انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز اسلام آباد (آئی ایس ایس آئی) کے سینٹر فار سٹریٹجک پرسپیکٹیوز کے زیر اہتمام میاں وحید الدین کی تصنیف کردہ آڈیو ویژول کتاب روٹس بینیتھ دی سنو ( Roots Beneath the Snow )کی تقریب رونمائی منعقد ہوئی، کتاب میں ناروے میں مقیم پاکستانی تارکین وطن کے تجربات، معاشرے میں انضمام کے عمل اور تارک وطن برادریوں کے اپنے آبائی ملک کے ساتھ قائم دیرینہ تعلقات …
پاکستانی تارکین وطن کی ناروے میں زندگی اور معاشرتی انضمام پر کتاب ’Roots Beneath the Snow‘ کی تقریب رونمائی

مزید خبریں
اسلام آباد۔10ستمبر (اے پی پی):انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز اسلام آباد (آئی ایس ایس آئی) کے سینٹر فار سٹریٹجک پرسپیکٹیوز کے زیر اہتمام میاں وحید الدین کی تصنیف کردہ آڈیو ویژول کتاب روٹس بینیتھ دی سنو ( Roots Beneath the Snow )کی تقریب رونمائی منعقد ہوئی، کتاب میں ناروے میں مقیم پاکستانی تارکین وطن کے تجربات، معاشرے میں انضمام کے عمل اور تارک وطن برادریوں کے اپنے آبائی ملک کے ساتھ قائم دیرینہ تعلقات کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔
جمعرات کو یہاں آئی ایس ایس آئی کی جاری پریس ریلیز کے مطابق تقریب سے اپنے ابتدائی خطاب میں سینٹر فار سٹریٹجک پرسپیکٹیوز کی ڈائریکٹر ڈاکٹر نیلم نگار نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے متعلق گفتگو اکثر اعداد و شمار بالخصوص تارکین وطن کی تعداد، ترسیلات زر اور معاشی خدمات تک محدود رہتی ہے تاہم یہ اعداد و شمار صرف کہانی کا ایک حصہ ہیں کیونکہ ان کے پیچھے ایسے انسان موجود ہیں جن کی اپنی یادیں، تجربات، خواہشات اور وطن کے ساتھ دیرینہ وابستگیاں ہیں۔آئی ایس ایس آئی کے بورڈ آف گورنرز کے چیئرمین سفیر خالد محمود نے کہا کہ کتاب ہجرت اور انضمام کے موضوع کو علمی تحقیق اور کہانی بیان کرنے کے امتزاج کے ذریعے اجاگر کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کتاب 1970ء کی دہائی میں پاکستانی تارکین وطن کے ناروے پہنچنے کے سفر، ان کی مشکلات، معاشی ترقی، خاندانوں کے دوبارہ ملاپ، آبادکاری اور اپنی روایتی اقدار کو نئے معاشرے کی اقدار کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی کوششوں کو بیان کرتی ہے۔ وفاقی وزیر برائے اوورسیز پاکستانی و ترقی انسانی وسائل چوہدری سالک حسین کی نمائندگی کرتے ہوئے ورکرز ویلفیئر فنڈ کے سیکرٹری ذوالفقار احمد نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی ترسیلات زر، سرمایہ کاری، علم اور مہارت کے ذریعے اپنے خاندانوں اور وطن کے ساتھ مضبوط روابط برقرار رکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ریاست کو اس امر کو یقینی بنانا چاہیے کہ بیرون ملک مواقع کی تلاش میں جانے والے پاکستانیوں کو ضروری مہارتوں سے آراستہ کیا جائے اور وہ ان مواقع سے محفوظ، قانونی اور باوقار انداز میں استفادہ کرسکیں۔
پاکستان میں ناروے کے نامزد سفیر سگوالڈ ہائوگے نے ناروے کی معاشی، پیشہ ورانہ اور ثقافتی زندگی میں پاکستانی برادری کی نمایاں خدمات کو اجاگر کیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی تارکین وطن پاکستان اور ناروے کے درمیان ایک اہم پل بن چکے ہیں۔ انہوں نے اس مشترکہ تاریخ کو دستاویزی شکل دینے پر کتاب کے مصنف کی کاوشوں کو سراہا۔کتاب کے مصنف میاں وحید الدین نے بتایا کہ روٹس بینیتھ دی سنو Roots Beneath the Snow ‘ ناروے میں پاکستانی تارکین وطن کے انضمام کے حوالے سے ان کی تحقیق سے وجود میں آئی۔ انہوں نے اس کام کو ’’فیکشن‘‘ قرار دیا جو حقیقت اور افسانے کا امتزاج ہے۔انہوں نے کتاب کے منفرد آڈیو ویژول فارمیٹ کے بارے میں بتایا کہ اس میں 36 ابواب اور کیو آر کوڈ سے منسلک 48 ویڈیوز شامل ہیں۔ کتاب میں پاکستانی برادری کے احساس وابستگی میں آنے والی تبدیلیوں کو بھی اجاگر کیا گیا ہے ۔
ایئر چیف مارشل (ر) سہیل امان اور سفیر اعزاز احمد چوہدری نے ہجرت اور انضمام سے متعلق ثقافتی، خاندانی اور شناخت کے مسائل کو اجاگر کیا۔انہوں نے کہا کہ معاشی ترقی کے ساتھ خاندانی تعلقات، ثقافتی اقدار اور وطن سے وابستگی میں توازن برقرار رکھنا ضروری ہے جبکہ اپنائے گئے ملک کے قوانین، اقدار اور سماجی اصولوں کا احترام بھی لازم ہے۔مبصرین نے کہا کہ کامیاب انضمام کے لیے اپنی ثقافتی شناخت اور ورثے کو ترک کرنا ضروری نہیں۔ بیرون ملک مقیم پاکستانی پاکستان اور اپنے نئے معاشروں کے درمیان بامعنی پل کا کردار ادا کرسکتے ہیں، خصوصاً ایسی دنیا میں جہاں ممالک اور معاشرے ایک دوسرے سے پہلے سے کہیں زیادہ جڑے ہوئے ہیں۔








