پاکستان اور ماریشس کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری بڑھانے کے وسیع امکانات موجود ہیں ، دونوں ممالک فائدہ اٹھا سکتے ہیں ، سفیر ماریشس

ماریشس کے پاکستان میں سفیر منصور کریم بخش نےپاکستان سے تجارتی و ثقافتی روابط بڑھانے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ماریشس ایک جزیرہ ملک ہے جس کے چاروں طرف سمندر ہے اور آبادی تقریباً 1.2 ملین ہے، ملک نے 1968ء میں آزادی حاصل کی جبکہ 1992ء میں جمہوریہ بنا، ماریشس میں تعلیم مفت ہے اور ملک نے 1980ء کی دہائی سے سیاحت پر خصوصی توجہ دینا شروع کی …

اسلام آباد۔24اگست (اے پی پی):ماریشس کے پاکستان میں سفیر منصور کریم بخش نےپاکستان سے تجارتی و ثقافتی روابط بڑھانے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ماریشس ایک جزیرہ ملک ہے جس کے چاروں طرف سمندر ہے اور آبادی تقریباً 1.2 ملین ہے، ملک نے 1968ء میں آزادی حاصل کی جبکہ 1992ء میں جمہوریہ بنا، ماریشس میں تعلیم مفت ہے اور ملک نے 1980ء کی دہائی سے سیاحت پر خصوصی توجہ دینا شروع کی جس کے باعث آج سیاحت اس کی معیشت کا اہم شعبہ ہے، ماریشس کی معیشت مضبوط اور ملک پرامن ہے، سیاحت کے علاوہ آئی ٹی اور مینوفیکچرنگ بھی اہم شعبے ہیں، پاکستان اور ماریشس کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری بڑھانے کے وسیع امکانات موجود ہیں جن سے دونوں ممالک فائدہ اٹھا سکتے ہیں، دونوں ممالک کے عوام کو ایک دوسرے کے بارے میں مزید آگاہی دینے کی ضرورت ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو یہاں نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے پروگرام ’’میٹ دی پریس‘‘ میں شرکت کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ این پی سی آمدپر نیشنل پریس کلب کے صدر عبدالرزاق سیال اور سیکرٹری ڈاکٹر فرقان راوئو نے سفیر کا استقبال کیا اور انہیں خوش آمدید کہا۔ماریشس کے سفیر منصور کریم بخش نے کہا کہ وہ 2024ء سے پاکستان میں تعینات ہیں اور پاکستان آکر انہیں بہت اچھا محسوس ہوا، پاکستانی عوام انتہائی مہمان نواز، محبت کرنے والے اور دوستانہ ہیں، اس لیے انہیں یہاں کبھی اجنبیت کا احساس نہیں ہوا۔انہوں نے اپنے تعلیمی اور پیشہ ورانہ پس منظر کے بارے میں بتایا کہ ان کی تعلیم سوشل ورک اور بزنس ایڈمنسٹریشن کے شعبے میں ہے جبکہ وہ تعلیم، سماجی شعبے اور یونین سرگرمیوں سے بھی وابستہ رہے ہیں۔ سفارت کاری ان کے لیے نسبتاً نیا شعبہ ہے، تاہم کسی بھی نئے کام میں آنے سے قبل وہ بھرپور تحقیق کو ضروری سمجھتے ہیں۔

سفیر نے کہا کہ ماریشس نے 1980 کی دہائی سے سیاحت پر خصوصی توجہ دینا شروع کی جس کے باعث آج سیاحت اس کی معیشت کا اہم شعبہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ماریشس کی معیشت مضبوط اور ملک پرامن ہے۔ سیاحت کے علاوہ آئی ٹی اور مینوفیکچرنگ بھی اہم شعبے ہیں۔ پاکستان اور ماریشس کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری بڑھانے کے وسیع امکانات موجود ہیں جن سے دونوں ممالک فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔منصور کریم بخش نے بتایا کہ انہوں نے پاکستان کی وزارت تجارت کے حکام سے ملاقاتیں کی ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان آزاد تجارت کے امکانات پر بھی بات کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی سرمایہ کاروں کے لیے ماریشس میں مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع موجود ہیں جبکہ وہ پاکستان میں بھی سرمایہ کاری اور کاروباری روابط بڑھانے کے خواہاں ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان کی ترجیح پاکستان اور ماریشس کے درمیان بزنس ٹو بزنس روابط، طلبہ کے تبادلے، سیاحت اور تعلیمی تعاون کو فروغ دینا ہے۔ اس سلسلے میں ستمبر میں نوجوانوں کے حوالے سے ایک سیمینار منعقد کرنے کا بھی منصوبہ ہے جبکہ ہائر ایجوکیشن کمیشن سمیت متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطے کیے جا رہے ہیں۔

ماریشس کے سفیر نے کہا کہ ماریشس میں مختلف ممالک، خصوصاً افریقہ کے کئی ملکوں سے طلبہ تعلیم حاصل کرنے آتے ہیں، پاکستانی طلبہ کے لیے بھی ماریشس میں اعلیٰ تعلیم کے مواقع موجود ہیں اور وہ اس حوالے سے مزید معلومات اور اعدادوشمار حاصل کرکے پاکستانی طلبہ تک پہنچانے کی کوشش کریں گے۔انہوں نے پاکستان سے اپنی دیرینہ وابستگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اردو پڑھنے کا شوق رہا ہے اور پاکستان سے ان کی دلچسپی بہت پرانی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماریشس میں پاکستان کا ذکر عام طور پر محبت اور احترام کے ساتھ کیا جاتا ہے اور پاکستانی ثقافت و عوام کے بارے میں وہاں مثبت جذبات پائے جاتے ہیں۔صحافیوں کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے سفیر منصور کریم بخش نے کہا کہ ان کا سیاست سے بھی تعلق رہا ہے اور انہوں نے 2019ء میں انتخابات میں حصہ لیا، تاہم انہیں کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔

بعدازاں ان کا سفارت کاری کا سفر شروع ہوا۔ انہوں نے کہا کہ سیاست میں آنے سے قبل انہوں نے مالی اور پیشہ ورانہ استحکام حاصل کرنے کو ترجیح دی۔انہوں نے پاکستان میں منشیات کی روک تھام کے حوالے سے تعاون کے امکانات پر بھی بات کی اور کہا کہ اس شعبے میں آگاہی، روک تھام اور تجربات کے تبادلے کے ذریعے دونوں ممالک ایک دوسرے سے استفادہ کرسکتے ہیں۔ سفیر منصور کریم بخش نے علامہ محمد اقبال کے قول ’’کلچرل ایکسچینج میرا خواب ہے‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستان اور ماریشس کے درمیان ثقافتی، تعلیمی، تجارتی اور عوامی روابط مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔

پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے نیشنل پریس کلب کے صدر عبدالرزاق سیال نے کہا کہ پاکستان اور ماریشس کے درمیان دوستانہ تعلقات موجود ہیں، ماریشس خوبصورت سیاحتی ملک ہے اور پاکستانی میڈیا اس کے سیاحتی امکانات کو اجاگر کرنے میں اپنا کردار ادا کرسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ماریشس کے سفیر کو نیشنل پریس کلب مدعو کرنے کا مقصد دونوں ممالک کے تعلقات، سیاحت، تجارت اور سرمایہ کاری کے مواقع کے بارے میں صحافیوں کو آگاہ کرنا ہے۔ امید ہے کہ اس پروگرام کے بعد پاکستانی صحافی اور شہری ماریشس کے بارے میں مزید معلومات حاصل کریں گے اور وہاں کے سیاحتی مقامات کا دورہ بھی کریں گے۔اس موقع پر نیشنل پریس کلب کے سیکرٹری ڈاکٹر فرقان رائو نے کہا کہ پاکستان اور ماریشس کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے میڈیا کا کردار انتہائی اہم ہے۔

انہوں نے ماریشس کے سفیر سے مطالبہ کیا کہ پاکستانی شہریوں کے لیے ویزا پالیسی کو مزید آسان بنایا جائے تاکہ دونوں ممالک کے عوام، طلبہ، کاروباری افراد اور سیاح ایک دوسرے کے قریب آسکیں۔ڈاکٹر فرقان رائو نے کہا کہ نیشنل پریس کلب پاکستان اور ماریشس کے درمیان سیاحت، ثقافت اور عوامی روابط کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔ پاکستان کے شمالی علاقہ جات سمیت ملک بھر میں سیاحت کے بے شمار مواقع موجود ہیں اور ماریشس میں بھی پاکستان کی خوبصورتی کو متعارف کرانے کی ضرورت ہے۔پروگرام کے اختتام پر نیشنل پریس کلب کی جانب سے ماریشس کے سفیر منصور کریم بخش کو یادگاری شیلڈ پیش کی گئی۔