مالی سال 2026-27 کا بجٹ معیشت کے لیے مثبت پیش رفت ہے، مزید اصلاحات سے اسے مکمل عوامی بجٹ بنایا جا سکتا ہے: شاہدہ رحمانی
موجودہ بجٹ ملکی معیشت کو نئی سمت دینے کا بہترین آغازہوگا،ٹیکس وصول کے اہداف کے حصول کیلئے ایف بی آر کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی ضرورت ہے، شاہدہ رحمانی

مزید خبریں
اسلام آباد۔14جون (اے پی پی):پاکستان پیپلز پارٹی کی سینئر رہنما اور رکنِ قومی اسمبلی شاہدہ رحمانی نے مالی سال 2026-27ء بجٹ کو ملکی معیشت کیلئے مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ وفاقی حکومت کا یہ بجٹ معیشت کو پائیدار اور نئی سمت میں لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے جس میں مزید چند اصلاحات شامل کر کے اسے سو فیصد حقیقی عوامی بجٹ بنایا جا سکتا ہے۔
اتوار کو قومی اسمبلی میں بجٹ پر جاری بحث میں حصہ لیتے ہوئے شاہدہ رحمانی نے ایک بہترین معاشی اصول پیش کرتے ہوئے کہا کہ حقیقی عوامی بجٹ کو مزید موثربنانے کے لیے اشرافیہ کی مراعات میں کمی اور سرکاری اخراجات کو قابو میں رکھنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ ملک میں ایک ایسا مضبوط معاشی نظام وضع کیا جائے جہاں تمام طبقات یکساں طور پر قانون اور ٹیکس کے سامنے جوابدہ ہوں تاکہ غریب اور تنخواہ دار طبقے پر ٹیکسوں کا بوجھ کم سے کم ہو اور بالواسطہ (ان ڈائریکٹ) ٹیکسوں پر انحصار ختم کیا جا سکے۔انہوں نے ایف بی آر کی کارکردگی کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ ٹیکس وصولی کے اہداف آسانی سے حاصل ہو سکیں اور پیٹرولیم لیوی یا بجلی کے بلوں پر اضافی بوجھ ڈالنے کی ضرورت پیش نہ آئے۔ انہوں نے حکومت کو مشورہ دیا کہ ملک میں نئے مینوفیکچرنگ یونٹس اور کارخانے لگانے کے لیے طویل المیعاد پروگرامز متعارف کروائے جائیں، جس سے نہ صرف مقامی پیداوار بڑھے گی بلکہ کسانوں، مزدوروں اور پینشنرز کے لیے روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔انہوں نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ معاشی ترقی کا دارومدار صنعتوں کی بحالی اور برآمدات پر ہے۔ انہوں نے حکومت کی جانب سے صنعتوں کو سستی گیس، بجلی اور پیداواری لاگت میں کمی کے لیے ایک جامع پیکیج دینے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ ملک میں صنعتی جمود کا خاتمہ ہو اور ملکی پیداوار بڑھنے سے بیرونی قرضوں اور سود کی ادائیگی کا بوجھ کم کیا جا سکے۔ انہوں نے زراعت کو پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیتے ہوئے موسمیاتی تبدیلیوں (کلائمیٹ چینج) کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جدید زرعی تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی متعارف کروانے کی تجویز دی۔ شاہدہ رحمانی نے کہا کہ کسانوں کو سستی کھاد اور معیاری بیج کی فراہمی کے ساتھ ساتھ آبپاشی کے نظام میں ویلیو ایڈیشن لائی جائے، جس سے زرعی پیداوار میں کئی گنا اضافہ ممکن ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئی ٹی اور صنعتی شعبوں میں نئی ملازمتیں پیدا کر کے نوجوانوں کو بااختیار بنایا جا سکتا ہے۔اپنی گفتگو کے اختتام پر انہوں نے تجویز پیش کی کہ پی ایس ڈی پی اور بجٹ کے دیگر حصوں میں سوشل ویلفیئر پروگرامز، انسانی حقوق کے تحفظ اور پارلیمانی امور کے لیے فنڈز کو مزید ترجیح دی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان شعبوں پر خصوصی توجہ دینے سے نہ صرف معاشرے کے پسماندہ طبقات کا تحفظ یقینی ہوگا بلکہ ملک میں جمہوری اور پارلیمانی ادارے بھی مزید مستحکم ہوں گے۔








