فیصل آباد۔ 24 نومبر (اے پی پی):زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے ماہرین نے کہا ہے کہ پانی کی قلت کے چیلنجز کے پیش نظر سٹرس پیداوار کے لیے ہائی ایفیشنسی آبپاشی نظام اختیار کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ ایک بالغ سٹرس پودے کو سالانہ 18,000 سے 28,000 لیٹر پانی درکار ہوتا ہے جبکہ ڈِرِپ اریگیشن سسٹم میں یہ ضرورت صرف 6,000 سے 9,000 لیٹر رہ جاتی ہے۔ ان خیالات کا …
پانی کی قلت کے چیلنجز کے پیش نظر سٹرس پیداوار کیلئے ہائی ایفیشنسی آبپاشی نظام اختیار کرنے کی ضرورت ہے، ماہرین

مزید خبریں
فیصل آباد۔ 24 نومبر (اے پی پی):زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے ماہرین نے کہا ہے کہ پانی کی قلت کے چیلنجز کے پیش نظر سٹرس پیداوار کے لیے ہائی ایفیشنسی آبپاشی نظام اختیار کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ ایک بالغ سٹرس پودے کو سالانہ 18,000 سے 28,000 لیٹر پانی درکار ہوتا ہے جبکہ ڈِرِپ اریگیشن سسٹم میں یہ ضرورت صرف 6,000 سے 9,000 لیٹر رہ جاتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ذوالفقار علی کی ہدایت پر منعقدہ انسٹی ٹیوٹ آف ہارٹیکلچرل سائنسز کے لینڈ اسکیپ اسٹوڈیو میں ”کوالٹی سٹرَس پروڈکشن کے لیے ہائی ایفیشنسی اریگیشن سسٹم کے امکانات“ کے موضوع پر منعقدہ ایک روزہ قومی تربیتی ورکشاپ،سیمینار کے افتتاحی سیشن سے خطاب کیا۔ یہ تربیتی ورکشاپ ہائر ایجوکیشن کمیشن اسلام آباد کی مالی معاونت سے منعقد کی گئی ہے۔
ماہرین نے کہا کہ ملکی سطح پر سٹرس کو بیماریوں سے بچاؤ کے لئے نرسری اور سرٹیفیکیشن سسٹم کو متعارف کروانا ناگزیر ہے۔ ڈین کلیہ زراعت ڈاکٹر غلام مرتضیٰ نے کہا کہ گزشتہ دس برسوں میں صوبہ پنجاب میں سٹرَس کی کاشت کے رقبے میں مسلسل کمی واقع ہوئی ہے۔ اس کمی کی وجوہات میں باغات کی ناقص دیکھ بھال، بیماریوں کا حملہ، ہاؤسنگ سوسائٹیز کا پھیلاؤ، بعد از برداشت ذخیرہ کرنے کے مسائل شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سٹرَس دنیا بھر میں اہم پھلوں کی فصلوں میں سے ایک ہے اور 140 سے زائد ممالک میں کاشت ہوتی ہے۔ عالمی سٹرَس پیداوار کا نصف سے زائد حصہ مالٹے پر مشتمل ہے۔ گزشتہ دہائی میں پاکستان کی سٹرَس انڈسٹری میں پیداواری رجحانات میں نمایاں تبدیلیاں دیکھی گئی ہیں۔ انسٹی ٹیوٹ آف ہارٹیکلچر سائنسز کے ڈائریکٹر ڈاکٹر احمد ستار خاں نے کہا کہ ملک میں سٹرَس کی کاشت کا رقبہ تقریباً 194 ہزار ہیکٹر سے کم ہو کر 156 ہزار ہیکٹر رہ گیا ہے
تاہم جدید طریقوں اور رجحانات کے باعث سٹرَس کی پیداوار برقرار ہے۔ ڈاکٹر محمد اعظم نے کہا کہ پاکستان میں مٹی اور موسمی حالات کی مناسبت کے باعث سٹرَس انڈسٹری کی توسیع کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہائی ایفیشنسی اریگیشن سسٹم جیسے کہ ڈِرِپ اریگیشن سٹرَس سیکٹر میں انقلابی تبدیلی لا سکتے ہیں۔ ان نے کہا کہ ہائی ایفیشنسی اریگیشن سسٹم پانی اور غذائی اجزاء کو براہِ راست جڑوں تک پہنچا کر ایک مؤثر حل فراہم کرتا ہے۔ جعفر ایگرو سروسز کے منیجر ہارٹیکلچر محمد عرفان نواز اور سینیئر زونل منیجر شاہد اقبال نے بھی خطاب کیا۔








