پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات کو تزویراتی اقتصادی شراکت داری میں تبدیل کرنے کےلئے وزیر اعظم عمران خان کے وژن پر عملدرآمد کےلئے دونوں ممالک کا سیاسی مشاورت اجلاس

اسلام آباد ۔ 2 مارچ (اے پی پی) پاکستان اور متحدہ عرب امارات نے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات کو طویل المیعاد تزویراتی اقتصادی شراکت داری میں تبدیل کرنے کے وژن پر عملدرآمد شروع ہونے کے بعد اس پر پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔ متحدہ عرب امارات کے دو طرفہ سیاسی مشاورت کا افتتاحی اجلاس منعقد ہوا جس میں وفد کی قیادت …

اسلام آباد ۔ 2 مارچ (اے پی پی) پاکستان اور متحدہ عرب امارات نے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات کو طویل المیعاد تزویراتی اقتصادی شراکت داری میں تبدیل کرنے کے وژن پر عملدرآمد شروع ہونے کے بعد اس پر پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔ متحدہ عرب امارات کے دو طرفہ سیاسی مشاورت کا افتتاحی اجلاس منعقد ہوا جس میں وفد کی قیادت متحدہ عرب امارات کے بین الاقوامی تعاون اور سیاسی امور کے معاون وزیر خارجہ خلیفہ شاہین المار نے کی۔ پاکستانی وفد کی قیادت وزارت خارجہ میں مشرق وسطیٰ کے ایڈیشنل سیکرٹری ڈاکٹر خالد ایچ میمن نے کی۔ دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق یہ مشاورتی فورم سیاسی، اقتصادی، تجارتی، سلامتی قونصلر اور عوام سے عوام کے مابین دو طرفہ تعلقات کے پورے عمل پر مرکوز ہے۔ دونوں فریقین نے دوطرفہ سیاسی مشاورت میں اتفاق کیا کہ مشترکہ مفاد کے تمام امورپر باقاعدگی سے تبادلہ خیال کیلئے ایک طریقہ کار فراہم کرے گا۔ موجودہ تعلقات کو مزید وسعت دینے، باہمی تبادلوں اور اعلیٰ سطح کے دوروں کی رفتار کو بھی بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا۔ متحدہ عرب امارات کو 5 اگست 2019ءکو مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے بھارت کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات اور اس کے بعد مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم، بھارت میں جاری امتیازی سلوک کی پالیسیوں، علاقائی پیش رفت بشمول افغان امن عمل اور مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے بارے میں بریف کیا گیا۔ متحدہ عرب امارات کے بین الاقوامی تعاون اور سیاسی امور کے معاون وزیر خارجہ خلیفہ شاہین المار نے سیکرٹری خارجہ سہیل محمود سے ملاقات کی۔ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے مابین دیرینہ تعلقات ہیں جو باہمی خیرسگالی اور قریبی تعاون پر استوار ہیں۔ متحدہ عرب امارات کے ساتھ دو طرفہ سیاسی مشاورت کے پلیٹ فارم سے مختلف شعبوں میں بڑھتے ہوئے دو طرفہ تعاون کو تقویت دینے کا ایک قدم ہے۔

مزید خبریں