اسلام آباد ۔ 20 نومبر (اے پی پی) پاکستان سمیت دنیا بھر میں بدھ کو بچوں کا عالمی دن منایا گیا۔ بچوں کا عالمی دن منانے کا بنیادی مقصد بچوں کی تعلیم،صحت،تفریح اور ذہنی تربیت کے حوالے سے شعور اجاگر کرنا ہے تاکہ دنیا بھر کے بچے مستقبل میں معاشرے میں اپنا مثبت کردار ادا کر سکیں۔ بچوں کا عالمی دن منانے کی ابتداء 1989ء میں ہوئی اس دن اقوام …
پاکستان سمیت دنیا بھر میں بچوں کا عالمی دن منایا گیا

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 20 نومبر (اے پی پی) پاکستان سمیت دنیا بھر میں بدھ کو بچوں کا عالمی دن منایا گیا۔ بچوں کا عالمی دن منانے کا بنیادی مقصد بچوں کی تعلیم،صحت،تفریح اور ذہنی تربیت کے حوالے سے شعور اجاگر کرنا ہے تاکہ دنیا بھر کے بچے مستقبل میں معاشرے میں اپنا مثبت کردار ادا کر سکیں۔ بچوں کا عالمی دن منانے کی ابتداء 1989ء میں ہوئی اس دن اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بچوں کے منظور شدہ حقوق کااعلان کیا جس کے بعد 20نومبر 1990کو دنیا کے تقریباً 186 ممالک نے بچوں کے عالمی دن کی منظور شدہ حقوق کے مطابق باضابطہ حمایت کر کے اسے قانونی شکل دے دی اور ایک قرارداد کے ذریعے ہر سال 20 نومبر کو بچوں کا عالمی دن قرار دیا۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق ترقی پذیر ممالک میں محض 15 فیصد معذور افراد کو ضروری طبی سہولیات میسر ہیں۔ غریب ممالک میں مرگی کے مرض میں مبتلا دو تہائی مریض ادویات سے محروم ہیں۔ یونیسیف کے ترجمان روڈی ٹارنیڈن نے اس امر کی شکایت کی ہے کہ دنیا کے مختلف خطوں میں معذور بچوں کے ساتھ کیے جانے والے سلوک کے بارے میں کوئی مستند اعدادوشمار نہیں ہیں۔یونیسیف کے مطابق دنیا میں روزانہ 3 لاکھ 60 ہزار بچے پیدا ہوتے ہیں، جبکہ روزانہ 24 ہزار بچے موت کی منہ میں چلے جاتے ہیں، بچوں کے حقوق اور صحت کے لئے کام کرنے والے اداروں کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پوری دنیا میں ایک گھنٹے میں 5 سال سے کم عمر کے ایک ہزار بچے موت کا شکار ہوجاتے ہیں جس میں زیادہ تر اموات نمونیا کے سبب ہوتی ہیں، اور نمونیے کے ذریعے بچوں کی اموات کے حوالے سے پاکستان دنیا کا تیسرا بڑا ملک ہے جہاں نمونیے کے سبب ہر سال تقریباً ایک لاکھ بچے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں، جس کی بڑی وجہ غربت، سرکاری سطح پر طبی سہولیات کا نہ ہونا اور لاعلمی ہے اس طرح نمونیا کے پیچیدہ ہونے کے بعد ہزاروں کی تعداد میں بچے ہلاک ہوجاتے ہیں۔پاکستان میں نومولود بچوں کی موت ایک بڑی وجہ قبل از وقت پیدائش بھی ہے ، جسے برتھ اسفکسیا بھی کہا جاتا ہے ، جس میں نو مولود بچوں کو سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے اور دیہی علاقوں میں دائی بچے کی پیدائش کے وقت صفائی ستھرائی کا خیال نہیں رکھتیں جس کی وجہ سے بھی بچے جان لیوا بیماریوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ اکثر حکومتی سطح پر ان اموات کو ہی مصدقہ سمجھا جاتا ہے جو سرکاری ہسپتالوں میں رپورٹ ہوئی ہوں جبکہ جو سیکنڑوں کی تعداد میں جو گھروں میں ہلاکتیں ہوتی ہیں اْن کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔حکومت پاکستان بچوں کی صحت کے حوالے سے کئی عالمی اداروں کے تعاون سے کثیر امداد ملنے پر کئی منصوبوں پر کام کررہی ہے۔








