نیویارک۔ 28 ستمبر (اے پی پی)وزیراعظم عمران خان نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ پاکستانی قوم اس وقت تک آرام سے نہیں بیٹھے گی جب تک کشمیریوں کو ان کا حق خود ارادیت نہیں دیا جاتا اس کیلئے چاہئے ہمیں جو بھی قیمت چکانی پڑے۔ یہ بات انہوں نے امریکی روزنامہ میٹرو نیویارک میں شائع ہونے والے اپنے ایک آرٹیکل میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ اب دنیا …
پاکستانی قوم اس وقت تک آرام سے نہیں بیٹھے گی جب تک کشمیریوں کو ان کا حق خود ارادیت نہیں دیا جاتا ، چاہئے اس کیلئے ہمیں جو بھی قیمت چکانی پڑے، وزیر اعظم عمران خان

مزید خبریں
نیویارک۔ 28 ستمبر (اے پی پی)وزیراعظم عمران خان نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ پاکستانی قوم اس وقت تک آرام سے نہیں بیٹھے گی جب تک کشمیریوں کو ان کا حق خود ارادیت نہیں دیا جاتا اس کیلئے چاہئے ہمیں جو بھی قیمت چکانی پڑے۔ یہ بات انہوں نے امریکی روزنامہ میٹرو نیویارک میں شائع ہونے والے اپنے ایک آرٹیکل میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ اب دنیا کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ انسانی اقدار اور اخلاقیات کو پامال کرنے کیلئے کب تک سیاسی اور اقتصادی خودغرضیوں کا سہارا لیا جاتا رہے گا، انہوں نے کہا کہ پاکستانی قوم کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیئے جانے تک چین سے نہیں بیٹھے گی اس کیلئے اسے چاہے کتنی بھی قیمت چکانی پڑے۔ انہوں نے کہا کہ اس تحریر کا مقصد مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی قابض افواج کے زیر محاصرہ 80 لاکھ کشمیریوں کی حالت زار کے حوالے سے عالمی برادری کے ضمیر کو جھنجھوڑنا ہے۔ انہوں نے ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے اور یہ امن احترام کی بنیاد پر چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دہائیوں سے تصفیہ طلب اس مسئلے کو پروقار اور پرامن طریقے سے حل کرنے کا خواہاں ہے جو انسانی المیہ کی بدنما شکل اختیار کرچکا ہے۔ انہوں نے کہاکہ پلواما واقعہ کے بعد ایٹمی صلاحیت کے حامل جنوبی ایشیاءمیں جارحانہ اقدام اٹھائے گئے اور پاکستان کی طرف سے امن کے عظیم نصب العین کیلئے بھارتی پائلٹ کی رہائی کے بعد خطے سے جنگ کے بادلوں کو دور کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ 5 اگست کے بعد بھارتی حکومت کی جانب سے کشمیریوں کے خلاف نام نہاد آئینی چال چلی گئی جس کے خلاف دنیا بھر میں احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے۔پاکستان نے بھارت کی جانب سے کی جانے والی اس بڑی ناانصافی کے حل کیلئے عالمی برداری کے باضمیر اراکین سے رابطہ کیا۔ دنیا بھر میں بھارت کے ان اقدامات کی مذمت کی جارہی ہے جبکہ مختلف معاشرے بھارتی اقدامات کے خلاف اپنی ناراضگی کا اظہار کر رہے ہیں۔ 5 اگست 2019ءکو بھارت کے جارحانہ اقدام کے بعد مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کا نفاذ اور اضافی بھارتی فوجیوں کی تعیناتی کی گئی جس پر عالمی ذرائع ابلاغ، انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں اور بہت سے دیگر عالمی رہنماﺅں نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی زیر محاصرہ 80 لاکھ کشمیریوں کی حالت زار اور پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر اپنی تشویش کا اظہار کیا تاہم بعض افراد نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف عالمیگیر انسانی ہمدردی پر اپنے کاروبار اور تجارت کو ترجیح دی۔ انہوں نے اپنی تحریر میں مزید کہا کہ ایک بار اپنی پسند کی اس پالیسی کو دہرایا جارہا ہے جو جنگ عظیم دوم کا باعث بنی۔ انہوں نے کہاکہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایٹمی ٹیکنالوجی کے ہوتے ہوئے عالمی برداری جنگ عظیم جیسے صورتحال کیلئے تیار ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے اپنی تحریر میں مزید کہا کہ عالمی رہنماءبالخصوص امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جنوبی ایشیا میں امن کے حوالے سے مسئلہ کشمیر کی حساسیت سے بخوبی آگاہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان سے ملاقات کے دوران اور کئی دیگر مواقعوں پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے ثالثی کی پیشکش سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس بارے میں بخوئی آگاہ ہیں کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مسئلہ کشمیر کے حوالے سے کسی بھی قسم کی کشیدگی کے انتہائی سنگین نتائج برآمد ہوں گے جو نہ صرف پاکستان اور بھارت تک محدود ہوں گے بلکہ اس سے پوری دنیا متاثر ہوگی۔ انہوں نے دنیا کو بتایا کہ کشمیر نہ صرف علاقائی تنازعہ ہے بلکہ یہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی طرف سے کشمیری عوام کو حق خوداردایت دینے کے حوالے سے اب تک پورے نہ کئے جانے والے وعدوں کی کہانی ہے جن کو بھارت کے سابق وزیراعظم جواہرلعل نہرو نے بھی تسلیم کیا تھا۔








