پاکستان اور برطانیہ کا غیر قانونی امیگریشن، جعلی سٹوڈنٹ ویزوں اور منشیات کی سمگلنگ روکنے کے لیے مشترکہ اقدامات پر اتفاق
پاکستان اور برطانیہ کا غیر قانونی امیگریشن، جعلی سٹوڈنٹ ویزوں اور منشیات کی سمگلنگ روکنے کے لیے مشترکہ اقدامات پر اتفاق

مزید خبریں
اسلام آباد۔7اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری سے برطانوی وزیر مملکت برائے خارجہ امور سٹیفن ڈاؤٹی نے ملاقات کی جس میں پاک برطانیہ تعلقات، سکیورٹی امور اور مشترکہ مفادات کے شعبوں میں باہمی تعاون کو مزید فروغ دینے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات میں غیر قانونی امیگریشن، جعلی سٹوڈنٹ ویزوں کے ذریعے برطانیہ جانے کے رجحان کی روک تھام، انسداد دہشت گردی اور انسداد منشیات کے لیے موثر مشترکہ حکمت عملی اپنانے پر زور دیا گیا۔
دونوں ممالک نے غیر قانونی سرگرمیوں کے سدباب کے لیے جلد مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کرنے پر اتفاق کیا۔ اس موقع پر سکیورٹی و امیگریشن سے متعلق قائم مشترکہ ورکنگ گروپ کی 90 روزہ کارکردگی اور آئندہ کے لائحہ عمل کا بھی جائزہ لیا گیا۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جعلی سٹوڈنٹ ویزوں کے ذریعے بیرون ملک جانے کے رجحان کے خاتمے کے لیے سخت جانچ پڑتال ناگزیر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے برطانیہ سمگل کی جانے والی 55 میٹرک ٹن منشیات ضبط کیں جو انسداد منشیات کے لیے پاکستان کی سنجیدگی کا ثبوت ہے۔
ملاقات کے دوران مشرق وسطیٰ کی مجموعی صورتحال اور افغانستان کے ساتھ سرحدی معاملات پر بھی گفتگو کی گئی۔ دونوں رہنمائوں نے خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا اور مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے پاکستان کے مثبت کردار کو سراہا گیا۔برطانوی وزیر مملکت سٹیفن ڈاؤٹی نے پاکستان میں آن لائن فراڈ اور سائبر کرائمز میں ملوث منظم عناصر کے خلاف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھرپور کارروائیوں کی تعریف کی اور باہمی تعاون کو مزید وسعت دینے کی خواہش کا اظہار کیا۔ ملاقات میں پاکستان میں تعینات برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ، قونصلر سکیورٹی الاسڈئیر گرانٹ اور برطانوی وفد کے سیکرٹری میتھیو میک ماہون بھی موجود تھے۔








