ملتان۔ 13 جون (اے پی پی):نائب صدر پاکستان سینٹرل کاٹن کمیٹی ڈاکٹر یوسف ظفر نے کہا ہے کہ پاکستان سینٹرل کاٹن کمیٹی(پی سی سی سی)اورنجی شعبے کے درمیان شراکت داری ملک کی کپاس کی صنعت کےلیے گیم چینجرثابت ہوسکتی ہے۔ انہوں نے سربراہ شعبہ ٹیکسٹائل سیکشن وانٹرنیشنل کاٹن ایڈوائزری کمیٹی واشنگٹن ڈی سی کنور عثمان سے جمعرات کو ٹیلی فونک گفتگو کے دوران کہا کہ مشترکہ کوششیں کاٹن سیکٹر میں …
پاکستان سنٹرل کاٹن کمیٹی اور نجی شعبے کے درمیان شراکت داری کپاس کی صنعت کےلیے گیم چینجرثابت ہوسکتی ہے، ڈاکٹر یوسف ظفر

مزید خبریں
ملتان۔ 13 جون (اے پی پی):نائب صدر پاکستان سینٹرل کاٹن کمیٹی ڈاکٹر یوسف ظفر نے کہا ہے کہ پاکستان سینٹرل کاٹن کمیٹی(پی سی سی سی)اورنجی شعبے کے درمیان شراکت داری ملک کی کپاس کی صنعت کےلیے گیم چینجرثابت ہوسکتی ہے۔ انہوں نے سربراہ شعبہ ٹیکسٹائل سیکشن وانٹرنیشنل کاٹن ایڈوائزری کمیٹی واشنگٹن ڈی سی کنور عثمان سے جمعرات کو ٹیلی فونک گفتگو کے دوران کہا کہ مشترکہ کوششیں کاٹن سیکٹر میں ترقی،اختراعات کے لیے اہم ہیں۔
کنور عثمان نے ڈاکٹر یوسف ظفر کو پی سی سی سی کا نائب صدر منتخب ہونے پر مبارکباد دی اور کاٹن ویلیو چین کے جدید معیار میں ہر ممکن تکنیکی معاونت فراہم کرنے کی مکمل یقین دہا نی کرائی۔نائب صدر پی سی سی سی نے کنور عثمان کو پاکستان میں کپاس کی تحقیقاتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اورفی ایکڑ پیداوار میں اضافے بارے اپنے پلان سے آگاہ کیا اور ان کے تعاون کا شکریہ کا ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ پی سی سی سی اور نجی شعبہ خاص کر ایپٹما اپنے وسائل اور مہارتوں میں ہم آہنگی پیدا کرنے سے کاٹن کی پوری ویلیو چین کے لیے دور رس فوائد حاصل ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ ان کے موجودہ اقدامات کا مقصد اور مستقبل کی حکمت عملی کپاس کے شعبے میں اہم چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ہے
،پی سی سی سی میں تکنیکی اور غیر تکنیکی عملے کے تناسب کو بہتر بنا کر، تحقیقی مراکز کو مستحکم اور مضبوط بنا کر،مالیاتی نظم و ضبط کا نفاذاور بہتر کپاس و قومی بریڈنگ پروگراموں کو فروغ دے کرپی سی سی سی اور ایپٹما کپاس کی ایک مضبوط اور پائیدار صنعت کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پبلک و پرائیویٹ سیکٹر کی مشترکہ کوششوں سے کسان بہتر پیداوار اور زیادہ آمدنی سے مستفید ہوں گے، ٹیکسٹائل کی صنعت کو اعلیٰ معیار کے خام مال تک رسائی حاصل ہوگی جبکہ قومی معیشت برآمدات اور جی ڈی پی کی نمو میں اضافہ ہوگا۔انہوں نے مزید بتایا کہ طویل المدتی شراکت داری سے تحقیق و ترقی،جدت طرازی اور انٹرپرینیورشپ کو آگے بڑھانے میں مدد ملے گی جو کپاس کی عالمی مارکیٹ میں ایک بڑے کھلاڑی کے طور پر پاکستان کی پوزیشن کو مستحکم کرسکے گی۔








