افغانستان کے ایک تہائی صوبوں میں بچوں کے لیے غذائی قلت تشویشناک حد تک پہنچ چکی ہے ، ورلڈ فوڈ پروگرام

اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی)نے کہا ہے کہ افغانستان کے ایک تہائی صوبوں میں بچوں میں غذائی قلت تشویشناک حد تک پہنچ چکی ہے اور خدشہ ہے کہ مالی وسائل کی کمی کے باعث خوراک کی تقسیم اور دیگر امدادی سرگرمیوں میں کٹوتی سے صورتحال مزید خراب ہوگی۔

کابل۔6اگست (اے پی پی):اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی)نے کہا ہے کہ افغانستان کے ایک تہائی صوبوں میں بچوں میں غذائی قلت تشویشناک حد تک پہنچ چکی ہے اور خدشہ ہے کہ مالی وسائل کی کمی کے باعث خوراک کی تقسیم اور دیگر امدادی سرگرمیوں میں کٹوتی سے صورتحال مزید خراب ہوگی۔

اردو نیوز کے مطابق افغانستان میں اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام کے کنٹری ڈائریکٹر جان ایلیف نے گزشتہ روز بیان میں کہا کہ بچوں کی بڑھتی ہوئی اموات کو روکنے کے لیے ہمیں فوری اقدامات کرنے ہوں گے کیونکہ یہ بحران ان اموات کا سبب بن رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ بدقسمتی سے بہت سے بچوں کے لیے اب بہت دیر ہو چکی ہے۔ افغانستان میں اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی امداد کی ترجمان اولگا چیریوکو نے کہا کہ غذائیت کے ماہرین کے مطابق رواں سال ملک کے تین چوتھائی سے زائد علاقوں میں بچوں میں شدید غذائی قلت مزید بڑھ گئی ہے۔ اس کیفیت میں مبتلا بچے انتہائی کمزور اور اپنی عمر و قد کے لحاظ سے بہت دبلے رہ جاتے ہیں، اور انہیں فوری طور پر خصوصی غذائی علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نے افغانستان سے وڈیو لنک کے ذریعے اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں صحافیوں کو بتایا کہ بہت زیادہ بچے شدید غذائی قلت کی حالت میں صحت کے مراکز تک پہنچتے ہیں جبکہ کئی بچے وہاں تک پہنچنے سے پہلے ہی جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ چند ہفتوں اور مہینوں میں انہوں نے افغانستان کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا ہے۔ ڈبلیو ایف پی کے مطابق امداد میں کمی کے باعث 2025 کے دوران142 صحت کے مراکز بند ہو چکے ہیں، جس کے نتیجے میں 13 ہزار سےزیادہ بچےغذائی علاج کی سہولت سے محروم ہو گئے ہیں۔ رپورٹ میں کسی مخصوص ڈونر مثلاً امریکا کا نام نہیں لیا گیا، جہاں ٹرمپ انتظامیہ نے غیر ملکی امداد میں بڑے پیمانے پر کٹوتیاں کی ہیں۔ ڈبلیو ایف پی کے اندازے کے مطابق رواں سال افغانستان میں 3.7 ملین بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہوں گے جبکہ1.2 ملین حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین بھی اس مسئلے سے متاثر ہوں گی۔ ادارے نے بتایا کہ افغانستان کے 12 صوبے بچوں میں شدید غذائی قلت کی تشویشناک سطح تک پہنچ چکے ہیں، جو اب تک کی سب سے بڑی تعداد ہے۔ اس کی وجوہات میں جنگ، بے روزگاری، خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتیں، بیماریوں کے پھیلاؤ، صاف پانی اور صفائی کی ناقص صورتحال اور انسانی امداد کے لیے فنڈنگ میں کمی شامل ہیں۔