پاکستانی اور چینی کمپنیوں کے درمیان ایکٹیو فارماسیوٹیکل انگریڈینٹس ، ٹیکنالوجی ٹرانسفر، ویکسین تعاون اور فارما سرمایہ کاری کے حوالے سے 10 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط
پاکستانی اور چینی کمپنیوں کے درمیان ایکٹیو فارماسیوٹیکل انگریڈینٹس ، ٹیکنالوجی ٹرانسفر، ویکسین تعاون اور فارما سرمایہ کاری کے حوالے سے 10 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط

مزید خبریں
اسلام آباد۔12مئی (اے پی پی):پاکستان کے فارماسیوٹیکل شعبے میں ایک تاریخی پیشرفت کے طور پر پاکستانی اور چینی کمپنیوں کے درمیان ایکٹیو فارماسیوٹیکل انگریڈینٹس (اے پی آئی)، ٹیکنالوجی ٹرانسفر، ویکسین تعاون اور فارما سرمایہ کاری کے حوالے سے 10 مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر دستخط کئے گئے جو پاکستان میں فارماسیوٹیکل خود کفالت، مقامی مینوفیکچرنگ اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔وفاقی وزیر برائے قومی صحت سید مصطفیٰ کمال نے بطور مہمان خصوصی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کا دن پاکستان کی فارماسیوٹیکل صنعت اور ہیلتھ کیئر سیکٹر کے لئے ایک تاریخی سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے خصوصاً خام مال کی مقامی سطح پر تیاری کے حوالے سے یہ پیشرفت انتہائی انقلابی اقدام ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ وہ دن ہے جس کا پاکستان برسوں سے انتظار کر رہا تھا کیونکہ ہیلتھ کیئر سیکٹر میں حقیقی خود کفالت صرف ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور صنعتی تعاون کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اے پی آئی کی مقامی پروڈکشن کا آغاز ادویات کی قیمتوں، دستیابی اور سپلائی چین کے استحکام پر مثبت اثر ڈالے گا۔سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ اگرچہ کانفرنس میں 10 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کئے گئے تاہم دو معاہدے خصوصی اہمیت کے حامل ہیں جن میں فارماسیوٹیکل خام مال کی مقامی پیداوار، ٹیکنالوجی ٹرانسفر، اور پولٹری ویکسین مینوفیکچرنگ شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت 51 ممالک کو ادویات برآمد کر رہا ہے لیکن بدقسمتی سے ادویات کی تیاری میں استعمال ہونے والا زیادہ تر خام مال بیرون ملک سے درآمد کیا جاتا ہے جس سے زرمبادلہ پر دباؤ بڑھتا ہے۔وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ پاکستان اس وقت تقریباً 4.5 ملین ڈالر مالیت کی پولٹری ویکسین درآمد کرتا ہےجبکہ ویکسین کے شعبے میں بیرونی انحصار ایک اہم قومی چیلنج ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت 13 بیماریوں سے بچاؤ کے حفاظتی ٹیکے بچوں کو مفت فراہم کر رہا ہے لیکن عالمی سطح پر 2030 تک حفاظتی ٹیکہ جات کی معاونت میں تبدیلی متوقع ہے جس کے بعد پاکستان کو یہ ویکسین اپنی مالی وسائل سے خریدنا ہوں گی جس کے لئے سالانہ تقریباً 1.2 ارب ڈالر درکار ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ 2030 سے پہلے پاکستان میں ویکسین کی مقامی پیداوار یقینی بنائی جائے تاکہ بیرونی انحصار ختم کیا جا سکے۔کورونا وبا کا حوالہ دیتے ہوئے سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ویکسین نے لاکھوں جانیں بچانے میں اہم کردار ادا کیا جبکہ مستقبل میں کینسر سمیت دیگر بیماریوں کے علاج میں بھی ویکسین اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ جامع قومی ویکسین پالیسی تشکیل دے کر وفاقی کابینہ سے منظور کرائی گئی ہے جبکہ قومی ادارہ صحت (این آئی ایچ) کو ویکسین سازی اور متعلقہ ترقیاتی سرگرمیوں کے لئے فعال بنایا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان آئندہ چند ماہ میں عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے لیول 3 سرٹیفکیشن کے حصول کی کوشش کر رہا ہے جس کے بعد پاکستانی ادویات کی برآمدات 51 ممالک سے بڑھ کر 150 سے زائد عالمی منڈیوں تک پہنچ سکتی ہیں۔وفاقی وزیر صحت نے قومی صحت کے وسیع تر چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ہر سال تقریباً 62 لاکھ افراد آبادی میں شامل ہو رہے ہیں جس سے صحت، تعلیم، انفراسٹرکچر اور روزگار کے شعبوں پر شدید دباؤ پڑ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا کا پانچواں بڑا آبادی والا ملک ہے اور تیزی سے بڑھتی آبادی ایک سنگین قومی چیلنج بن چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہر سال تقریباً 11 ہزار مائیں حمل یا زچگی سے متعلق پیچیدگیوں کے باعث جان کی بازی ہار جاتی ہیں جو ایک سنجیدہ قومی مسئلہ ہے اور احتیاطی صحت کے نظام کو مضبوط بنانے کی فوری ضرورت ہے۔پارلیمانی سیکرٹری برائے تجارت ڈاکٹر ذوالفقار علی بھٹی جنہوں نے اس چینی سرمایہ کاری کو پاکستان لانے اور سرمایہ کاروں سے رابطوں میں ذاتی طور پر فعال کردار ادا کیا، نے کہا کہ یہ پیشرفت حکومت کی صنعتی ترقی، بین الاقوامی شراکت داری، اور عملی معاشی حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے فارماسیوٹیکل تجارتی ڈھانچے کے جائزے سے واضح ہوا کہ ادویات اور خام مال کے لئے بیرونی انحصار قومی زرمبادلہ اور درآمدی بل پر مسلسل دباؤ ڈال رہا ہے، اسی لئے مقامی پیداوار، غیر ملکی سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی ٹرانسفر ناگزیر تھے۔انہوں نے تمام سرمایہ کاروں، اداروں اور شراکت داروں کو اس اہم پیشرفت پر مبارکباد دی۔اسلام آباد کے مقامی ہوٹل میں منعقدہ اس اعلیٰ سطحی تقریب کا انعقاد وزارت قومی صحت، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ)، ون سٹیشن چائنا ڈیسک اور پارلیمانی سیکرٹری برائے تجارت ڈاکٹر ذوالفقار علی بھٹی کے دفتر کے اشتراک سے کیا گیا۔تقریب میں پاکستانی اور چینی فارماسیوٹیکل کمپنیوں کے درمیان 10 اہم معاہدوں پر دستخط کئے گئے جو پاک-چین صنعتی تعاون کے ایک نئے باب کا آغاز ہیں۔
نمایاں معاہدوں میں یونی کیم فارماسیوٹیکلز پاکستان اور چین کے Xinxu گروپ کے درمیان تقریباً 10 ارب روپے کی سرمایہ کاری پر مبنی منصوبہ شامل ہے جس کے تحت ٹیکنالوجی ٹرانسفر کا عمل باضابطہ طور پر شروع ہو چکا ہے۔اس منصوبے کے تحت اومیپرازول اے پی آئی کی مقامی تیاری ممکن ہو گی جس کا تقریباً 95 فیصد خام مال پہلے بیرون ملک سے درآمد کیا جاتا تھا جس سے درآمدی انحصار کم ہوگا اور زرمبادلہ کی بچت ہوگی۔
اسی طرح لکی کور گروپ اور چینی شراکت داروں کے درمیان بھی اہم تعاون طے پایا۔مفاہمتی یادداشتوں پر یونی کیم فارماسیوٹیکلز کے سی ای او مسٹر حمید، Xinxu گروپ کے سی ای او ہاؤ، چین کی جانب سے گونگ یون (عالیہ)، اور لکی کور گروپ کی جانب سے صبور نے دستخط کئے جبکہ وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال اور پارلیمانی سیکرٹری برائے تجارت ڈاکٹر ذوالفقار علی بھٹی بھی پر دستخطی تقریب میں موجود تھے۔ تقریب سے ون سٹیشن چائنا ڈیسک، چینی فارما کمپنیوں اور پاکستانی صنعت کے نمائندوں نے بھی خطاب کیا اور پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع، فارما مارکیٹ کی وسعت اور پاک-چین صنعتی تعاون کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔تقریب کے اختتام پر پریس کانفرنس بھی منعقد کی گئی جس میں پاکستان میں فارما سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی ٹرانسفر، مقامی مینوفیکچرنگ اور صحت کے شعبے میں خود کفالت کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔








