پاکسان نے بھارتی قیادت کے پاکستان مخالف غیر ذمہ دارانہ بیانات کو سختی سے مسترد کر دیاپاکستان میں اقلیتوں کے ساتھ بدسلوکی کے الزامات من گھڑت ہیں،ترجمان دفتر خارجہ

اسلام آباد ۔ 7 فروری (اے پی پی) پاکسان نے بھارتی قیادت کی طرف سے مسلسل پاکستان مخالف غیر ذمہ دارانہ بیانات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ بھارتی قیادت کے پاکستان مخالف بیانات پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان نے ان بیانات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ دفتر خارجہ کی ترجمان کی طرف سے جاری ردعمل میں کہاگیا ہے کہ بھارتی صدر رام ناتھ کوویند …

اسلام آباد ۔ 7 فروری (اے پی پی) پاکسان نے بھارتی قیادت کی طرف سے مسلسل پاکستان مخالف غیر ذمہ دارانہ بیانات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ بھارتی قیادت کے پاکستان مخالف بیانات پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان نے ان بیانات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ دفتر خارجہ کی ترجمان کی طرف سے جاری ردعمل میں کہاگیا ہے کہ بھارتی صدر رام ناتھ کوویند اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے حالیہ بیانات بھارتی مقبوضہ کشمیر میں اپنی غیر قانونی اور غیر انسانی حرکات اور بین الاقوامی تنقید سے توجہ ہٹانے کی مذموم کوششوں اور بھارتی جنتا پارٹی کی حکومت کے آر ایس ایس کے حامل نظریئے اور اقلیت مخالف پالیسیوں پر ہونے والے مظاہروں سے توجہ ہٹانے کا عکاس ہیں۔ وہ اپنے انتخابی حساب کتاب کے حصے کے طور پر پاکستان مخالف اس طرح کے کھلم کھلا بیانات دے رہے ہیں۔ پاکستان میں اقلیتوں کے ساتھ بدسلوکی کے الزامات من گھڑت ہیں اور بھارتی قیادت اسے پراپیگنڈے کے طور پر استمال کر رہی ہے۔ بھارتی حکومت خود کو اقلیتوں کا وطن ظاہر کر کے دکھاوا کر رہی ہے۔ حقیقت میں بھارت کو اقلیتوں کے حقوق سے کوئی سروکار نہیں۔ بھارت میں شدت پسندی نہ صرف وہاں کی اقلیتوں بلکہ خطے کے امن کیلئے خطرہ ہے۔ بھارتی جنتا پارٹی۔ آر ایس ایس کی ہندو راشٹریہ مہم بابری مسجد کی شہادت، گجرات میں ہزاروں مسلمانوں کے قتل عام اور اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کیخلاف نفرت آمیز جرائم اور تشدد کے واقعات کے نہ ختم ہونے والے سلسلے کا ذمہ دار ہے جسے ریاستی سرپرستی حاصل ہے۔ آر ایس ایس۔بی جے پی کی قیادت کی زیر سرپرستی ہندوتوا کے پیروکاروں کی طرف سے یونیورسٹی کیمپس میں طلباءپر فائرنگ کے مناظر دنیا کو بھارت کا اصل چہرہ دکھانے کیلئے کافی ہیں۔ انتہا پسند ہندوتوا نظریئے اور بڑھتے ہوئے عدم برداشت نے بھارتی ریاستی اداروں کو کھلی چھوٹ دیدی ہے جس سے نہ صرف بھارت میں بسنے والی اقلیتیں خوف زدہ ہیں بلکہ عالمی امن اور استحکام کو بھی سنگین خطرات لاحق ہیں۔ پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ بھارت میں بسنے والی اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں پر ہونے والے بہیمانہ مظالم اور بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر میں مسلسل انسانی محاصرے اور انسانی بحران کا نوٹس لے۔ پاکستان امید کرتا ہے کہ بھارت کی ان غیر قانونی اور غیر ذمہ دارانہ کارروائیوں پر بھارت کو جواب دہ بنایا جائے گا اور اسے بین الاقوامی ذمہ داریوں کا احترام کرنے کا پابند بنانے کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں گے۔