پاکستانی فری لانسرز کی برآمدی آمدن ریکارڈ سطح پر، 1.76 ارب ڈالر زرمبادلہ حاصل، خرم شہزاد

مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد نے کہا ہے کہ پاکستان کے فری لانسرز نے مالی سال 2025-26 کے دوران برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدن کا نیا ریکارڈ قائم کرتے ہوئے 1.76 ارب ڈالر کا زرمبادلہ کمایا، جو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 78 فیصد زیادہ ہے۔اتوار کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں انہوں نے کہا کہ جون 2026 میں فری لانسرز نے …

اسلام آباد۔19جولائی (اے پی پی):مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد نے کہا ہے کہ پاکستان کے فری لانسرز نے مالی سال 2025-26 کے دوران برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدن کا نیا ریکارڈ قائم کرتے ہوئے 1.76 ارب ڈالر کا زرمبادلہ کمایا، جو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 78 فیصد زیادہ ہے۔اتوار کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں انہوں نے کہا کہ جون 2026 میں فری لانسرز نے 164 ملین ڈالر کی برآمدی آمدن حاصل کی جو جون 2025 کے مقابلے میں 69 فیصد اضافہ کو ظاہر کرتی ہے۔

گزشتہ 6 برسوں کے دوران فری لانسرز کی برآمدی آمدن میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ مالی سال 2021 میں یہ آمدن 396 ملین ڈالر تھی، جو مالی سال 2026 میں بڑھ کر 1.758 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔ صرف گزشتہ تین برسوں (2024 تا 2026) میں اس شعبے کی برآمدی آمدن میں 212 فیصد اضافہ ہوا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اندازاً 25 سے 30 لاکھ فری لانسرز کام کر رہے ہیں۔ فی فری لانسر اوسط ماہانہ برآمدی آمدن مالی سال 2021 میں 12 ڈالر سے بڑھ کر مالی سال 2026 میں 53 ڈالر سے تجاوز کر گئی، جو تقریباً 4.4 گنا اضافہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ڈیجیٹل ٹیلنٹ کی عالمی سطح پر بہتر کارکردگی کا بھی ذکر کیا گیا ہےجس کےمطابق ملک فری لانسنگ کے عالمی اشاریے میں 193 ممالک میں 16ویں جبکہ ٹیلنٹ اسکور کے لحاظ سے 8ویں نمبر پر ہے۔مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ ڈیجیٹل مہارتوں کے فروغ، بین الاقوامی ادائیگیوں کے آسان نظام، مسابقتی ٹیکس پالیسی، تیز رفتار براڈ بینڈ اور 5 جی کی توسیع جیسے اقدامات سے فری لانسنگ کے شعبے میں مزید ترقی کے امکانات روشن ہیں۔