پانی ہماری معیشت کی لائف لائن ہے، اس کی حفاظت قومی سلامتی سے کم نہیں، سردار طاہر محمود

اسلام آباد۔7نومبر (اے پی پی):اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) کے صدر سردار طاہر محمود نے اس بات پر زور دیا ہے کہ پاکستان کے مستقبل کے لیے پانی کی حفاظت بہت ضروری ہے۔ انہوں نے پانی کے بحران سے نمٹنے کے لیے حکومتی اداروں، سائنسی برادری، مارکیٹوں اور مقامی کمیونٹیز کے درمیان جدت پر مبنی، پائیدار حل کے لیے متعلقہ اداروں کے مابین قریبی …

اسلام آباد۔7نومبر (اے پی پی):اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) کے صدر سردار طاہر محمود نے اس بات پر زور دیا ہے کہ پاکستان کے مستقبل کے لیے پانی کی حفاظت بہت ضروری ہے۔ انہوں نے پانی کے بحران سے نمٹنے کے لیے حکومتی اداروں، سائنسی برادری، مارکیٹوں اور مقامی کمیونٹیز کے درمیان جدت پر مبنی، پائیدار حل کے لیے متعلقہ اداروں کے مابین قریبی تعاون پر زور دیا ہے۔پاکستان واٹر ویک2025 کے سلسلے میں جمعہ کو جاری ہونے والے ایک بیان میں سردار طاہر محمود نے خبردار کیا کہ پاکستان تیزی سے پانی کے دبائو والے ملک سے پانی کی کمی کے شکار ملک کی طرف منتقل ہو رہا ہے، ایک ایسی تبدیلی جو قومی سلامتی کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ ساتھ شہری کاری اور زرعی پانی کے غیر موثر استعمال نے پانی کے نظام پر بے تحاشا دبائو ڈالا ہے۔تشویشناک اعدادوشمار کا حوالہ دیتے ہوئے آئی سی سی آئی کے صدر نے کہا کہ پاکستان کی فی کس پانی کی دستیابی تقریباً 900 کیوبک میٹر تک گر گئی ہے جو کہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ 1000 کیوبک میٹر کی حد سے بھی نیچے ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے بارشوں میں تبدیلی، گلیشیئرز کا پگھلنا اور پانی کے انتظام کے ناقص طریقے صورتحال کو مزید خراب کر رہے ہیں۔ سردار طاہر محمود نے ایک مربوط واٹر گورننس فریم ورک، پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کو بہتر بنانے اور آبپاشی کے موثر نظام کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے جدید زرعی تکنیکوں، گندے پانی کی ری سائیکلنگ اور بارش کے پانی کی ذخیرہ اندوزی کے فروغ پر زور دیا۔انہوں نے مزید کہا کہ پانی کی کمی کو حل کرنا محض ماحولیاتی تشویش نہیں ہے بلکہ خوراک کی حفاظت، توانائی کی حفاظت اور اقتصادی استحکام سے منسلک ایک سٹریٹجک ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانی ہماری معیشت کی لائف لائن ہے، زراعت سے لے کر صنعت تک اور اس کی کمی سے لاکھوں لوگوں کی روزی روٹی کو خطرہ لاحق ہے۔

آئی سی سی آئی کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے سردار طاہر محمود نے کہا کہ چیمبر پائیدار، جامع اور اختراعی حل تیار کرنے میں حکومت اور تمام متعلقہ سٹیک ہولڈرز کو مکمل تعاون فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے پانی کے تحفظ کو قومی تحریک میں تبدیل کرنے کے لیے عوامی بیداری مہم، نجی شعبے کی شمولیت اور سائنس پر مبنی پالیسی سازی پر زور دیا۔