پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی تعاون میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے، خلیل ہاشمی

پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی تعاون میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے، خلیل ہاشمی

کراچی۔ 11 مئی (اے پی پی):چین میں پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان دوطرفہ اقتصادی تعاون کے فروغ میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور گزشتہ دو برسوں کے دوران 300 سے زائد مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) اور تین درجن سے زائد جوائنٹ وینچر معاہدوں پر دستخط کیے گئے ہیں جن کی مجموعی مالیت 13 ارب امریکی ڈالر سے تجاوز کرچکی ہے۔

کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں پیر کو چین کے آئی بی آئی گروپ کے 70 رکنی اعلیٰ سطحی وفد کے دورے کے موقع پر منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے خلیل ہاشمی نے کہا کہ اگرچہ ایم او یوز طویل المدتی تعاون کی جانب ابتدائی قدم ہوتے ہیں تاہم حکومتِ پاکستان نے ان پر مؤثر عملدرآمد اور انہیں عملی کاروباری معاہدوں میں تبدیل کرنے کیلئے ایک جامع نظام قائم کیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں ایم او یوز کو باقاعدہ معاہدوں میں تبدیل کرنے کی شرح تقریباً 30 فیصد تک پہنچ چکی ہے جو حکومتی فالو اپ اور عملدرآمد کے مؤثر نظام کی عکاسی کرتی ہے۔ جاری کردہ پریس رلیز کے مطابق ا جلاس میں آئی بی آئی گروپ چین کی ڈائریکٹر اور وفد کی سربراہ لیو جون ژائی، چیئرمین بزنس مین گروپ زبیر موتی والا، وائس چیئرمین بی ایم جی میاں ابرار احمد اور طارق یوسف، صدر کراچی چیمبر ریحان حنیف، سینئر نائب صدر محمد رضا، نائب صدر عارف لاکھانی، سابق صدور، ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین اور چینی وفد کے ارکان شریک تھے۔

اس موقع پر کراچی چیمبر اور آئی بی آئی گروپ کے درمیان ڈیجیٹل معیشت اور صنعتی ترقی کے فروغ کیلئے اسٹریٹیجک شراکت داری قائم کرنے کے سلسلے میں مفاہمتی یادداشت پر صدر کے سی سی آئی ریحان حنیف اور آئی بی آئی گروپ کی ڈائریکٹر لیو جون ژائی نے دستخط بھی کیے۔توانائی اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں ابھرتے ہوئے مواقع پر روشنی ڈالتے ہوئے خلیل ہاشمی نے کہا کہ پاکستان اس وقت دنیا کی بڑی بیٹری ساز کمپنی سی اے ٹی ایل کے ساتھ فعال مذاکرات کر رہا ہے جو لیتھیئم آئن اور سوڈیم بیسڈ بیٹری ٹیکنالوجی میں مہارت رکھتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اس کمپنی کو ملک میں سرمایہ کاری اور تعاون پر آمادہ کر رہا ہے اور امید ظاہر کی کہ وزیراعظم کے آئندہ دورہ چین کے دوران اس حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ عالمی منڈی بتدریج لیتھیئم آئن بیٹریوں سے سوڈیم بیسڈ بیٹری ٹیکنالوجی کی جانب منتقل ہو رہی ہے جبکہ پاکستان کے پاس اس صنعت کیلئے درکار خام مال وافر مقدار میں موجود ہے۔