پاکستان سٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاروں کی مسلسل بڑھتی ہوئی تعداد سے معاشی استحکام اور کیپٹل مارکیٹ کے طویل مدتی امکانات پر بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاسی ہو رہی ہے، خرم شہزاد

وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے کہا ہے کہ پاکستان سٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاروں کی مسلسل بڑھتی ہوئی تعداد سے معاشی استحکام، بہتر ہوتے معاشی بنیادی اشاریوں، پالیسی سمت اور کیپٹل مارکیٹ کے طویل مدتی امکانات پر بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاسی ہو رہی ہے۔ منگل کو سماجی رابطہ کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ پاکستان سٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاروں …

اسلام آباد۔3نومبر (اے پی پی):وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے کہا ہے کہ پاکستان سٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاروں کی مسلسل بڑھتی ہوئی تعداد سے معاشی استحکام، بہتر ہوتے معاشی بنیادی اشاریوں، پالیسی سمت اور کیپٹل مارکیٹ کے طویل مدتی امکانات پر بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاسی ہو رہی ہے۔ منگل کو سماجی رابطہ کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ پاکستان سٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاروں کی تعداد اکتوبر 2026 کے اختتام پر تاریخ کی بلند ترین سطح 681,965 تک پہنچ گئی ہے جبکہ صرف ایک ماہ کے دوران ریکارڈ 25,747 نئے سرمایہ کار مارکیٹ میں شامل ہوئے جو گزشتہ سال اسی ماہ کے مقابلے میں 66 فیصد زیادہ ہیں۔

خرم شہزاد نے بتایا کہ کیلنڈر سال 2026 کے پہلے دس ماہ کے دوران پاکستان سٹاک ایکسچینج میں 218,894 نئے سرمایہ کاروں کا خالص اضافہ ہوا، جو گزشتہ چار مکمل کیلنڈر سالوں (2022 تا 2025) کے دوران مجموعی طور پر شامل ہونے والے سرمایہ کاروں سے بھی زیادہ ہے۔انہوں نے بتایا کہ جنوری سے اکتوبر 2026 کے دوران سرمایہ کاروں کی مجموعی تعداد میں سالانہ بنیادوں پر 56 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جون 2022 سے اب تک سٹاک مارکیٹ میں 406,995 نئے سرمایہ کار شامل ہوئے ہیں جس سے سرمایہ کاروں کی تعداد میں اس وقت کی سطح 274,970 کے مقابلے میں 148 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ مشیر خزانہ کے مطابق سٹاک مارکیٹ میں شامل ہونے والے نئے سرمایہ کاروں میں تقریباً 85 فیصد کا تعلق جنریشن زی اور ملینیلز سے ہے جو نوجوان نسل کی جانب سے پاکستان کی سرمایہ جاتی منڈیوں میں بڑھتی ہوئی دلچسپی اور شرکت کو ظاہر کرتا ہے۔

خرم شہزاد نے کہا کہ سرمایہ کاروں کی مسلسل بڑھتی ہوئی تعداد پاکستان کی معاشی استحکام، بہتر ہوتے معاشی بنیادی اشاریوں، پالیسی سمت اور سرمایہ جاتی منڈیوں کے طویل مدتی امکانات پر بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاسی کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاری کے مواقع کو عام کرنے، انفرادی سرمایہ کاروں کی مارکیٹ تک رسائی بڑھانے، مالیاتی شمولیت کو فروغ دینے اور ملکی سرمایہ جاتی منڈیوں کو مزید وسعت دینے کے حکومتی اقدامات سے گھریلو بچتوں کو پیداواری سرمایہ کاری اور طویل مدتی معاشی ترقی کے لئے بروئے کار لانے میں مدد ملے گی۔

 

مزید خبریں