فصلوں کی باقیات کو آگ لگانا جرم، دھان کے مڈھ جلانے پر گرفتاری، سزا اور جرمانہ ہو سکتا ہے، محکمہ زراعت سیالکوٹ

محکمہ زراعت پنجاب نے کاشتکاروں کو خبردار کیا ہے کہ دھان، گندم، مکئی، کماد اور دیگر فصلوں کی باقیات اور مڈھوں کو آگ لگانا قانوناً جرم ہے اور خلاف ورزی کی صورت میں گرفتاری، سزا اور جرمانہ ہو سکتا ہے

سیالکوٹ۔28اگست (اے پی پی):محکمہ زراعت پنجاب نے کاشتکاروں کو خبردار کیا ہے کہ دھان، گندم، مکئی، کماد اور دیگر فصلوں کی باقیات اور مڈھوں کو آگ لگانا قانوناً جرم ہے اور خلاف ورزی کی صورت میں گرفتاری، سزا اور جرمانہ ہو سکتا ہے۔ترجمان محکمہ زراعت سیالکوٹ کے مطابق پنجاب ماحولیاتی تحفظ قوانین 2023 کی دفعہ 7 کے تحت فصلوں کی باقیات اور مڈھوں کو آگ لگانے پر پابندی عائد ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ پنجاب کے بعض علاقوں میں دھان کی اگیتی کاشتہ فصل کٹائی کے لیے تیار ہے، اس لیے کاشتکار دھان کی کٹائی کے بعد باقیات کو ہرگز آگ نہ لگائیں۔

ترجمان نے بتایا کہ دھان کے مڈھوں کو آگ لگانے سے پیدا ہونے والا دھواں سموگ میں اضافے کا باعث بنتا ہے، جو انسانی جانوں اور صحت کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ فصلوں کی باقیات جلانے سے فضائی آلودگی میں اضافہ ہونے کے ساتھ ساتھ زمین میں موجود مفید نامیاتی مادہ بھی متاثر ہوتا ہے جس سے زمین کی زرخیزی کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔محکمہ زراعت نے کاشتکاروں پر زور دیا ہے کہ وہ دھان کی باقیات کو تلف کرنے کے لیے سائنسی اور ماحول دوست طریقے اختیار کریں اور فصل کی کٹائی محکمہ زراعت پنجاب کے مقامی زرعی ماہرین کی مشاورت اور سفارشات کے مطابق کریں تاکہ سموگ اور فضائی آلودگی پر قابو پانے کے ساتھ زمین کی زرخیزی بھی برقرار رکھی جا سکے۔