پاکستان ایران سے خام تیل کی درآمدات پر سالانہ 340 ملین ڈالر کی بچت کرسکتا ہے ، رپورٹ
پاکستان ایران سے خام تیل کی درآمدات پر سالانہ 340 ملین ڈالر کی بچت کرسکتا ہے ، رپورٹ

مزید خبریں
اسلام آباد۔26جون (اے پی پی):پاکستان ایران سے خام تیل کی درآمدات پر سالانہ 340 ملین ڈالر کی بچت کرسکتا ہے ، اگر ایران پرعائد عالمی اقتصادی پابندیاں اٹھا لی جاتی ہیں تو پاکستان اور ایران دو طرفہ تجارت میں بھی خاطر خواہ اضافہ یقینی ہے۔ ٹاپ لائن سکیورٹیز کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق 2012 میں ایران پر اقتصادی پابندیوں میں سختی سے قبل پاکستان اور ایران کے تاریخی مستحکم تجارتی تعلقات تھے اور مالی سال 2010 میں دوطرفہ تجارت کا حجم 1.2ارب ڈالر سے زیادہ تھا ۔
رپورٹ کےمطابق جب ایران پر عائد عالمی اقتصادی پابندیاں سخت کی گئیں تو پاک ایران دو طرفہ تجارت میں کمی واقع ہوئی ۔ ٹاپ لائن سکیورٹیز نے کہا ہے کہ پاکستان پابندیوں سے قبل ایران کو چاول ، کینو ، آم ، آڑو ،ٹیکسٹائل مصنوعات ، ادویات اور آلات جراحی سمیت کھیلوں کا سامان وغیرہ برآمد کرتا تھا جبکہ ایران سے خام تیل ، صنعتی خام مال سمیت مختلف مصنوعات درآمد کی جاتی تھیں ۔
رپورٹ کےمطابق مستقبل میں پاکستان اور ایران سرحدی علاقوں میں خصوصی اقتصادی زونز کے تحت دوطرفہ تجارت کو 10 ارب ڈالر تک توسیع دینے کیلئے پر عزم ہیں ۔ اگر تجارتی رابطے بحال ہو جاتے ہیں تو نہ صرف پاکستان کی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا بلکہ پٹرولیم منصوعات درآمدات سے پاکستان دس سے بیس فیصد پر کم قیمت کے نتیجہ میں سالانہ 340ملین ڈالر تک کی بچت کر سکتا ہے ۔ اسی طرح سٹیل اور صنعتی خام مال کی درآمدات سے بھی قیمتی زرمبادلہ کی بھی بچت ہوگی ۔








