پاکستان سائیکلنگ فیڈریشن نے ایونٹس کیلنڈر 27-2026جاری کر دیا ہےجس کے مطابق جولائی 2026 سے جون 2027 تک مختلف قومی اور بین الاقوامی سائیکلنگ مقابلے، چیمپئن شپ اور تربیتی کورسز منعقد کیے جائیں گے۔
پاکستان سائیکلنگ فیڈریشن نے ایونٹس کیلنڈر 27-2026جاری کر دیا

مزید خبریں
اسلام آباد۔3اگست (اے پی پی):پاکستان سائیکلنگ فیڈریشن نے ایونٹس کیلنڈر 27-2026جاری کر دیا ہےجس کے مطابق جولائی 2026 سے جون 2027 تک مختلف قومی اور بین الاقوامی سائیکلنگ مقابلے، چیمپئن شپ اور تربیتی کورسز منعقد کیے جائیں گے۔ پیر کوپاکستان سائیکلنگ فیڈریشن کی جانب سے جاری شیڈول کے مطابق جولائی 2026 میں اسلام آباد میں کمیسائر کورس، 14 اگست 2026 کو تمام صوبائی ہیڈکوارٹرز میں پاکستان ڈے سائیکل ریسز، اگست میں اسلام آباد میں کوچنگ کورس، 19 تا 27 ستمبر کو مونٹریال (کینیڈا) میں یو سی آئی روڈ ورلڈ چیمپئن شپ، 9 تا 11 اکتوبر کو لاہور میں دسویں روڈ سائیکلنگ چیمپئن شپ (مرد و خواتین، ایلیٹ/جونیئر)، 4 تا 5 نومبر کو لاہور میں ٹریک کمیسائر کورس، 6 تا 8 نومبر کو لاہور میں 71ویں ٹریک چیمپئن شپ (سینئر/جونیئر)، نومبر میں کراچی میں کراچی۔
حیدرآباد سائیکل ریس، 4 تا 6 دسمبر کو اسلام آباد میں ٹور آف اسلام آباد، دسمبر میں اسلام آباد ایم ٹی بی کپ اور قائداعظم ڈے سائیکل ریس تمام صوبائی ہیڈکوارٹرز میں منعقد ہوگی۔جنوری 2027 میں پشاور میں ٹور دے پشاور، اسلام آباد میں ایم ٹی بی کمیسائر کورس اور ایم ٹی بی چیمپئن شپ، فروری میں پشاور میں گیارہویں روڈ سائیکلنگ چیمپئن شپ (مرد و خواتین، ایلیٹ/جونیئر)، مارچ میں لاہور میں انٹر پروونشل ٹریک چیمپئن شپ اور اسلام آباد میں ساؤتھ ایشین روڈ سائیکلنگ چیمپئن شپ، اپریل میں ایبٹ آباد میں ٹور دے گلیات اور ایشین کانٹینینٹل چیمپئن شپ (ایکس سی او، ڈی ایچ آئی، ایکس سی آر، ایکس سی ای)، مئی اور جون 2027 میں اورڈوس (چین) میں ایشین روڈ سائیکلنگ چیمپئن شپ (مرد و خواتین، جونیئر)، مئی میں گلگت میں ٹور دی خنجراب جبکہ جون 2027 میں ناران میں ناران ایم ٹی بی ریس منعقد کی جائے گی۔
کیلنڈر کے مطابق تمام ایونٹس فنڈز کی دستیابی سے مشروط ہوں گے۔اس حوالے سے پاکستان سائیکلنگ فیڈریشن کے صدر سید اظہر علی شاہ نے اے پی پی کوبتایا کہ نیشنل روڈ سائیکلنگ چیمپئن شپ رواں سال اکتوبر میں کراچی میں منعقد ہوگی۔ چیمپئن شپ میں فیڈریشن سے وابستہ تمام صوبائی، محکمہ جاتی اور افیلی ایٹڈ یونٹس کی ٹیمیں حصہ لیں گی، جبکہ ایونٹ کی بنیاد پر ایشین روڈ سائیکلنگ چیمپئن شپ کے لیے قومی ٹیم کا انتخاب بھی کیا جائے گا۔ تمام متعلقہ محکمہ جاتی ٹیموں اور فیڈریشن سے منسلک یونٹس کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کھلاڑیوں کی بھرپور تیاری، تربیتی کیمپوں کے انعقاد اور جدید خطوط پر کوچنگ کا فوری آغاز کریں تاکہ نیشنل چیمپئن شپ کے دوران بہترین سائیکلسٹس کا شفاف اور میرٹ پر مبنی انتخاب ممکن بنایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ نیشنل چیمپئن شپ میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے سائیکلسٹس کو آئندہ ایشین روڈ سائیکلنگ چیمپئن شپ کے لیے قومی ٹیم میں شامل کیا جائے گا۔ منتخب کھلاڑیوں کےلیےخصوصی قومی تربیتی کیمپ بھی منعقد کیا جائے گاجہاں تجربہ کار اور کوالیفائیڈ کوچز کی نگرانی میں جدید معیار کی تربیت فراہم کی جائے گی۔سید اظہر علی شاہ نے امید ظاہر کی کہ پاکستان اس مرتبہ بھی ایشین روڈ سائیکلنگ چیمپئن شپ میں نمایاں کامیابیاں حاصل کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو سےتین ایشین چیمپئن شپ میں پاکستانی مرد اور خواتین سائیکلسٹس نے میڈلز جیت کر ملک میں سائیکلنگ کے بڑھتےہوئے معیار کا ثبوت دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان سائیکلنگ فیڈریشن کی اولین ترجیح شفاف اور میرٹ پر مبنی نظام کے تحت بہترین ٹیلنٹ کو قومی ٹیم میں شامل کرنا، انہیں جدید تربیت، معیاری کوچنگ اور ضروری سہولیات فراہم کرنا ہے تاکہ وہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا نام روشن کر سکیں۔ انہوں نے ساؤتھ ایشین گیمز میں سائیکلنگ کو شامل نہ کیے جانے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں سائیکلنگ کا بے پناہ ٹیلنٹ موجود ہے،اگر کھلاڑیوں کوتسلسل کے ساتھ بین الاقوامی معیار کی تیاری اور مقابلوں کے مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ خطے کی مضبوط ٹیموں کے خلاف بھی بہترین نتائج دے سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان کے ٹاپ سائیکلسٹس کی کارکردگی اور رفتار انتہائی حوصلہ افزا ہے اور وہ ایشیائی سطح پر مؤثر انداز میں مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
فیڈریشن کا ہدف ایسے سائیکلسٹس تیار کرنا ہے جو ایشیا اور عالمی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے میڈلز جیت سکیں۔سید اظہر علی شاہ نے بتایا کہ ستمبر 2026 میں کینیڈا میں ہونے والی ورلڈ سائیکلنگ چیمپئن شپ میں پاکستان کا وفد شرکت کرے گا، جہاں قومی نمائندگی کے ساتھ متعلقہ کانگریس اجلاس میں بھی حصہ لیا جائے گا۔انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان سائیکلنگ فیڈریشن ملک میں سائیکلنگ کے فروغ، نوجوان ٹیلنٹ کی تلاش، کھلاڑیوں کی جدید تربیت اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی مؤثر نمائندگی کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی سائیکلسٹس میں صلاحیت کی کوئی کمی نہیں، ضرورت صرف انہیں مناسب پلیٹ فارم، مسلسل تربیت اور عالمی معیار کے مقابلوں میں شرکت کے مواقع فراہم کرنے کی ہے۔








