وزیراعظم شہباز شریف کا ایران امریکا ثالثی پر ایران کے اعتماد کا شکریہ، دوطرفہ تعاون اور امن کے فروغ کے عزم کا اعادہ
پاکستان اور ایران مشترکہ ترقی اور مستقبل کیلئے مل کر آگے بڑھیں گے، مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید مستحکم کریں گے، ایران ترقی کی نئی منازل طے کرے گا، وزیر اعظم محمد شہباز شریف

مزید خبریں
اسلام آباد۔23جون (اے پی پی):وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے امریکا اور ایران کے مابین ثالثی کیلئے ایران کے اعتماد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان امن اور خوشحالی کے لئے اپنا اہم کردار جاری رکھے گا، ایران ترقی کی نئی منازل طے کرے گا، مشترکہ ترقی اور مستقبل کے لئے مل کر آگے بڑھیں گے، مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید مستحکم کریں گے، ہماری خوشیاں اور غم سانجھے ہیں، مفاہمتی یادداشت میں بیلسٹک میزائل پروگرام سے متعلق کوئی بات نہیں، دوہرا معیار نہیں ہونا چاہئے۔
انہوں نے ان خیالات کا اظہار ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کے ساتھ وفود کی سطح پر ملاقات کے دوران ابتدائی کلمات میں کیا۔ ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سیّد عاصم منیر بھی شریک تھے ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ وہ اپنے بھائی مسعود پزشکیان کو دورہ پاکستان پر ایک بار پھر خوش آمدید کہتے ہیں ، آج ایران کے صدر اور ان کے وفد کا یہاں استقبال کرنا میرے لیے اعزاز ہے۔ انہوں نے دورہ پاکستان کے لئے دعوت قبول کرنے پر ایرانی صدر کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد اس دورے پر بے حد خوشی ہے۔ وزیر اعظم نے ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے لئے نیک تمنائوں کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ویژنری قیادت میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت اور جنگ بند ی کے لئے ایران نے وقار اور عزت کے ساتھ دستخط کئے۔ انہوں نے معصوم جانوں کے ضیاع پر ایرانی قیادت سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی قوم نے جرات اور بہادری سے صورت حال کا سامنا کیا۔ وزیراعظم نے پاکستان کی ثالثی پر اعتماد پر بھی ایران کی قیادت کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ حقیقی اخوت کو کبھی جوابدہ نہیں ہونا پڑتا، ہم ایران کو کبھی مایوس نہیں ہونے دیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ آج ہم یہاں روشن مستقبل کے لئے اکٹھے ہوئے ہیں ۔ انہوں نے پائیدار امن کیلئے پاکستان کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مفاہمتی یادداشت پر عزت و وقار کے ساتھ دستخط ہوئے۔ دونوں ممالک کے تعلقات قریبی بھائی چارے کی عمدہ مثال ہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ پاکستان امن اور خوشحالی کے لئے اہم کردار جاری رکھے گا۔ وزیراعظم نے ایران کی قیادت اور عوام کی دلیری، جذبے، عزم اور ہمت کو سراہا ۔ انہوں نے امن مذاکرات کے لئے فیلڈ مارشل سیّد عاصم منیر کے انتھک کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ اللہ کا فضل ہوا اور ثالثی کی کوششوں کو کامیابی ملی، مشترکہ کوششوں اور عزم سے اس مرحلے پر پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔ وزیراعظم نے کہا کہ برگن سٹاک میں تکنیکی سطح کے مذاکرات بھی اہمیت کے حامل رہے، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی، وزیر داخلہ محسن نقوی کا کردار بھی لائق تحسین ہے۔ انہوں نے امن کے لئے کوششوں میں تعاون پر دوست ممالک بالخصوص قطر، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کی قیادت کو بھی خراج تحسین پیش کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم مل کر مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید مستحکم کریں گے۔ اقتصادی تعاون، تجارت، سرمایہ کاری، تعمیر نو سمیت تمام شعبوں میں تعلقات کو وسعت دینے کے لئے پرعزم ہیں۔ انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ صدر مسعود پزشکیان کی قیادت میں ایران ترقی کی نئی منازل طے کرے گا، مشترکہ ترقی اور مستقبل کے لئے مل کر آگے بڑھیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ایران اور پاکستان ہمیشہ کے لئے دوست اور بھائی ہیں، ہماری خوشیاں اور غم سانجھے ہیں ۔ وزیر اعظم نے مشرق وسطیٰ، خلیج اور خطے میں امن اور ترقی کیلئے مل کر کام کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت میں بیلسٹک میزائل پروگرام سے متعلق کوئی بات نہیں، یہ بات ایجنڈے پر ہے نہ ہی اس حوالے سے کوئی گفتگو ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ شرپسند عناصر جنگ کے شعلوں کو بجھنے نہیں دینا چاہتے، وہ امن عمل کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں، بیلسٹک میزائل کے حوالے سے دوہرا معیار نہیں ہونا چاہئے، ایسا نہیں ہو سکتا کہ اور ممالک کے پاس بیلسٹک میزائل ہوں اور ایران کے پاس نہیں، اس نکتہ پر کسی قسم کا ابہام نہیں ہونا چاہئے۔








