مالی سال 27-2026 :موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے 2.47 ارب روپے مختص، گرین پاکستان پروگرام کو ترجیح

وزارت موسمیاتی تبدیلی کے لیے 2 ارب 47 کروڑ روپے سے زائد مختص، شجرکاری اور ماحولیاتی بہتری پر توجہ

اسلام آباد۔14جون (اے پی پی):حکومت نے آئندہ مالی سال 27-2026 کے لیے وزارت موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی کے لیے دو ارب 47 کروڑ 77 لاکھ 60 ہزار روپے مختص کیے ہیں جن کا بڑا حصہ شجرکاری، سبز معیشت کے فروغ اور سیلاب، خشک سالی سمیت موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والی آفات سے نمٹنے کی صلاحیت بڑھانے پر خرچ کیا جائے گا۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق یکم جولائی سے شروع ہونے والےمالی سال میں یہ فنڈز چار اہم منصوبوں پر خرچ کیے جائیں گےجن میں قدرتی ماحولیاتی نظام کی بحالی، نوجوانوں کے لیے سبز مہارتوں کا فروغ، شہری علاقوں کو موسمیاتی خطرات کے مقابل زیادہ محفوظ بنانا اور موسمیاتی اقدامات کے لیے ادارہ جاتی صلاحیتوں کو مضبوط کرنا شامل ہے۔کل مختص رقم میں سب سے بڑا حصہ، یعنی دو ارب 33 کروڑ 54 لاکھ 99 ہزار روپے، گرین پاکستان پروگرام کے لیے رکھا گیا ہے جس کا مقصد جنگلات کے رقبے میں اضافہ، حیاتیاتی تنوع کا تحفظ، کاربن جذب کرنے کی صلاحیت میں بہتری اور متاثرہ قدرتی نظام کی بحالی ہے۔یہ مالیاتی ترجیحات وزیراعظم محمد شہباز شریف کے اس وژن کی بھی عکاس ہیں جس کے تحت پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کے مقابل زیادہ مضبوط اور ماحول دوست ترقی کی راہ پر گامزن بنایا جا رہا ہے۔ حکام کےمطابق یہ فنڈز گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے، برفانی جھیلوں کےپھٹنے سے آنے والے سیلاب، پانی کی قلت، جنگلات کی کٹائی، شدید گرمی کی لہروں، جنگلاتی آگ اور زمین کے کٹاؤ جیسے بڑھتے خطرات سے نمٹنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔وزارت کے ترجمان اورموسمیاتی پالیسی امور کے ماہر محمد سلیم شیخ نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے موسمیاتی اقدامات کو قومی ترجیح قرار دیتے ہوئے ترقیاتی منصوبہ بندی میں ماحولیاتی تحفظ کو مرکزی حیثیت دی ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی قیادت میں موسمیاتی مزاحمت قومی ترقیاتی حکمت عملی کا بنیادی ستون بن چکی ہے اور یہ سرمایہ کاری عوام کے تحفظ،قدرتی نظام کی بحالی اور مستقبل کے موسمیاتی خطرات سے بہتر انداز میں نمٹنے کی تیاری کو یقینی بنائے گی۔محمد سلیم شیخ نے کہا کہ گرین پاکستان پروگرام ملک میں قدرتی وسائل کے تحفظ اورجنگلات کے فروغ کا اہم ترین منصوبہ ہےجبکہ نوجوانوں کے لیے سبز مہارتوں اور ماحول دوست کاروباری سرگرمیوں کے فروغ سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ مضبوط ادارے، سائنسی بنیادوں پر فیصلے اور مؤثر حکمرانی ہی پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے چیلنجز سے محفوظ بنانے کی ضمانت ہیں۔