فیصل آباد ۔ 06 نومبر (اے پی پی):فیصل آبا د چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹریز کے صدر ریحان نسیم بھراڑہ نے کہا ہے کہ حکومتی مثبت اور متوازن پالیسیوں کے نتیجے میں پالیسی ریٹ میں بیک وقت اڑھائی فیصد کی کمی قابل تحسین ہے جس نے ثابت کر دیا ہے کہ حکومت کی معاشی سمت درست ہے۔ اے پی پی سے بات چیت کے دوران پالیسی ریٹ میں کمی کا خیر …
پالیسی ریٹ میں اڑھائی فیصد کمی قابل تحسین، حکومت کی معاشی سمت درست ہے،صدرفیصل آبا دچیمبر

مزید خبریں
فیصل آباد ۔ 06 نومبر (اے پی پی):فیصل آبا د چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹریز کے صدر ریحان نسیم بھراڑہ نے کہا ہے کہ حکومتی مثبت اور متوازن پالیسیوں کے نتیجے میں پالیسی ریٹ میں بیک وقت اڑھائی فیصد کی کمی قابل تحسین ہے جس نے ثابت کر دیا ہے کہ حکومت کی معاشی سمت درست ہے۔
اے پی پی سے بات چیت کے دوران پالیسی ریٹ میں کمی کا خیر مقدم کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران لئے گئے مشکل فیصلوں کے نتیجے میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ، افراط زر اور مہنگائی میں کمی کے ساتھ ساتھ ترسیلات زر اور برآمدات میں اضافے نے واضح کر دیا ہے کہ معیشت تنزلی کے چکر سے نکل کر بحالی کی سمت گامزن ہے۔ انہوں نے اس توقع کا اظہار کیا کہ اس حکمت عملی کے نتیجے میں آنے والے مہینوں میں موجودہ مائیکرو اکنامک انڈی کیٹرز میں مزید بہتری آئے گی اور حکومت لوگوں کو اورریلیف دے سکے گی۔
انہوں نے اس توقع کا بھی اظہار کیا کہ معاشی بہتری کے نتیجے میں مارک اپ ریٹ میں کمی کا موجودہ سلسلہ جاری رہے گا اوراس کے نتیجے میں آئندہ سال تک یہ سنگل ڈیجٹ میں آ جائے گا،اس طرح سرمایہ بینکوں سے نکل کے کاروبار میں لگانے کی راہ ہموار ہو گی اور اس سے معاشی سرگرمیاں بڑھیں گی، روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور مہنگائی میں مزید کمی آئے گی۔
انہوں نے 2024کو معاشی بحالی کا سال قرار دیا اور کہا کہ2025میں ترقی کی شرح میں غیر معمولی اضافہ ہوگا اور اس کے ثمرات سے پورا ملک فائدہ اٹھائے گا۔ انہوں نے سٹاک مارکیٹ میں تیزی کو پاکستان کی معاشی پالیسیوں پر بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے اعتماد کا نتیجہ قرار دیا اور کہا کہ اگر موجودہ صورتحال جاری رہی تو شرح نمو میں آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور ایشین ڈویلپمنٹ بینک کی توقعات سے کہیں زیادہ اضافہ ہوگا۔
انہوں نے بزنس کمیونٹی پر زور دیا کہ وہ تیزی سے بدلتے ہوئے حالات سے فائدہ اٹھانے کےلئے اپنی حکمت عملی وضع کر ے تاکہ 2025کو حقیقی معنوں میں ترقی اور خوشحالی کا سال بنایا جا سکے۔








