وفاقی وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ اور صدر پی ایس بی رانا ثناء اللہ خان کی زیر صدارت پاکستان سپورٹس بورڈ کے 36ویں بورڈ اجلاس میں ملک میں کھیلوں کے فروغ کے لیے ایک جامع اصلاحاتی اور ترقیاتی ایجنڈے کی منظوری دی گئی۔
پاکستان سپورٹس بورڈ کا اجلاس، اہم پالیسی اور مالی فیصلوں کی منظوری
اسلام آباد۔2اپریل (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ اور صدر پی ایس بی رانا ثناء اللہ خان کی زیر صدارت پاکستان سپورٹس بورڈ کے 36ویں بورڈ اجلاس میں ملک میں کھیلوں کے فروغ کے لیے ایک جامع اصلاحاتی اور ترقیاتی ایجنڈے کی منظوری دی گئی۔ڈی جی پی ایس بی یاسر پیرزادہ نے ششماہی کارکردگی رپورٹ (جولائی تا دسمبر 2025) پیش کی، جس میں گورننس اصلاحات، انفراسٹرکچر کی ترقی، کھلاڑیوں کی معاونت اور بین الاقوامی شرکت جیسے اہم اقدامات کو اجاگر کیا گیا۔ بورڈ نے پی ایس بی انتظامیہ کی کاوشوں کو سراہا اور رپورٹ کو متفقہ طور پر منظور کرتے ہوئے اسے ادارہ جاتی کارکردگی اور سمت میں بہتری کا عکاس قرار دیا۔بورڈ نے ایک اہم طویل المدتی ایتھلیٹ ڈیولپمنٹ پروگرام (LTADP) کی منظوری دی، جس کے تحت پاکستان کے سپورٹس سسٹم کو سرگرمیوں پر مبنی طریقہ کار سے ہٹا کر نتائج پر مبنی ماڈل کی طرف منتقل کیا جائے گا، جو بین الاقوامی بہترین طریقہ کار اور اولمپک سائیکل کے مطابق ہوگا۔ تمام قومی اسپورٹس فیڈریشنز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 90 دن کے اندر چار سالہ ترقیاتی منصوبے جمع کرائیں، جبکہ مالی معاونت کو کارکردگی اور قواعد کی پاسداری سے مشروط کیا جائے گا۔ایک اہم پالیسی فیصلے کے تحت بورڈ نے پی ایس بی کے بجٹ میں نمایاں اضافے کی منظوری بھی دی، جس میں اسے تقریباً 1.2 ارب روپے سے بڑھا کر 4.9 ارب روپے کرنے کی سفارش کی گئی ہے تاکہ کھلاڑیوں کی تربیت، بین الاقوامی شرکت، کوچنگ اور انفراسٹرکچر کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔ اس معاملے کو منظوری کے لیے وزیراعظم کے سامنے پیش کیا جائے گا۔گورننس کے امور پر بورڈ نے قومی سپورٹس پالیسی 2005 کے تحت سپورٹس فیڈریشنز میں مدتِ ملازمت کے قواعد پر عملدرآمد کا جائزہ لیا اور شفاف اور منصفانہ انتخابات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے معیاری رہنما اصول وضع کرنے کی تجویز دی۔ بورڈ نے پاکستان ویٹ لفٹنگ فیڈریشن میں ڈوپنگ میں ملوث عہدیداران کے تناظر میں ڈوپنگ کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل کے عزم کا اعادہ کیا۔









