اسلام آباد۔1مارچ (اے پی پی):وفاقی وزارتِ مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی نے توہین آمیز مواد کے سدِ باب اور عوامی آگاہی کے لیے ملک بھر بشمول آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں سرکاری طور پر 15 مارچ کو ’’یومِ تحفظِ ناموسِ رسالت‘‘ منانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ وزارتِ مذہبی امور کی جانب سے یہ دن بھرپور انداز سے منانے کے لیے تمام صوبائی حکومتوں، متعلقہ …
پاکستان بھر میں 15 مارچ کو ’’یومِ تحفظِ ناموسِ رسالت‘‘ منانے کا فیصلہ،وزارت مذہبی امور نے وفاقی وزارتوں،اداروں، صوبائی سیکرٹریز مذہبی امورواوقاف ،جید علماء کرام اور مدارس تنظیموں کو خطوط ارسال کر دیئے

مزید خبریں
اسلام آباد۔1مارچ (اے پی پی):وفاقی وزارتِ مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی نے توہین آمیز مواد کے سدِ باب اور عوامی آگاہی کے لیے ملک بھر بشمول آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں سرکاری طور پر 15 مارچ کو ’’یومِ تحفظِ ناموسِ رسالت‘‘ منانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ وزارتِ مذہبی امور کی جانب سے یہ دن بھرپور انداز سے منانے کے لیے تمام صوبائی حکومتوں، متعلقہ وفاقی وزارتوں اور ذیلی اداروں کو باقاعدہ مراسلے ارسال کر دیئے گئے ہیں۔
یہ فیصلہ لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بنچ کے اس تاریخی حکم کی تعمیل میں کیا گیا ہے جس میں سوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فارمز پر موجود متنازع اور توہین آمیز مواد کی روک تھام کے لیے ٹھوس اقدامات کی ہدایت کی گئی تھی ۔ عدالتِ عالیہ کے احکامات کی روشنی میں حکومت نے ایک جامع آگاہی مہم کا فریم ورک تیار کیا ہے تاکہ مقدس ہستیوں کی ناموس کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے ۔وزارت کی جانب سے جاری کردہ مراسلےمیں بتایا گیا کہ اس مہم کا بنیادی مقصد عوام الناس میں متنازع مواد کے حوالے سے شعور بیدار کرنا ہے، جس کے لیے مختلف شعبہ ہائے زندگی کو متحرک کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں ۔
اس سلسلے میں صوبائی سیکرٹریز مذہبی امور و اوقاف کو جمعہ کے خطبات کے ذریعے آگاہی پیدا کرنے ، تمام تعلیمی اداروں میں خصوصی مہم چلانے اور پرنٹ، الیکٹرانک و سوشل میڈیا کے ذریعے توہین آمیز مواد کے سدباب کے لیے بھرپور تشہیر کرنے کی ہدایت دی گئی ہے ۔
وزارتِ مذہبی امور نے اس سلسلے میں وفاقی وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت ، وزارتِ داخلہ اور وزارتِ اطلاعات و نشریات کو عملی اقدامات کے لیے خطوط ارسال کر دیے ہیں ۔ اس کے علاوہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی ، پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی ، ہائر ایجوکیشن کمیشن ، فیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن ، نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی ، نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ ، پاکستان براڈ کاسٹنگ کارپوریشن اور پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کو بھی اس مہم کو موثر بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
اس مہم میں تمام مکاتبِ فکر کی نمائندہ تنظیموں اور مدارس کو بھی شامل کیا گیا ہے، جن میں وفاق المدارس العربیہ ، وفاق المدارس شیعہ ، وفاق المدارس السلفیہ ، رابطہ المدارس ، اور منہاج القرآن سمیت دیگر شامل ہیں ۔ مولانا محمد حنیف جالندھری ، مفتی منیب الرحمن ، علامہ افضل حیدری اور سینیٹر حافظ عبدالکریم جیسی جید شخصیات کو بھی اس مہم کا حصہ بنایا گیا ہے تاکہ قومی سطح پر ایک مربوط پیغام عام کیا جا سکے۔








