پاکستان اور برطانیہ نے تجارت، سرمایہ کاری اور مصنوعی ذہانت سمیت مختلف شعبوں میں وسیع تر شراکت داری کو مشترکہ طور پر آگے بڑھانے پر اتفاق کیا ہے،نائب وزیراعظم اسحاق ڈار
پاکستان اور برطانیہ نے تجارت، سرمایہ کاری اور مصنوعی ذہانت سمیت مختلف شعبوں میں وسیع تر شراکت داری کو مشترکہ طور پر آگے بڑھانے پر اتفاق کیا ہے،نائب وزیراعظم اسحاق ڈار

مزید خبریں
لندن ۔28اگست (اے پی پی):نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان اور برطانیہ نے تجارت، سرمایہ کاری، مالیاتی شعبے میں ٹیکنالوجی کے فروغ اور مصنوعی ذہانت سمیت مختلف شعبوں میں وسیع تر شراکت داری کو مشترکہ طور پر آگے بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔پاکستان اور برطانیہ کے تعلقات کو مزید بڑھانے کے لیے پرعزم ہیں ،پاکستان کی معیشت اب مستحکم ہو چکی ہے،حکومت سنبھالنے کے بعد ملکی معیشت کو درست سمت میں گامزن کیا ہے۔انہوں نے یہ بات جمعہ کو لندن میں اپنے دورے کے دوران ہونے والی اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کے بارے میڈیا بریفنگ میں کہی ۔
انہوں نے برطانوی حکام کے ساتھ اپنے مذاکرات کو دونوں ممالک کے درمیان ’حکمت عملی پر مبنی تعاون کے نئے مرحلے کا آغاز قرار دیا۔نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ انہوں نے دولت مشترکہ کی سیکرٹری جنرل کے ساتھ انتہائی مفید ملاقات کی، جس میں پاکستان اور دولت مشترکہ کے درمیان دوستانہ تعلقات کے علاوہ رواں سال ہونے والے دولت مشترکہ کے سربراہان حکومت کے اجلاس (سی این او جی ایم) کی تیاریوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ دولت مشترکہ کی سیکرٹری جنرل نے وزیراعظم محمد شہباز شریف کو سربراہ اجلاس میں شرکت کی دعوت دی ہے۔
وزیراعظم کی شرکت کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی ہونا باقی ہے تاہم اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان ’’یقینی طور پر شرکت کرے گا‘‘۔ انہوں نے یاد دلایا کہ وہ خود بھی ماضی میں اس فورم پر پاکستان کی نمائندگی کر چکے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اصلاحاتی اقدامات اور نوجوانوں کی فلاح و بہبود سے متعلق پروگراموں پر بھی بات چیت ہوئی ہے ۔ دولت مشترکہ کی سیکرٹری جنرل نے نوجوانوں کے امور کے حوالے سے پاکستان کی بطور شریک چیئرمین کوششوں پر اطمینان کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ قدرتی آفات سے نمٹنے کے حوالے سے دولت مشترکہ کو پاکستان کی مہارت اور تجربہ فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے ۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ عالمی سطح پر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں پاکستان کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے تاہم اس کے باوجود پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے ہونے والی آفات کے حوالے سے دنیا کے دس سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں شامل ہے۔انہوں نے برطانیہ کے وزیر خارجہ کے ساتھ بھی ایک جامع ملاقات کی۔ انہوں نے بتایا کہ چند ہفتے قبل منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر برطانوی وزیر خارجہ کی تعیناتی کے فوراً بعد بھی ان سے ملاقات ہوئی تھی۔انہوں نے کہا کہ انسداد دہشت گردی اور انسداد منشیات کے شعبوں میں تعاون بھی مذاکرات کے ایجنڈے کا حصہ تھا تاہم اس مرتبہ بات چیت میں برطانیہ میں مقیم پاکستانی تارکین وطن پر خاص توجہ مرکوز رہی، جنہیں انہوں نے دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کے لیے ایک قیمتی اثاثہ قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک نے معیشت، سرمایہ کاری، مالیاتی شعبے میں ٹیکنالوجی کے فروغ، مصنوعی ذہانت اور آئی ٹی کے شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے پر اتفاق کیا ہے جبکہ دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے آئندہ اس شراکت داری کو مشترکہ طور پر آگے بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔نائب وزیراعظم نے بتایا کہ اس وقت برطانیہ کی منڈیوں میں آنے والی پاکستانی مصنوعات میں سے تقریباً 94 فیصد کوترجیحی تجارتی سہولت حاصل ہے، جس سے پاکستان بدستور مستفید ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ برطانیہ کی جانب سے اس تجارتی تعلق کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت کی مکمل حمایت کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں نئی حکومت کے قیام کے بعد انہیں پاکستان اور برطانیہ کے دوطرفہ تعلقات کو مزید آگے بڑھانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔نائب وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے برطانوی وزیر اسٹیفن ڈوٹی کے ساتھ بھی تفصیلی بات چیت کی۔
انہوں نے بتایا کہ وہ ماضی میں بھی مختلف حیثیتوں میں ان کے ساتھ کام کر چکے ہیں۔انہوں نے برطانیہ کے ساتھ تعاون کے دائرہ کار کو وسعت دینے کی ضرورت پر زوردیا ۔نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے برطانیہ کے قومی سلامتی کے مشیر سے بھی ملاقات کی، جس میں پاکستان کے ہائی کمشنر نے بھی شرکت کی۔انہوں نے بتایا کہ قومی سلامتی کونسل کی سطح کے اس نوعیت کے اجلاس معمول کے سکیورٹی پروٹوکول کے تحت عموماً کیمروں سے دور منعقد کیے جاتے ہیں، اسی وجہ سے اس ملاقات کے بارے میں وزارت خارجہ کی جانب سے صرف ایک پوسٹ جاری کی گئی اور اس کے ساتھ تصاویر جاری نہیں کی گئیں۔انہوں نے کہا کہ ملاقات میں واضح اور وسیع البنیاد امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
نائب وزیراعظم نے کہا کہ لندن میں اپنی تمام ملاقاتوں کے دوران انہوں نے محسوس کیا کہ ان کے تمام ہم منصبوں اور متعلقہ حکام نے امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوششوں میں پاکستان کے کردار کو سراہا۔انہوں نے کہا کہ برطانوی حکام نے اس معاملے پر وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت اور کردار کو بھی سراہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ برطانیہ کے قومی سلامتی کے مشیر سے مثبت ملاقات ہوئی ہے ،ملاقات میں امن و سلامتی سے متعلق امور پر تفصیلی بات چیت ہوئی ہے جبکہ برطانوی قومی سلامتی کے مشیر نے امریکہ-ایران ثالثی کے لئے پاکستان کے کردار کی تعریف کی ہےاوربرطانوی حکام نے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ برطانیہ نے ثالثی کے لئے وزیراعظم محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سیّد عاصم منیر کے کردار کو بھی سراہا ہے ۔نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی معیشت اب مستحکم ہو چکی ہے،حکومت سنبھالنے کے بعد ملکی معیشت کو درست سمت میں گامزن کیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان آج سفارتی طور پر پہلے سے کہیں زیادہ بہتر مقام پر ہے ۔انہوں نےکہا کہ بھارت کے خلاف عظیم فتح سے پاکستان کا عالمی وقار بلند ہوا ہے ،وزیراعظم محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سیّد عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے بھارت کا غرور خاک میں ملا دیا ،مسئلہ کشمیر حل کئے بغیر خطے میں امن ممکن نہیں ،بھارت نے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کیا ہے جبکہ بھارت سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کر ہی نہیں سکتا،یہ عالمی قوانین اور معاہدے کی صریحاً خلاف ورزی ہے،پاکستان بھارت کی آبی جارحیت کو جنگ تصور کرے گا ۔








