پاکستان ادارہ شماریات نے ساتویں زراعت شماری بارے ملک بھر میں آگاہی ورکشاپس کا سلسلہ شروع کر دیا

اسلام آباد۔5جون (اے پی پی):پاکستان ادارہ شماریات نے ساتویں زراعت شماری بارے ملک بھر میں آگاہی ورکشاپس کا سلسلہ شروع کر دیا ہے جس کا مقصد زرعی سائنسدانوں، ماہرین تعلیم، محققین، زرعی کاروباری افراد، پالیسی سازوں اور عوام الناس کو پاکستان کی آئندہ زراعت شماری میں شامل کرنا ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ساتویں زراعت شماری 2024 میں مربوط ڈیجیٹل شمار کےنقطۂ نظر کااستعمال کیا جائے گا۔27مئی 2024ء …

اسلام آباد۔5جون (اے پی پی):پاکستان ادارہ شماریات نے ساتویں زراعت شماری بارے ملک بھر میں آگاہی ورکشاپس کا سلسلہ شروع کر دیا ہے جس کا مقصد زرعی سائنسدانوں، ماہرین تعلیم، محققین، زرعی کاروباری افراد، پالیسی سازوں اور عوام الناس کو پاکستان کی آئندہ زراعت شماری میں شامل کرنا ہے۔

پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ساتویں زراعت شماری 2024 میں مربوط ڈیجیٹل شمار کےنقطۂ نظر کااستعمال کیا جائے گا۔27مئی 2024ء کو سندھ یونیورسٹی آف ایگریکلچر ٹنڈوجام حیدرآباد میں پہلی جبکہ 30 مئی 2024ء کو یونیورسٹی آف ایگریکلچر پشاور میں دوسری ورکشاپ کے کامیاب انعقاد کے بعد 05 جون2024ء کو زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں آگاہی سازی کی تیسری ورکشاپ منعقد کی گئی ۔ یہ ورکشاپس اس اہم قومی مشق میں وسیع تر آگاہی اور شرکت کو فروغ دینے کے لئے پاکستان ادارہ شماریات کے جاری عزم کی نمائندگی کرتی ہیں۔

ورکشاپ میں یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اقرار احمد خاں(ستارۂ امتیاز ،ہلالِ امتیاز)، سیکرٹری لائیو سٹاک مسعود انور، ممبر ایگریکلچر (پی اینڈ ڈی بورڈ ) اسلم جاوید، ڈائریکٹر جنرل لائیو سٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ ڈاکٹر آصف سلیمان اور ڈائریکٹر جنرل کراپ رپورٹنگ ڈاکٹر عبدالقیوم نے شرکت کی۔ورکشاپ میں ماہرین تعلیم، محققین اور صوبائی اور ضلعی حکومتی اداروں کے سینئر حکام کے ساتھ ساتھ اہم صوبائی محکموں جیسے زراعت، لائیو سٹاک، کراپ رپورٹنگ سروس، بیورو آف سٹیٹسٹکس ، بورڈ آف ریونیو اور تعلیم کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔

ورکشاپ میں پاکستان ادارہ شماریات کے چیف شماریات ڈاکٹر نعیم الظفر ( ستارۂ امتیاز)،ممبر سپورٹ سروسز اینڈ ریسورس مینجمنٹ ،محمد سرور گوندل (ستارہ امتیاز)، ممبر سینسس و سروے ایاز الدین اور پاکستان ادارہ شماریات کی ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل رابعہ اعوان سمیت دیگر سینئر افسران بھی موجود تھے۔ تقریب کے دوران چیف شماریات ڈاکٹر نعیم الظفر نے زراعت کے شعبے میں زراعت شماری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئےپالیسی سازی میں قابلِ اعتماد اعدادو شمار کی اہمیت پر روشنی ڈالی ۔

انہوں نے پاکستان ادارہ شماریات اور یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد کو معلومات، تجربے اور علم کے تبادلے کے لئے مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ممبر (سپورٹ سروسز/ریسورس مینجمنٹ) اور ساتویں زراعت شماری کے فوکل پرسن محمد سرور گوندل (ستارۂ امتیاز ) نے شرکاء کو پاکستان ادارہ شماریات کی سرگرمیوں کے بارے میں آگاہ کیا جن میں جنوبی ایشیا کی سب سے بڑی مشق، ساتویں خانہ و مردم شماری، (پہلی ڈیجیٹل مردم شماری) اور شواہد پر مبنی پالیسی سازی کے لئے اعداد و شمار کی فراہمی کے لئے دیگر سروے شامل ہیں۔

انہوں نے پاکستان کی معیشت میں زرعی شعبے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی جی ڈی پی میں زراعت کا حصہ 24 فیصد ہے اور پاکستان کی افرادی قوت کا 38 فیصد زراعت سے وابستہ ہے لہٰذا پالیسی سازی کے لئے درست اور قابل اعتماد اعداد و شمار دستیاب ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زراعت شماری کی سرگرمیوں کی پیچیدگی ووسعت کو مدنظر رکھتے ہوئے، موثر انتظام اور کنٹرول کے لئے ڈیجیٹل حل کے ذریعے اعداد و شمار جمع کر کے انتظامی کاموں کو منظم طریقے سے سرانجام دینے کے لئے متعلقہ ماڈیولز کا استعمال کیا جائےگا۔ انہوں نے بتایا کہ ساتویں زراعت شماری کے لئے ٹیبلٹ ، لیپ ٹاپ ، انٹرنیٹ ڈیوائسز جیسے آئی ٹی ٹولز اور تکنیک کا استعمال کیا جائے گا۔

فیلڈ آپریشنز کے معاملے پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے انہوں نے ملک بھر میں فیلڈ دفاتر اور 157 ضلعی دفاتر پر مشتمل وسیع آپریشنل نیٹ ورک کے بارے میں آگاہ کیا۔انہوں نے بتایاکہ زراعت شماری کے فیلڈ آپریشن کا آغاز اگست 2024 میں بڑے زرعی گھرانوں کی گنتی کے ساتھ کیا جائے گا ،

جبکہ اگلے مراحل ستمبر اور اکتوبر میں ہوں گے ، جس سے ملک بھر کے تمام علاقوں کی جامع کوریج کو یقینی بنایا جائے گا۔ فیلڈ سٹاف کی ٹریننگ کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ ماسٹر ٹرینرز اسلام آباد میں تربیت حاصل کرنے کے بعد ضلعی سطح پر تربیت دیں گے۔انہوں نے بتایا کہ اعداد و شمار کے جامع تجزیے کے بعد زراعت شماری کی حتمی رپورٹ ستمبر 2025 میں جاری کی جائے گی۔