اقدامات شامل ہیں۔ عمومی اداروں میں ٹیکنالوجی پر مبنی اصلاحات کی ہم آہنگی کے لیے حکومت کی مرکزی وزارت کے طور پر وزارت آئی ٹی اس ایپلی کیشن کے کامیاب نفاذ اور مسلسل بہتری کو یقینی بنانے میں پارلیمان کی معاونت کے عزم کا اعادہ کرتی ہے۔








