پاکستان اپنے آبی حقوق، قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا، دانیال چوہدری

وفاقی پارلیمانی سیکرٹری برائے اطلاعات و نشریات بیرسٹر دانیال چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان اپنے آبی حقوق، قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

راولپنڈی۔7جولائی (اے پی پی):وفاقی پارلیمانی سیکرٹری برائے اطلاعات و نشریات بیرسٹر دانیال چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان اپنے آبی حقوق، قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے سے متعلق یکطرفہ اقدامات بین الاقوامی قانون، معاہداتی ذمہ داریوں اور مشترکہ بین الاقوامی آبی گزرگاہوں سے متعلق اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہیں جنہیں کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔ اپنے بیان میں بیرسٹر دانیال چوہدری نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ قانونی طور پر مؤثر بین الاقوامی معاہدہ ہے جسے کوئی بھی فریق یکطرفہ طور پر معطل یا غیر مؤثر نہیں بنا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ معاہدے کو کمزور کرنے کی ہر کوشش نہ صرف پاکستان کے 24 کروڑ سے زائد عوام کی آبی سلامتی بلکہ عالمی معاہداتی نظام کی ساکھ کے لیے بھی خطرہ ہے۔ وفاقی پارلیمانی سیکرٹری نے واضح کیا کہ پانی پاکستان کے لیے بنیادی قومی سلامتی کا معاملہ ہے اور سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کے حصے کے پانی کو روکنے، موڑنے یا اسے دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کسی بھی کوشش کو پاکستان اپنی قومی سلامتی کے خلاف انتہائی سنگین اقدام تصور کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مؤقف بالکل واضح ہے کہ پاکستان کے جائز آبی حقوق سلب کرنے یا پانی روکنے کی کسی بھی کوشش کو "اقدام جنگ” (Act of War) تصور کیا جائے گا۔ پاکستان اپنے قومی مفادات، خودمختاری اور عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی قانون کے تحت دستیاب تمام سفارتی، سیاسی اور قانونی ذرائع استعمال کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ بیرسٹر دانیال چوہدری نے کہا کہ پاکستان امن، مذاکرات اور اقوام متحدہ کے منشور کے مطابق تنازعات کے پرامن حل پر یقین رکھتا ہے تاہم امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) میں چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی زیر صدارت ہونے والی 276ویں کور کمانڈرز کانفرنس میں بھی قومی سلامتی کمیٹی کے فیصلوں کی توثیق کرتے ہوئے پاکستان کے آبی حقوق کے ہر قیمت پر تحفظ کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں حکومت، پارلیمنٹ، مسلح افواج اور پوری قوم پاکستان کے آبی حقوق کے تحفظ کے معاملے پر متحد ہیں۔ وفاقی پارلیمانی سیکرٹری نے عوامی جمہوریہ چین کے اس اصولی مؤقف کا بھی خیرمقدم کیا جس میں بین الاقوامی قانون، معاہداتی ذمہ داریوں کے احترام اور مذاکرات کے ذریعے تنازعات کے حل پر زور دیا گیا ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ، دوست ممالک، بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور سندھ طاس معاہدے سے وابستہ تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ معاہدے کی سالمیت برقرار رکھنے اور بین الاقوامی قوانین کے احترام کو یقینی بنانے کے لیے اپنا مؤثر کردار ادا کریں۔ بیرسٹر دانیال چوہدری نے کہا کہ پاکستان اپنے جائز آبی حقوق کے تحفظ کے لیے تمام سفارتی، سیاسی اور قانونی ذرائع بروئے کار لاتا رہے گا کیونکہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن صرف بین الاقوامی قانون کے احترام، معاہدوں پر عمل درآمد اور بامعنی مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

مزید خبریں