اسلام آباد ۔ 14 فروری (اے پی پی) پارلیمنٹ پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی نے کہا ہے کہ ہر سال 15مئی کے بعد جاری ہونے والے فنڈز میں قوانین کی خلاف ورزی ہو رہی ہے،ترقیاتی بجٹ کے 25 فیصد فنڈز ضائع کردیئے جاتے ہیں، اصل گڑ بڑ سرکاری اداروں کو ملنے والی گرانٹس میں ہے،وزارت خزانہ 15 مئی کے بعد ترقیاتی فنڈز جاری نہ کرے۔پارلیمنٹ پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کا اجلاس بدھ کو …
پارلیمنٹ پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کا اجلاس

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 14 فروری (اے پی پی) پارلیمنٹ پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی نے کہا ہے کہ ہر سال 15مئی کے بعد جاری ہونے والے فنڈز میں قوانین کی خلاف ورزی ہو رہی ہے،ترقیاتی بجٹ کے 25 فیصد فنڈز ضائع کردیئے جاتے ہیں، اصل گڑ بڑ سرکاری اداروں کو ملنے والی گرانٹس میں ہے،وزارت خزانہ 15 مئی کے بعد ترقیاتی فنڈز جاری نہ کرے۔پارلیمنٹ پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کا اجلاس بدھ کو پارلیمنٹ ہاﺅس میں پی اے سی کے چیئرمین سید خورشید احمدشاہ کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں کمیٹی کے ارکان سینیٹر اعظم سواتی ، سینیٹر شیریں رحمن، ڈاکٹرعذرا فضل، راجہ جاوید اخلاص، سید نوید قمر، سردار عاشق حسین گوپانگ، شاہدہ اختر علی سمیت دیگر ارکان اور متعلقہ سرکاری اداروں کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں وزارت ہاﺅسنگ و تعمیرات کی 2016-17ءکی آڈٹ رپورٹ کاجائزہ لیا گیا۔ آڈٹ حکام نے پی اے سی کو بتایاکہ سرکاری خزانے سے پرائیویٹ پرچیوں کے ذریعے ٹھیکے داروں کو رقوم کی ادائیگی کی جاتی ہے جس کا مقصد سرکاری طریقہ کار کو ناکام بنانا ہے۔ فنڈز لیپس ہونے سے بچانے کے لئے 69 کروڑ روپے غیر قانونی طورپر اکاﺅنٹ میں رکھے گئے۔ سیکرٹری ہاﺅسنگ نے پی اے سی کو بتایاکہ یہ طریقہ کار طویل عرصہ سے جاری ہے۔ پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی نے وزارت خزانہ کو 15 مئی کے بعد ترقیاتی فنڈز جاری نہ کرنے کی ہدایت کی۔








