شدید گرمی میں ہیٹ اسٹروک سے بچاؤ کے لیے فوری احتیاطی تدابیر ضروری ہیں: ڈاکٹر فرید احمد
ہیٹ اسٹروک سے بچاؤ کے لیے ٹھنڈے مشروبات، سایہ دار جگہ اور ہلکے کپڑوں کا استعمال ضروری ہے، ڈاکٹر فرید احمد

مزید خبریں
حیدرآباد۔ 14 جون (اے پی پی):نامور ڈاکٹر آف میڈیسن ڈاکٹر فرید احمد نے کہا ہے کہ موجودہ شدید گرمی کے موسم میں ہیٹ اسٹروک سے بچاؤ کے لیے فوری اور مؤثر احتیاطی تدابیر اختیار کرنا انتہائی ضروری ہیں جن میں ٹھنڈے مشروبات، سایہ دار مقامات اور ہلکے کپڑوں کا استعمال شامل ہے۔
اتوار کو ’’اے پی پی‘‘ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت جاری شدید گرمی کی لہر کے باعث ہیٹ اسٹروک کے کیسز میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جس سے خاص طور پر مزدور طبقہ، کھلاڑی اور بچے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ ڈاکٹر فرید احمد کے مطابق وہ افراد جو کھلے ماحول میں کام کرتے ہیں یا کھیلوں کی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، ان میں ہیٹ اسٹروک کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے، اس لیے انہیں خصوصی احتیاط برتنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جسم کو ہائیڈریٹ رکھنے کے لیے او آر ایس، لیموں پانی اور دیگر مفید مشروبات کا استعمال انتہائی ضروری ہے۔ اگر او آر ایس دستیاب نہ ہو تو گھر میں پانی میں چینی اور تھوڑا سا نمک ملا کر مؤثر محلول تیار کیا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹر فرید احمد نے کہا کہ مزدور افراد کو چاہیے کہ وہ کام کے دوران ہر ایک سے دو گھنٹے بعد وقفہ لے کر پانی یا مشروبات کا استعمال کریں تاکہ جسم میں پانی اور نمکیات کی کمی نہ ہونے پائے۔ انہوں نے کہا کہ ہیٹ اسٹروک کی ابتدائی علامات میں جسمانی کمزوری، چکر آنا، بے ہوشی اور ذہنی الجھن شامل ہیں۔ ایسے مریض کو فوری طور پر ٹھنڈی اور سایہ دار جگہ منتقل کیا جائے اور ابتدائی طبی امداد فراہم کی جائے۔ ان کے مطابق ابتدائی علاج میں جسم کو ٹھنڈا کرنا، پنکھے یا دیگر کولنگ ذرائع کا استعمال اور مریض کے جسم کا درجہ حرارت کم کرنا شامل ہے، جبکہ شدید حالت میں مریض کو فوری طور پر اسپتال یا آئی سی یو منتقل کرنا ضروری ہوتا ہے۔ ڈاکٹر فرید احمد نے آخر میں کہا کہ بروقت احتیاطی تدابیر اختیار کر کے ہیٹ اسٹروک کے خطرناک اثرات سے محفوظ رہا جا سکتا ہے۔








