پانی صرف ماحولیاتی نہیں،قومی مسئلہ ہے،واٹرسکیورٹی کیلئے قومی اتحاد،ٹیکنالوجی اور مربوط پلاننگ کی ضرورت ہے،احسن اقبال
پانی صرف ماحولیاتی نہیں،قومی مسئلہ ہے،واٹرسکیورٹی کیلئے قومی اتحاد،ٹیکنالوجی اور مربوط پلاننگ کی ضرورت ہے،احسن اقبال

مزید خبریں
اسلام آباد۔29اپریل (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان میں پانی کے مسئلے کو روایتی، صوبائی یا ادارہ جاتی تقسیم میں دیکھنے کے بجائے ایک قومی سلامتی کے چیلنج کے طور پر لینا ہوگا۔بدھ کوواٹر سکیورٹی ٹاسک فورس کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اکیسویں صدی میں قومی سلامتی صرف دفاعی صلاحیت یا سرحدوں کے تحفظ تک محدود نہیں رہی، بلکہ اس کا تعلق غذائی تحفظ، توانائی، موسمیاتی لچک، آبی تحفظ اور معاشی استحکام سے بھی ہے۔ پانی نہ ہو تو زراعت، خوراک، صنعت، توانائی، شہری زندگی اور قومی ترقی سب متاثر ہوتے ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ قیامِ پاکستان کے وقت ملک میں فی کس پانی کی دستیابی پانچ ہزار مکعب میٹر سالانہ سے زائد تھی، جو آج کم ہو کر تقریباً ایک ہزار مکعب میٹر فی کس سالانہ کی خطرناک حد تک پہنچ چکی ہے۔ آبادی میں اضافے، شہری طلب، زیرِ زمین پانی کی کمی، گلیشیئرز پر دباؤ، موسمیاتی تبدیلی اور سیلاب و خشک سالی کے بڑھتے ہوئے واقعات نے پانی کے مسئلے کو قومی ایمرجنسی بنا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2022 کے تباہ کن سیلاب نے واضح کر دیا کہ پاکستان کو صرف پانی کی کمی نہیں بلکہ پانی کی بدانتظامی کا بھی سامنا ہے۔
ایک طرف پانی کی قلت ہے، دوسری طرف سیلابی پانی کو محفوظ نہ کر سکنے کی وجہ سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوتی ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ بھارت کی جانب سے پانی کو دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کوششیں پاکستان کی واٹر سکیورٹی کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال کا تقاضا ہے کہ پاکستان پانی کے معاملے کو توانائی، خوراک اور دفاعی سلامتی کی طرح قومی سطح پر دیکھے اور غیر ضروری سیاسی تنازعات، ادارہ جاتی تقسیم اور صوبائی سوچ سے بالاتر ہو کر مشترکہ حکمتِ عملی اختیار کرے۔
انہوں نے کہا کہ پانی کی عدم دستیابی کسی ایک صوبے کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری وفاقی اکائی کا مسئلہ ہے۔ سندھ کو خشک سالی، سیلاب اور سمندری پانی کے چڑھاؤ سے تحفظ چاہیے؛ پنجاب کو قومی غذائی تحفظ کے لیے قابلِ اعتماد آبپاشی درکار ہے؛ بلوچستان کو انسانی ترقی، لائیو اسٹاک، زراعت اور خشک سالی سے بچاؤ کے لیے پانی چاہیے جبکہ خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان اور کشمیر کو پن بجلی، گلیشیئرز کے خطرات اور آبی تحفظ کے حوالے سے جامع حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔وفاقی وزیر نے نئے آبی ذخائر پر قومی اتفاقِ رائے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ڈیم اور ذخائر کسی صوبے کے خلاف نہیں بلکہ قومی بقا کے اثاثے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو بڑے، درمیانے اور چھوٹے ڈیمز، ری چارج ڈیمز، ڈیلے ایکشن ڈیمز، ہل ٹورنٹس مینجمنٹ، سیلابی پانی کے ذخیرے اور شہری علاقوں میں بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کے منصوبوں پر فوری اور منظم پیش رفت کرنا ہوگی۔انہوں نے کہا کہ ذخائر کے ساتھ ساتھ پانی کے مؤثر استعمال کو بھی قومی ترجیح بنایا جائے۔ پاکستان کو قومی واٹر ایفیشنسی اور کنزرویشن مشن شروع کرنا چاہیے، جس کے تحت نہری نظام کی جدید کاری، اہم واٹر کورسز کی پختگی، لیزر لینڈ لیولنگ، ڈرپ اور اسپرنکلر اریگیشن، ڈیجیٹل آبپاشی شیڈولنگ، کلائمیٹ اسمارٹ زراعت، ویسٹ واٹر ری سائیکلنگ اور شفاف واٹر اکاؤنٹنگ کو فروغ دیا جائے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کو “ہر قطرے سے زیادہ پیداوار” اور “ہر قطرے سے زیادہ ویلیو” کے اصول پر آگے بڑھنا ہوگا۔ بہتر بیج، پانی کی کم ضرورت رکھنے والی فصلیں، زیادہ قدر پیدا کرنے والی زراعت، اور پالیسی مراعات کو قومی آبی حقائق کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ہوگا۔انہوں نے زیرِ زمین پانی کے تیزی سے کم ہوتے ذخائر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گراؤنڈ واٹر پاکستان کی خاموش لائف لائن ہے، مگر کئی علاقوں میں اسے غیر منظم انداز میں نکالا جا رہا ہے۔
انہوں نے ایک قومی گراؤنڈ واٹر گورننس فریم ورک کی ضرورت پر زور دیا، جس میں ایکویفر میپنگ، ری چارج زونز، نکاسی کی نگرانی، ہائی اسٹریس علاقوں کے لیے ریگولیشن، سولر ٹیوب ویل مینجمنٹ اور کمیونٹی بیسڈ کنزرویشن شامل ہو۔وفاقی وزیر نے جدید ٹیکنالوجی کو واٹر سکیورٹی کا لازمی جزو قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو ریئل ٹائم ٹیلی میٹری، سیٹلائٹ بیسڈ واٹر مانیٹرنگ، مصنوعی ذہانت کے ذریعے آبپاشی کی پیش گوئی، اسمارٹ میٹرنگ، ریموٹ سینسنگ، فلڈ ماڈلنگ، ڈراؤٹ ارلی وارننگ سسٹمز اور ڈیجیٹل واٹر اکاؤنٹنگ کو اپنانا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ایک قابلِ اعتماد نیشنل واٹر انفارمیشن سسٹم کی ضرورت ہے، جس میں دریاؤں کے بہاؤ، نہری پانی کی تقسیم، زیرِ زمین پانی کی سطح، ڈیموں میں ذخیرہ، آبپاشی کی طلب، بارشوں کی پیش گوئی، سیلابی خطرات، پانی کے معیار اور موسمیاتی تبدیلی کے تخمینوں کا ریئل ٹائم ڈیٹا موجود ہو۔وفاقی وزیر نے ٹاسک فورس کے لیے چھ ترجیحات تجویز کیں: آبی ذخائر پر قومی اتفاقِ رائے، قومی واٹر ایفیشنسی اور کنزرویشن مشن، گراؤنڈ واٹر گورننس فریم ورک، ٹیکنالوجی سے مزین واٹر مینجمنٹ، کلائمیٹ ریزیلینٹ واٹر سکیورٹی، اور ادارہ جاتی و مالی اصلاحات ہے۔
انہوں نے کہا کہ پی ایس ڈی پی اور صوبائی اے ڈی پیز کو واٹر سکیورٹی ترجیحات کے ساتھ منسلک کیا جائے، کلائمیٹ فنانس کو متحرک کیا جائے، نجی شعبے کی شراکت کو بروئے کار لایا جائے، اور بین الاقوامی ترقیاتی شراکت داروں کے لیے بینک ایبل منصوبے تیار کیے جائیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کے سامنے انتخاب واضح ہے: یا تو ہم پانی کو پرانے خوف، سیاسی تنازعات اور ادارہ جاتی تقسیم میں الجھا کر دیکھتے رہیں، یا اگلی نسلوں کے لیے ایک مضبوط قومی واٹر سکیورٹی آرکیٹیکچر تعمیر کریں۔
انہوں نے کہا کہ پانی محض ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ معاشی، غذائی، صحتِ عامہ، صوبائی ہم آہنگی اور قومی سلامتی کا مسئلہ ہے۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان واٹر سکیورٹی کو قومی اتفاقِ رائے، سائنسی منصوبہ بندی، صوبائی اعتماد، جدید ٹیکنالوجی اور فوری عمل درآمد کے ذریعے آگے بڑھائے گا۔انہوں نے کہا کہ اُڑان پاکستان کا خواب واٹر سکیورٹی کے بغیر حاصل نہیں کیا جا سکتا، اور واٹر سکیورٹی قومی اتحاد، جدید ٹیکنالوجی اور فیصلہ کن عمل کے بغیر ممکن نہیں۔








