آزاد کشمیر میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کا انعقاد ہوا، ہم نے سادہ اکثریت حاصل کر لی،رانا ثنا ء اللہ اور انجینئر امیر مقام کی پریس کانفرنس

وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ اور وفاقی وزیر امور کشمیر وگلگت بلتستان انجینئر امیر مقام نے کہا ہے کہ آزادکشمیر میں دو مراحل میں پرامن انتخابات کے انعقاد سے جمہوریت،کشمیری عوام اور ریاست کی کامیابی ہوئی ہے

اسلام آباد۔3اگست (اے پی پی):وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ اور وفاقی وزیر امور کشمیر وگلگت بلتستان انجینئر امیر مقام نے کہا ہے کہ آزادکشمیر میں دو مراحل میں پرامن انتخابات کے انعقاد سے جمہوریت،کشمیری عوام اور ریاست کی کامیابی ہوئی ہے،پیپلز پارٹی نے گزشتہ روز صبح سے ہی دھاندلی کا بیانیہ بنانا شروع کردیاتھا،میثاق جمہوریت کے روح کے منافی بیانیہ بنانے پر بلاول بھٹو کو نوٹس لینا چاہیے،آزادکشمیر کی تاریخ کے صاف وشفاف آزادانہ و منصفانہ انتخابات کرانے پر الیکشن کمیشن،انتظامیہ اور سکیورٹی اداروں کو مبارکباد پیش کرتے ہیں،عوام نے مسلم لیگ ن کی قیادت اور جماعت پر جس اعتماد کا اظہار کیا اس پر انہیں مایوس نہیں کریں گے،جو وعدے کئے ہیں وہ پورے کریں گے،دھرنے میں بیٹھے محب وطن اور پاکستان سے محبت کرنے والے کشمیری مذاکرات کی طرف آئیں۔

پیر کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رانا ثناءاللہ نے کہا کہ دوسرے مرحلے میں آزاد کشمیر اور مہاجرین کے 20 حلقوں میں انتخابی عمل مکمل ہوا،دوسرے مرحلے میں مسلم لیگ (ن) نے 23 نشستوں پر کامیابی حاصل کرلی،مسلم لیگ (ن) نے آزاد کشمیر میں سادہ اکثریت حاصل کرلی ہے ۔میرپور ڈویژن کی 9 اور مظفرآباد ڈویژن کی 7 نشستوں میں سے 4 پر مسلم لیگ (ن)،3 نشستوں پر پیپلز پارٹی کے امیدوار کامیاب ہوئے،مہاجرین کی 12 میں سے 10 نشستوں پر مسلم لیگ (ن) اور 2 نشستوں پر پیپلز پارٹی کے امیدوار کامیاب ہوئے۔ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے میرپور میں شکست کے بعد دھاندلی کا بیانیہ بنانا شروع کیا،پیپلز پارٹی پہلے 13 حلقوں میں دھاندلی کا الزام لگاتی رہی، ثبوت مانگنے پر پیپلز پارٹی کا دھاندلی کا دعویٰ 13 سے 4 حلقوں تک آگیا،مزید شواہد مانگے گئے تو دھاندلی کا دعویٰ صرف 2 حلقوں تک رہ گیا،وہاں بھی ن کے امیدوار کے حلقہ میں 90 فیصد پولنگ کی بات کی جبکہ ہم نے انہیں بتایا کہ ان کے اپنے امیدوار کے آبائی پولنگ سٹیشنوں پر 96 فیصد ووٹ پول ہوئے ہم نے فرانزک کروانے کی پیش کش بھی کی۔

انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کا انعقاد ہوا،کامیاب امیدواروں سمیت انتخاب ہارنے والے تمام امیدوار بھی مبارکباد کے مستحق ہیں، آزاد کشمیر میں عوامی مینڈیٹ سے حکومت واضح طور پر وجود میں آئے گی،مسلم لیگ (ن) کی حکومت آزاد کشمیر میں تعمیر و ترقی کا نیا دور شروع کرے گی۔رانا ثناء اللہ نے کہا کہ میاں نواز شریف کے وعدے کے مطابق آزاد کشمیر کے عوام سے کیے گئے وعدے پورے کریں گے۔ آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) کی اکثریتی حکومت قائم ہوگی۔ انتخابات کے آخری مرحلے کے فوری بعد مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹی کااجلاس ہوگاجس میں حکومت سازی پر بات ہوگی،انتخابی کامیابی پر مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں، ووٹرز اور ورکرز کا شکریہ ادا کرتے ہیں اور مرکزی قیادت کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمیں پہلے سے انتخابی نتائج کا اندازہ تھا، کیا پیپلز پارٹی کو اس کا اندازہ نہیں تھا؟ پنجاب میں پیپلز پارٹی نے کوئی مہم نہیں چلائی یہاں ہمارا مقابلہ کہیں آزاد اور کہیں مسلم کانفرنس کے ساتھ ہوا۔کوٹلہ میں ہمارا مقابلہ ہمارے ہی ناراض رہنماسردار تبارک علی سے ہے۔

انہوں نے کہا کہ کھاوڑہ کے حلقہ میں گزشتہ روز مختلف حربے استعمال کئے گئے کہ کسی طرح پولنگ کا عمل متاثر ہو اور ٹرن آئوٹ کم ہو،یہاں پر قائم مقام صدر پر قاتلانہ حملے کا کوئی میڈیکل ثبوت نہیں دیا، حکومت میں ہونے کے باوجود الیکشن کمیشن سے سکیورٹی کے ناقص ہونے کا گلہ کیا جا رہا ہے۔مظفرآباد شہر میں ایک منصوبہ بندی کے تحت شہر میں امن وامان میں خلل ڈالا گیا تاکہ ٹرن آئوٹ کم ہو اور اس کا ثبوت لے کر الیکشن کمیشن سے رجوع کریں گے۔سندھ سے ایک ایم این اے پولیس کے ہمراہ ڈالے لے کر پولنگ سٹیشنوں پر خوف و ہراس پھیلاتے رہے،بلاول بھٹو اس کو نوٹس لیں ۔پیپلز پارٹی ایک جمہوری سیاسی جماعت ہے ،اس کی طرف سے میندیٹ تسلیم نہ کرنا میثاق جمہوریت کے خلاف ہے۔انہوں نے کہا کہ آزادکشمیر میں مجموعی ٹرن آئوٹ بہت اچھا رہا ہے،لوگوں نے بائیکاٹ کی کال مسترد کردی اور رکاوٹوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے انتخابی عمل میں بھرپور شرکت کی۔

انتخابات کا آخری مرحلہ بھی کامیابی سےآزادانہ،منصفانہ صاف اور شفاف ہوگا اور اس میں بھی مسلم لیگ ن کامیاب ہوگی ۔ وفاقی وزیر امور کشمیر وگلگت بلتستان امیر مقام نے کہا کہ انتخابات کا دوسرا مرحلہ بھی کامیابی سے مکمل ہوگیا،یہ کامیابی مسلم لیگ ن کی ہی نہیں،جمہوریت،کشمیری عوام اور ریاست کی عملداری کی کامیابی ہے،لوگوں نے بائیکاٹ کی اپیل پر کان نہیں دھرے اور وہ دھڑا دھڑ نکلے،اپنا بنیادی حق استعمال کیا،الیکشن کمیشن نے دن رات محنت کی،انتظامیہ پولیس اور سکیورٹی اداروں نے پرامن انتخابات کے انعقاد میں بھرپور کردار ادا کیا، اس پر ان کاشکریہ ادا کرتے ہیں۔ایک منظم ٹیم ورک سے الیکشن کا پرامن اور منصفانہ انعقاد ممکن ہوا۔کامیاب ہونے والے اور جمہوری عمل کا حصہ بننے والے تمام امیدواروں کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے آزادکشمیر میں گزشتہ دوسال سے محنت شروع کررکھی تھی،ہماری پارٹی نے جلسے جلوس کرکے جمود توڑا،سیاسی سرگرمیاں کیں،پیپلز پارٹی کے رہنمائوں نے دھاندلی کے الزام لگاکر اپنی قیادت کو غلط گائیڈ کیا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ تیسرا مرحلہ پہلے دو مراحل سے بھی بہتر ہوگا،اس میں بھی کامیابی حاصل کریں گے۔یہ آزادکشمیر کی تاریخ کا فری اینڈ فیئر الیکشن تھا،اس میں تمام تر مشکلات کے باوجود ٹرن آئوٹ پہلے سے زیادہ رہا۔

انہوں نے ایک سوال کے جواب میں دھرنے میں بیٹھے لوگوں کو ایک بار پھر مذاکرات کی پیش کش کرتے ہوئے کہا کہ احتجاج اور دھرنے سے مسائل حل نہیں ہوں گے،عوام کی فلاح وبہبود کے لئے ہر ممکن اقدامات اٹھائیں گے،اپنے وعدے پورے کریں گے،دھرنے میں بیٹھے چند ہزار لوگ لاکھوں لوگوں کے مقدر کا فیصلہ نہیں کرسکتے،ان سے کہتے ہیں کہ وقت ضائع نہ کریں،صرف میرپور ڈویژن میں ساڑھے6 لاکھ ووٹ ڈالے گئے،اگر ان کا ایجنڈا ریاست کی رٹ چیلنج کرنا یا کچھ اور ہے تو ایسا نہ ماضی میں ہوا ہے نہ آئندہ ہوگا کہ کسی ریاست کی عملداری ختم ہوسکے۔