پاکستان زراعت کے شعبے میں پرتگال کے ساتھ تعاون کو مزید فروغ دینے، تحقیق اور ٹیکنالوجی کی منتقلی میں گہری دلچسپی رکھتا ہے، رانا تنویر حسین
پاکستان زراعت کے شعبے میں پرتگال کے ساتھ تعاون کو مزید فروغ دینے، تحقیق اور ٹیکنالوجی کی منتقلی میں گہری دلچسپی رکھتا ہے، رانا تنویر حسین

مزید خبریں
اسلام آباد۔10ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ پاکستان زراعت کے شعبے میں پرتگال کے ساتھ تعاون کو مزید فروغ دینے بالخصوص زیتون کی کاشت، زیتون کے تیل کی پیداوار، تحقیق اور ٹیکنالوجی کی منتقلی میں گہری دلچسپی رکھتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو یہاں پرتگال کے سفیر پائولو میگوئل گویڈیز ڈومنگیوز کے ساتھ اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا جس میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعاون بالخصوص پاکستان کے زیتون کے شعبے کی ترقی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کے اعلامیہ کے مطابق اس موقع پر وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے پرتگال کے اپنے حالیہ دورہ کو انتہائی کامیاب قرار دیتے ہوئے پرتگال کے زیتون کے تیل کے شعبے میں جدید مشینری، ٹیکنالوجی اور فنی مہارت کو سراہا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان زیتون کے جرثومہ جاتی ذخیرے (Germplasm)، جدید باغات کے انتظام، موثر آبپاشی، مشینی طریقے سے زیتون کی برداشت، زیتون کے تیل کے اخراج اور بعد از برداشت پراسیسنگ کے شعبوں میں پرتگال کے ساتھ تعاون کا خواہاں ہے۔رانا تنویر حسین نے کہا کہ پاکستان اپنے تکنیکی ماہرین کو خصوصی تربیت کے لیے پرتگال بھیجنا چاہتا ہے جبکہ پرتگالی ماہرین کو بھی پاکستان کا دورہ کرنا چاہیے تاکہ وہ مقامی حالات کا جائزہ لے کر موزوں ٹیکنالوجیز اور جدید طریقہ کار کی سفارشات پیش کر سکیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پرتگال کے وزیر زراعت کے متوقع دورہ پاکستان کا منتظر ہے، جس کے دوران زرعی تعاون میں مزید پیش رفت اور ممکنہ مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) پر غور بھی متوقع ہے۔وفاقی وزیر نے زیتون کے شعبے میں تعاون کے لیے پاکستان۔پرتگال مشترکہ ورکنگ گروپ قائم کرنے کی تجویز بھی پیش کی، جو ترجیحی شعبوں کی نشاندہی، ماہرین کے تبادلوں، مشترکہ تحقیق و تربیتی پروگراموں کے فروغ اور زیتون کی مکمل ویلیو چین میں سرمایہ کاری و مشترکہ منصوبوں کے لیے سہولت کاری کرے گا۔انہوں نے پاکستان میں جنگلی زیتون کے جرثومہ جاتی ذخیرے کی وسیع صلاحیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پرتگال کے ساتھ تعاون سے خشک سالی اور شدید گرمی سے متاثرہ علاقوں کے لیے موسمیاتی تبدیلیوں کے مقابل زیادہ مضبوط اور زیادہ پیداوار دینے والی زیتون کی اقسام تیار کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
رانا تنویر حسین نے پرتگالی کمپنیوں اور سرمایہ کاروں کو زیتون کے تیل کے اخراج و پراسیسنگ، بوتلنگ، پیکیجنگ، برانڈنگ اور ویلیو ایڈڈ مصنوعات کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے کی دعوت بھی دی۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی زیتون کے تیل کو عالمی منڈیوں میں مسابقتی بنانے کے لیے معیار کے کنٹرول، سرٹیفیکیشن، ٹریس ایبلٹی اور بین الاقوامی معیار کے تقاضوں کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔پرتگال کے سفیر پاؤلو میگوئل گویڈیز ڈومنگیوز نے زراعت اور زیتون کے شعبے میں پاکستان کے ساتھ تعاون مزید وسعت دینے میں پرتگال کی دلچسپی کا اظہار کیا۔
انہوں نے پاکستان میں زیتون کی کاشت کے بڑھتے ہوئے امکانات کو سراہتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان ادارہ جاتی، تکنیکی اور نجی شعبے کے روابط مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔فریقین نے اس امر پر بھی اتفاق کیا کہ ٹیکنالوجی، تربیت، تحقیق، سرمایہ کاری اور مارکیٹ ڈویلپمنٹ کے شعبوں میں باہمی تعاون کو فروغ دے کر پاکستان کی ابھرتی ہوئی زیتون کے تیل کی صنعت کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا جا سکتا ہے۔








