وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ پاکستان توانائی کے شعبے میں طویل مدتی تحفظ یقینی بنانے کے لیے توانائی کے ذرائع میں تنوع، مقامی پیداوار میں اضافے اور عالمی سرمایہ کاری کے فروغ پر توجہ دے رہا ہے، پاکستان آزمائش کی اس گھڑی میں سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے
پاکستان توانائی کے ذرائع میں تنوع، مقامی پیداوار میں اضافے اور عالمی سرمایہ کاری کے فروغ پر توجہ دے رہا ہے، وفاقی وزیر پٹرولیم

مزید خبریں
ریاض۔12اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ پاکستان توانائی کے شعبے میں طویل مدتی تحفظ یقینی بنانے کے لیے توانائی کے ذرائع میں تنوع، مقامی پیداوار میں اضافے اور عالمی سرمایہ کاری کے فروغ پر توجہ دے رہا ہے، پاکستان آزمائش کی اس گھڑی میں سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے۔ترجمان پٹرولیم ڈویژن کے مطابق انہوں نے یہ بات پیر کوسعودی عرب کے شہر ریاض میں 17ویں انٹرنیشنل انرجی فورم (آئی ای ایف) کے وزارتی اجلاس کے موقع پر کہی۔ وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی دعوت پر اجلاس میں شرکت کی۔وفاقی وزیرعلی پرویز ملک نے کہا کہ اجلاس میں ان کی شرکت وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی خصوصی ہدایات پر سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی یکجہتی کا اظہار ہے۔ انہوں نے سعودی سرزمین پر حوثی ملیشیا کے دہشت گرد حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا۔ وفاقی وزیر نے ’’پائیدار توانائی کے حل میں سرمایہ کاری اور تجارت: توانائی کو صاف، قابل رسائی اور سستا بنانا‘‘ کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی توانائی کا شعبہ سرمایہ کاری کے ایک نئے دور میں داخل ہو رہا ہےجس میں توانائی کا تحفظ، قابل برداشت قیمتیں اور پائیداری ایک ساتھ آگے بڑھنا ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاری صرف قابل تجدید توانائی تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ ہائیڈروکاربن، اہم معدنیات اور بجلی کے گرڈز اور پائپ لائنوں سمیت بنیادی ڈھانچے میں بھی سرمایہ کاری ضروری ہے۔انہوں نے 2026 کے غیر معمولی عالمی توانائی بحران کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کے اثرات تیل اور گیس سے بڑھ کر جہاز رانی اور انشورنس کے شعبوں تک پھیل گئے تھے۔درآمدی توانائی پر زیادہ انحصار کےباوجود پاکستان نے حکومتی اقدامات اور سعودی عرب، قطر اور کویت سمیت برادر ممالک کے تعاون سے توانائی کے بڑے ذرائع کی راشن بندی کیے بغیر اس بحران کا سامنا کیا۔ انہوں نے پاکستان کے ساتھ تعاون کو ذاتی طور پر آگے بڑھانے پر شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان کا شکریہ ادا کیا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان طویل مدتی توانائی تحفظ کے لیے سٹریٹجک ذخائر کی تیاری، عالمی معیار کی بانڈڈ ریزروز سکیم، مقامی توانائی کی پیداوار میں اضافے، ریفائنریز اور ٹینک فارمز سمیت اہم بنیادی ڈھانچے کی ترقی، مسابقتی بجلی و گیس مارکیٹس اور ہدف پر مبنی ریلیف نظام کے قیام پر کام کر رہا ہے۔انہوں نے زور دیا کہ بین الاقوامی سرمایہ کاری اور تجارتی فریم ورک میں جدت اور پائیداری کے ساتھ توانائی کی قابل برداشت قیمتوں، مساوات اور رسائی کو بھی متوازن اہمیت دی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مستقبل کی نسلوں کے لیے مشترکہ توانائی تحفظ کے اہداف کے حصول میں انٹرنیشنل انرجی فورم (آئی ای ایف )کے تمام رکن ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنے کا خواہاں ہے۔اجلاس کے موقع پر وفاقی وزیر پٹرولیم نے لیبیا کے وزیر تیل و گیس خلیفہ رجب عبدالصادق سے دوطرفہ ملاقات کی جس میں تیل و گیس کے شعبے میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وفاقی وزیر نے اپنے لیبیائی ہم منصب کو بتایا کہ پاکستان نےاپنی ریفائنریز کو لیبیا سے خام تیل کی درآمد کے امکانات کا جائزہ لینے کی ترغیب دی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان توانائی تحفظ کو مضبوط بنانے اور آبنائے ہرمز اور آبنائے باب المندب سمیت اہم بحری راستوں میں ممکنہ رکاوٹوں کی صورت میں متبادل ذرائع برقرار رکھنے کے لیے خام تیل کی درآمد کے ذرائع میں تنوع چاہتا ہے۔لیبیا کے وزیر نے پاکستان کو اپنے ملک کے لیے ایک اہم ملک قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ لیبیا کی قومی آئل کمپنی کی حوصلہ افزائی کریں گے کہ وہ پاکستانی کمپنیوں کے لیے خام تیل کی زیادہ مقدار مختص کرے۔ انہوں نے کہا کہ لیبیا اپنی ریفائنریز کو جدید بنانے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے اور اس ضمن میں پاکستان کے تجربات سے استفادہ کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔علی پرویز ملک نے قطر کے وزیر توانائی سعد شیریدہ الکعبی سے ناشتے پر تفصیلی ملاقات بھی کی جس میں مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کے شعبے میں تعاون کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔ترکیہ کے وزیر توانائی الپرسلان بایراکتار نے بھی وفاقی وزیر پٹرولیم سے ملاقات کی اور کہا کہ وہ آئندہ ماہ پاکستان کا دورہ کرنے کے منتظر ہیں جہاں وہ دریائے سندھ کے طاس میں ڈیٹا اکٹھا کرنے کے عمل کے آغاز کے لیے ترک پٹرولیم کارپوریشن (ٹی پی اے او) کے زلزلہ پیما جہاز کی حوالگی کے سلسلے میں تقریب میں شرکت کریں گے۔وفاقی وزیر نے عالمی توانائی کے شعبے سے وابستہ دیگر اہم شخصیات، وزرا اور توانائی کمپنیوں کے سربراہان سے بھی ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں عالمی توانائی تعاون، توانائی کی فراہمی کے ذرائع میں تنوع،مضبوط بنیادی ڈھانچے اور محفوظ، سستی اور پائیدار توانائی کے مستقبل کے لیے سرمایہ کاری کے حوالے سے پاکستان کے عزم کو اجاگر کیا گیا۔






