میر خان محمد جمالی کابلوچستان کی پائیدار ترقی اور زرعی خوشحالی کیلئے وفاق سے مل کر کام کرنے کا عزم، کچھی کینال سمیت دیگر منصوبے بجٹ میں شامل کرنے کی تجاویز

میر خان محمد جمالی کا وفاقی بجٹ 27-2026 کو معاشی ترقی کا سنگِ میل قرار، بلوچستان کیلئے ریلیف اقدامات کا خیرمقدم

اسلام آباد۔14جون (اے پی پی):رکنِ قومی اسمبلی میر خان محمد جمالی نے وفاقی بجٹ27-2026کو ملک کی معاشی ترقی کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیتے ہوئے بلوچستان کی پسماندگی کے خاتمے اور عوامی ریلیف کے لیے وفاق کی مخلصانہ کوششوں کا خیرمقدم کیا ہے۔

قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اس پراعتماد عزم کا اظہار کیا کہ اگر وفاقی حکومت بلوچستان کے زبردست قدرتی وسائل اور زراعت کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے صوبائی قیادت کے ساتھ مل کر کام کرے، تو نہ صرف بلوچستان بلکہ پورا پاکستان معاشی طور پر خود کفیل اور خوشحال بن سکتا ہے۔ رکن پارلیمنٹ نے ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والے شعبہ زراعت کو مزید مستحکم کرنے کے لیے ایک بہترین اور تعمیری طریقہ کار وضع کرنے کی تجویز پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ زرعی پالیسیاں بنانے سے پہلے کاشتکاروں اور فارمرز کے ساتھ باقاعدہ بیٹھک کی جائے تاکہ ان کے مشوروں کو ان پٹ کے طور پر شامل کیا جا سکے۔ انہوں نے زور دیا کہ کسانوں کو شوگر مافیا کی من مانیوں سے بچانے، فصلوں کے انشورنس پلان اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کے لیے کسان دوست اقدامات کیے جائیں اور زراعت پر ٹیکس کا بوجھ کم سے کم رکھا جائے تاکہ ہمارے کسان ملک کو غذائی تحفظ فراہم کر سکیں۔بلوچستان کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیرِ نو پر بات کرتے ہوئے میر خان محمد جمالی نے کچھی کینال پروجیکٹ کو صوبے کی تقدیر بدلنے والا گیم چینجر منصوبہ قرار دیا۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ موجودہ وفاقی بجٹ کے ترقیاتی فنڈز میں کچھی کینال کی مکمل تکمیل کو ہدف بنایا جائے تاکہ اس تاریخی کینال کو ڈیرہ بگٹی سے آگے لے جا کر بلوچستان کی لاکھوں ایکڑ اراضی کو سیراب کیا جا سکے اور صوبے کے غیور کسان ملکی ترقی میں اپنا بھرپور حصہ ڈال سکیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے حب سے کوئٹہ جانے والی مرکزی شاہراہ کو ٹریفک حادثات سے پاک اور محفوظ بنانے کے لیے اسے دو رویہ کرنے کی اہم تجویز بھی سامنے رکھی۔صوبے کے دیگر دیرینہ مسائل پر بات کرتے ہوئے انہوں نے وفاق سے مثبت شراکت داری کی مخلصانہ اپیل کی تاکہ بلوچستان میں بے روزگاری کا خاتمہ ہو اور کینال سسٹم بالخصوص پٹیڈر اور نارتھ ویسٹ کینال کے ذریعے پانی کا جائز حق حاصل کر کے پینے کے صاف پانی کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔ میر خان محمد جمالی کا کہنا تھا کہ بلوچستان نے ہمیشہ سوئی گیس جیسے بیش قیمت قدرتی وسائل کے ذریعے پورے پاکستان کے گھروں کے چولہے اور صنعتیں جلانے میں ہراول دستے کا کردار ادا کیا ہے، لہذا اب وفاق کی جانب سے بلوچستان کے اضلاع کو گیس اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ سے مستقل نجات دلانا وہاں کے عوام کا معیارِ زندگی بلند کرنے میں ممد و معاون ثابت ہوگا۔ سرکاری ملازمین کی فلاح و بہبود کے حوالے سے میر خان محمد جمالی نے تنخواہوں میں 7 فیصد اضافے کے حکومتی اقدام کو سراہا تاہم مہنگائی کی موجودہ لہر اور پٹرولیم و بجلی کے نرخوں کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت سے ہمدردانہ نظرِ ثانی کی اپیل کی تاکہ مڈل کلاس سرکاری ملازمین کو مزید ریلیف مل سکے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ وفاقی حکومت ان تمام مثبت مطالبات اور تجاویز کو بجٹ کا حصہ بنا کر بلوچستان کے عوام کا مرکز پر اعتماد مزید مضبوط کرے گی۔