پاکستانی سفارتخانے اور سنگھوا یونیورسٹی کی میزبانی میں پاک چین سفارتی تعلقات کی 75 ویں سالگرہ کے موقع پر کتاب کی رونمائی

چین میں پاکستانی سفارتخانے، پاکستان سینٹر فار کلچر اینڈ کمیونیکیشن اور سنگھوا یونیورسٹی کے سکول آف جرنلزم اینڈ کمیونیکیشن نے پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ کے موقع پر کتاب “Indus and Yangtze: A Journey of Two Rivers from One Origin” کی رونمائی کی۔

بیجنگ۔14ستمبر (اے پی پی):چین میں پاکستانی سفارتخانے، پاکستان سینٹر فار کلچر اینڈ کمیونیکیشن اور سنگھوا یونیورسٹی کے سکول آف جرنلزم اینڈ کمیونیکیشن نے پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ کے موقع پر کتاب “Indus and Yangtze: A Journey of Two Rivers from One Origin” کی رونمائی کی۔

تقریب میں کتاب کی رونمائی کے علاوہ پاکستان سے متعلق اہم ڈاکٹریٹ تحقیقی کام، شاہراہِ قراقرم تعمیر کرنے والوں کی زبانی تاریخ، یارکند دریائی وادی کے قدیم راستوں پر تحقیق اور متعلقہ دستاویزی منصوبے بھی پیش کیے گئے۔ تقریب میں چین میں پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی کے علاوہ ممتاز سکالرز، محققین، سفارت کاروں، اساتذہ اور طلبہ نے شرکت کی۔ کتاب کے ایڈیٹر سنگھوا یونیورسٹی کے سکول آف جرنلزم اینڈ کمیونیکیشن کے سابق ایگزیکٹو وائس ڈین پروفیسر لی شی گوانگ اور پشاور یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر پروفیسر زاہد انور ہیں۔ یہ کتاب انگریزی، اردو اور چینی زبان میں پیش کی گئی۔ایڈیٹرزنے دریائے سندھ اور دریائے یانگزے کے طاس میں پروان چڑھنے والی تہذیبوں کے درمیان مشترکہ تاریخی اور ثقافتی روابط کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ علمی تحقیق پاکستان اور چین کے عوام کے درمیان باہمی تفہیم کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

تقریب میں ڈاکٹر وین سان می اور ڈاکٹر لیو بے نے پاکستان سے متعلق اپنی تحقیقی کاوشیں بھی پیش کیں، جن سے چینی جامعات اور تحقیقی اداروں میں پاکستان کے بارے میں بڑھتی ہوئی علمی دلچسپی اور تحقیق کے دائرہ کار کا اظہار ہوتا ہے۔تقریب میں ایک اہم پیشکش ’’شاہراہِ قراقرم کے معماروں کی زبانی تاریخ‘‘ کے عنوان سے کی گئی۔ لیکچرار ژانگ جِنگ نے شاہراہِ قراقرم کی تعمیر میں حصہ لینے والے افراد کے تجربات پر مبنی تحقیق اور انٹرویوز پیش کیے۔ اس منصوبے سے متعلق دستاویزی فلم کے حصے بھی دکھائے گئے۔

پاکستان اور چین کے تاریخی روابط پر ایک اور منصوبہ ’’یارکند دریائی وادی—پاکستان کے قدیم راستے کی تلاش” کے عنوان سے پیش کیا گیا، جسے پروفیسر گوو شیاؤکے اور لی ژن یوان نے پیش کیا۔ اس تحقیق میں میدانی مطالعات، تاریخی تحقیق اور دستاویزی فلم سازی کے ذریعے دونوں خطوں کو ملانے والے قدیم راستوں اور روابط کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر پاکستانی سفیر خلیل ہاشمی نے کتاب کے انگریزی، چینی اور اردو ایڈیشنز کی رونمائی کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے پروفیسر لی شی گوانگ، پروفیسر زاہد انور، ان کی ٹیموں اور دیگر محققین کو دونوں دریائی نظاموں سے وابستہ جغرافیائی، تاریخی، اقتصادی اور ثقافتی روابط پر وسیع تحقیق کرنے پر سراہا۔

انہوں نے پاک چین سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ کا ذکر کرتے ہوئے دونوں ممالک کی دیرینہ دوستی اور علمی، ثقافتی اور عوامی روابط کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے پاک چین شراکت داری کے تین اہم پہلو بیان کیے جن میں حکومت سے حکومت کے درمیان تعاون، کاروبار سے کاروبار کے درمیان تعاون اور عوام سے عوام کے درمیان روابط شامل ہیں۔ پاکستانی سفیر نے جامعات کے درمیان مزید تعاون، طلبہ و اساتذہ کے تبادلوں، سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی (STEM) میں اشتراک، زبانوں کی تعلیم اور ثقافتی روابط کے فروغ پر زور دیا۔ اس موقع پر اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ پاکستان چین تعلقات صرف سفارتی اور اقتصادی تعاون تک محدود نہیں بلکہ ان کی بنیاد گہرے تاریخی، ثقافتی، تعلیمی اور عوامی روابط پر بھی قائم ہے۔ تقریب کے اختتام پر پاکستانی کھانوں پر مشتمل عشائیہ دیا گیا، جس کے دوران شرکا کو مزید غیر رسمی تبادلہ خیال اور ثقافتی میل جول کا موقع ملا۔