پاکستان سٹاک مارکیٹ میں دو دہائیوں کی تاریخ ساز ترقی، سرمایہ کاری کے روشن مستقبل کی نوید

اسلام آباد۔9جنوری (اے پی پی):پاکستان کی مستحکم معاشی بنیادیں اور مسلسل معاشی پیش رفت قومی خوشحالی کے ساتھ ساتھ سرمایہ کاری کے روشن مستقبل کی نوید بن چکی ہیں۔ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران پاکستان سٹاک ایکسچینج نے غیر معمولی کارکردگی دکھاتے ہوئے عالمی سطح پر نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔اعداد و شمار کے مطابق پاکستان سٹاک مارکیٹ کی دو دہائیوں کی تاریخ ساز کارکردگی میں کے ایس ای 100 …

اسلام آباد۔9جنوری (اے پی پی):پاکستان کی مستحکم معاشی بنیادیں اور مسلسل معاشی پیش رفت قومی خوشحالی کے ساتھ ساتھ سرمایہ کاری کے روشن مستقبل کی نوید بن چکی ہیں۔ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران پاکستان سٹاک ایکسچینج نے غیر معمولی کارکردگی دکھاتے ہوئے عالمی سطح پر نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔اعداد و شمار کے مطابق پاکستان سٹاک مارکیٹ کی دو دہائیوں کی تاریخ ساز کارکردگی میں کے ایس ای 100 انڈیکس ڈالر کی بنیاد پر 161 فیصد جبکہ پاکستانی روپے میں 190 فیصد کا شاندار اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس غیر معمولی پیش رفت کے باعث پاکستان سٹاک مارکیٹ دنیا کی بہترین کارکردگی دکھانے والی مارکیٹس میں عالمی سطح پر دوسرے نمبر پر پہنچ گئی ہے۔

معاشی استحکام اور سرمایہ کاری کے فروغ میں (ایس آئی ایف سی) کی بصیرت افروز قیادت اور مربوط سہولت کاری نے کلیدی کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں پاکستان کی معیشت اور سرمایہ کاری مارکیٹ کو استحکام ملا اور عالمی سطح پر اس کی ساکھ مزید مضبوط ہوئی۔گزشتہ 18 ماہ کے دوران پاکستان سٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاروں کی تعداد میں 41 فیصد اضافہ ہوا اور 135,000 سے زائد نئے سرمایہ کار مارکیٹ کا حصہ بنے۔ اسی طرح گزشتہ 9 ماہ میں پی ایس ایکس میں شامل کمپنیوں کے مالیاتی اعداد و شمار مستحکم رہے اور مجموعی منافع میں تقریباً 14 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

ماہرین کے مطابق 2026 کے دوران 16 سے زائد نئی لسٹنگز متوقع ہیں، جس سے سرمایہ کاری میں شمولیت، لیکویڈیٹی اور مارکیٹ کی وسعت میں مزید بہتری آئے گی۔ اسٹاک مارکیٹ کی حالیہ بلندی پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پر عالمی سرمایہ کاروں کے اعتماد کا واضح مظہر ہے۔اس حوالے سے مشیر خزانہ خرم شہزاد کا کہنا ہے کہ پاکستان کا میکرو اکنامک ماحول سرمایہ کاری کے لیے ایک پرکشش اور قابلِ اعتماد مرکز بن چکا ہے۔ ان کے مطابق ملک میں سرمایہ کاروں، صارفین اور کاروباری طبقے کا اعتماد بحال ہو چکا ہے جبکہ عالمی ریٹنگ ایجنسیز اور مالی شراکت داروں کی جانب سے پاکستان کے لیے مثبت آؤٹ لک کا اعتراف بھی کیا گیا ہے۔

خرم شہزاد نے مزید کہا کہ ایس آئی ایف سی کے ذریعے وہ ممالک اور کاروباری ادارے جو پاکستان میں سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھتے ہیں، ان کے لیے سرمایہ کاری کا عمل سادہ، شفاف اور مربوط بنایا جا رہا ہے۔ماہرین کا ماننا ہے کہ ایس آئی ایف سی کی ہمہ جہت حکمتِ عملی نے پاکستان کو عالمی سرمایہ کاری کے لیے ایک پر کشش ہب اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کا مضبوط مرکز بنا دیا ہے، جو آنے والے برسوں میں معیشت کی مزید بہتری کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔

مزید خبریں