پاکستانی عازمین حج کا رمی شیڈول جاری، 10 ذوالحجہ کو شام 6 بجے قربانی کے بعد احرام کھولنے کی ہدایت

وزارتِ مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی نے مکہ مکرمہ میں موجود 1 لاکھ 19 ہزار عازمینِ حج کے لیے قربانی اور مناسکِ حج کی ادائیگی کے حوالے سےجامع اور اہم آگاہی گائیڈ لائنز جاری کر دی ہیں

مکہ مکرمہ۔22مئی (اے پی پی):وزارتِ مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی نے مکہ مکرمہ میں موجود 1 لاکھ 19 ہزار عازمینِ حج کے لیے قربانی اور مناسکِ حج کی ادائیگی کے حوالے سےجامع اور اہم آگاہی گائیڈ لائنز جاری کر دی ہیں ۔ جس کا مقصد سعودی قوانین کے مطابق عازمین کو حج کے اہم ترین دن (10 ذوالحجہ) کے تمام امور سے باخبر رکھنا ہے تاکہ وہ کسی بھی پریشانی سے محفوظ رہ سکیں ۔ وزارت مذہبی امور کے ترجمان عمر بٹ نےعازمینِ حج کی سہولت کے لیے تین اہم ترین پہلوؤں پر سختی سے عمل کرنے کی تاکید کرتے ہوئے کہا کہ رمی جمرات کے لیے مخصوص اوقات کار اور ناظم سسٹم کی پابندی سعودی تعلیمات کے مطابق 10 ذوالحجہ کو جمرات پر شیطان کو کنکریاں مارنے (رمی) کے اوقات کار ہر مکتب کے لیے الگ اور مخصوص کیے گئے ہیں ۔ سرکاری سکیم کے تمام حجاج کرام اپنے متعلقہ گروپ کے "ناظم” کی سربراہی میں ہی گروپ کی شکل میں جمرات کے لیے روانہ ہوں گے ۔ ہر ناظم کو قانونی طور پر پابند کیا گیا ہے کہ وہ اپنے گروپ کو الاٹ شدہ مخصوص ٹائم شیڈول کے مطابق ہی رمی جمرات کروائے ۔ قربانی کا وقت اور رمی کی ڈیڈ لائن قربانی کے ذمہ دار مجاز سعودی ادارے نے سرکاری حج سکیم کے حجاج کرام کے لیے حج کے پہلے دن (10 ذوالحجہ) قربانی کا وقت شام 6:00 بجے تک مقرر کیا ہے ۔ اس ٹائم فریم کے پیشِ نظر تمام حجاج کرام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ہر صورت کوشش کر کے پہلے دن کی رمی شام 6:00 بجے سے قبل لازمی مکمل کر لیں ۔ حلق یا قصر اور احرام سے باہر آنے کا وقت مناسکِ حج کی درست ترتیب کو برقرار رکھنے کے لیے پاکستان حج مشن نے واضح ہدایات دی ہیں کہ سرکاری سکیم کے تمام حجاج کرام 10 ذوالحجہ کو شام 6:00 بجے کے بعد ہی حلق (سر منڈوانے) یا قصر (بال کٹوانے) کا عمل مکمل کریں اور اس کے بعد ہی احرام کی پابندیوں سے باہر آئیں ۔ وزارتِ مذہبی امور نے تمام عازمینِ حج سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ مکہ مکرمہ میں رش کے انتظام اور اپنی حفاظت کے لیے ان تمام سرکاری ہدایات پر سختی سے عمل کریں ۔

مزید خبریں