512 سکھ یاتریوں کو گوردوارہ سری پنجہ صاحب سے لاہور کے لیے بحفاظت روانہ کر دیا گیا

حسن ابدال سے سکھ یاتریوں کو لاہور روانہ کر دیا گیا، جوڑ میلہ کی مرکزی تقریبات میں شرکت کریں گے

حسن ابدال۔ 14 جون (اے پی پی):بھارت سے آئے ہوئے 512 سکھ یاتریوں کو 12 خصوصی بسوں کے ذریعے گوردوارہ سری پنجہ صاحب حسن ابدال سے لاہور کے لیے بحفاظت روانہ کر دیا گیا ہے جہاں وہ سکھ مذہب کے پانچویں گرو، مرشد ارجن دیو جی کے سالانہ جوڑ میلہ کی مرکزی تقریبات میں شرکت کریں گے۔

تفصیلات کے مطابق سکھ یاتریوں کی روانگی کے وقت سیکیورٹی کے پیشِ نظر تمام داخلی اور خارجی راستے مکمل طور پر بند کر دیے گئے تھے اور یاتریوں کو فول پروف سیکیورٹی فراہم کی گئی۔ اس موقع پر گوردوارہ پنجہ صاحب کی طرف آنے والے تمام راستے بھی بند رکھے گئے اور کاروان میں شامل ہر گاڑی کے ساتھ پولیس اہلکار تعینات تھے جبکہ موٹر وے تک پورے روٹ پر پولیس اہلکار جگہ جگہ راستوں، گلیوں اور عمارتوں کی چھتوں پر ہائی الرٹ پوزیشنز پر مامور رہے۔ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (DPO) اٹک سردار موارھن خان کی خصوصی نگرانی میں جاری اس سیکیورٹی پلان کے تحت سکھ یاتریوں کے وفدکی واپسی کے عمل کو پرامن اور محفوظ بنانے کے لیے مجموعی طور پر ایک ہزار سینتیس (1037) افسران اور جوان ڈیوٹی پر تعینات کیے گئے، جن میں چھ (06) ڈسٹرکٹ ایس پیز اور ڈی ایس پیز سپروائزری ذمہ داریاں سرانجام دے رہے ہیں جبکہ ان کے ہمراہ سترہ (17) انسپکٹرز، ایک سو چودہ (114) سب انسپکٹرز و اے ایس آئیز، سات سو انتالیس (739) ہیڈ کانسٹیبلز اور جوان، چوبان (54) لیڈیز کانسٹیبلز اور بیس (20) سیکشنز پر مشتمل ایک سو بیس (120) ایلیٹ فورس کے کمانڈوز موومنٹ اسکواڈ کا حصہ رہے، جبکہ سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے کنٹرول روم سے لمحہ بہ لمحہ مانیٹرنگ کی گئی۔ سیکیورٹی پلان کے مطابق برہان انٹرچینج سے حسن ابدال اور منوں نگر تک جی ٹی روڈ کے دونوں اطراف خاردار تاریں اور بیریئرز لگا دیے گئے ہیں اور جتھہ کی موومنٹ شروع ہونے سے بیس منٹ قبل روٹ پر ہر قسم کی غیر متعلقہ ٹریفک کا داخلہ مکمل طور پر بند رکھا گیا تاکہ سکھ یاتریوں کی روانگی کا یہ اہم مرحلہ مکمل امن و امان کے ساتھ پایہ تکمیل کو پہنچ سکے۔دوسری جانب گوردوارہ سری پنجہ صاحب حسن ابدال میں مقدس مذہبی رسومات کی ادائیگی کے بعد روانگی کے وقت بھارتی سکھ یاتریوں نے پاکستان میں ملنے والی والہانہ محبت، شاندار مہمان نوازی اور سکھ مقدس مقامات کی بہترین دیکھ بھال پر حکومتِ پاکستان اور مقامی انتظامیہ کا شاندار الفاظ میں شکریہ ادا کیا ہے۔ امر تسر سے آئی ہوئی معمر خاتون یاتری بی بی کلونت کور نے انتہائی جذباتی انداز میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم جب بھی پاکستان آتے ہیں، یہاں کے لوگوں کا پیار دیکھ کر دل بھر آتا ہے، حکومتِ پاکستان نے بھارتی یاتریوں کے لیے جو لنگر، رہائش، ٹرانسپورٹ اور سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کیے ہیں وہ لاجواب ہیں اور ہمیں یہاں بالکل اپنے گھر جیسا ماحول ملا ہے۔ جالندھر سے آئے ہوئے سکھ نوجوان سردار دلجیت سنگھ نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ یہ ملک امن اور آشتی کا ہے اور یہاں قدم رکھتے ہی جو پیار اور عزت ہمیں ملتی ہے وہ ہمیں بار بار یہاں آنے پر مجبور کرتی ہے، پاکستان کی دھرتی سکھ برادری کے لیے انتہائی مقدس ہے اور حکومتِ پاکستان نے تمام یاتریوں کو ویزوں کی فراہمی سے لے کر گورودواروں کی تزئین و آرائش تک بہترین خدمات سرانجام دی ہیں۔ اسی طرح گورداسپور سے تعلق رکھنے والی ایک اور خاتون یاتری سکھوندر کور نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شدید گرمی اور لو کے باوجود حسن ابدال اور دیگر مقامات پر ٹھنڈے پانی کے سبیل، طبی کیمپ اور چوبیس گھنٹے لنگر کی سہولت موجود ہے جس کے لیے وہ پاکستانی عوام اور حکومت کی تہہ دل سے شکر گزار ہیں۔ ہریانہ سے آئے ہوئے بزرگ یاتری سردار ہرپال سنگھ کا کہنا تھا کہ پاکستان کی مٹی ہمیشہ سے بین المذاہب ہم آہنگی اور رواداری کا درس دیتی آئی ہے اور یہاں آ کر دنیا کو یہ واضح پیغام جاتا ہے کہ یہ خطہ امن پسند لوگوں کا گہوارہ ہے۔ متروکہ وقف املاک بورڈ اور پاکستان سکھ گورودوارہ پربندھک کمیٹی کے حکام کے مطابق تمام بھارتی یاتری گورودوارہ پنجہ صاحب حسن ابدال میں اپنی مذہبی رسومات اور زیارتیں مکمل کرنے کے بعد اب لاہور روانہ ہو چکے ہیں، جہاں جوڑ میلہ کی مرکزی تقریب منعقد کی جائے گی اور ان تمام رسومات کی ادائیگی کے بعد یہ وفد مقررہ شیڈول کے مطابق واہگہ بارڈر کے راستے واپس بھارت روانہ ہو جائے گا۔