پانی کے منصفانہ اور منظم استعمال کے بغیر علاقائی استحکام، پائیدار ترقی اور انسانی سلامتی ممکن نہیں،ڈاکٹر مصدق ملک

ریاض ۔15دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہےکہ پانی کے منصفانہ اور منظم استعمال کے بغیر علاقائی استحکام، پائیدار ترقی اور انسانی سلامتی ممکن نہیں،دنیا کو مکالمے، امن، ہم آہنگی اور باہمی احترام کے اصولوں کے لیے ازسرِنو عزم کرنا ہوگا ۔ترجمان وزارت موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو …

ریاض ۔15دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہےکہ پانی کے منصفانہ اور منظم استعمال کے بغیر علاقائی استحکام، پائیدار ترقی اور انسانی سلامتی ممکن نہیں،دنیا کو مکالمے، امن، ہم آہنگی اور باہمی احترام کے اصولوں کے لیے ازسرِنو عزم کرنا ہوگا ۔ترجمان وزارت موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں منعقد ہونے والے اقوامِ متحدہ کے اتحادِ تہذیبوں (یو این اے او سی)کے 11ویں عالمی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

یہ اعلیٰ سطحی فورم’’ انسانیت کے لیے مکالمے کے دو عشرے‘‘ کے عنوان کے تحت منعقد ہوا، جس میں اقوامِ متحدہ کے تہذیبوں کے درمیان اتحاد کے قیام کے 20 سال مکمل ہونے کا بھی جشن منایا گیا۔ فورم میں عالمی رہنماؤں، پالیسی سازوں، ماہرینِ تعلیم اور سول سوسائٹی کے نمائندگان نے شرکت کی۔ ڈاکٹر مصدق ملک نے عالمی نظام میں رونما ہونے والی تبدیلیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ بعض مواقع پر دوطرفہ تعاون کی جگہ یکطرفہ اقدامات لیے رہے ہیں، جو عالمی امن اور انصاف کے لیے تشویش ناک ہیں۔

وفاقی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ حقوق اور انصاف کے اصولوں کا اطلاق بلا امتیاز ہونا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ خواتین کے حقوق، اقلیتوں کے حقوق، ماحولیاتی حقوق اور بچوں کے حقوق بنیادی اور ناقابلِ انکارہیں۔ اسی تناظر میں انہوں نے فلسطین اور کشمیر کے حالات کی جانب توجہ دلاتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیا فلسطینیوں اور کشمیریوں کے حقوق بھی اتنی ہی اہمیت رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کشمیر کے عوام بھی اقلیتوں میں شمار ہوتے ہیں اور انہیں وہی حقوق ملنے چاہئیں جو دنیا بھر میں دیگر اقلیتوں کو حاصل ہیں۔ ڈاکٹر مصدق ملک نے پانی کے حقوق کی اہمیت پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ بالائی دریا کنار ممالک کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ زیریں دریا کنار ممالک کے حقوق کا احترام کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پانی کے منصفانہ اور منظم استعمال کے بغیر علاقائی استحکام، پائیدار ترقی اور انسانی سلامتی ممکن نہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کے تہذیبوں کے درمیان اتحاد کے قیام کے 20 سال مکمل ہونا اس بات کی یاد دہانی ہے کہ دنیا کو مکالمے، امن، ہم آہنگی اور باہمی احترام کے اصولوں کے لیے ازسرِنو عزم کرنا ہوگا۔